تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بادبان

کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دینے لگا ہے یہ بھی تأثر کمان کا
کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا
اُس کو کہ جس کے پہلوئے اَیواں میں داغ تھا
کیا کیا قلق نہ تھا مرے کچّے مکان کا
دریا میں زورِ آب کا عالم تھا وہ کہ تھا
اِک جیسا جبر موج کا اور بادبان کا
اپنے یہاں وہ کون سا ایسا ہے رہنما
ٹھہرا ہو جس کا ذِکر نہ چھالا زباں کا
آخر کو اُس کا جس کے نوالے تھے مِلکِ غیر
رشتہ نہ برقرار رہا جسم و جان کا
چاہے سے راہ سے نہ ہٹے جو نہ کھُر سکے
ماجدؔ ہے سامنا ہمیں ایسی چٹان کا
ماجد صدیقی

کب زمیں سے ہے آسمان ملا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 109
کیا ہے گر تُو نہ ہم سے آن ملا
کب زمیں سے ہے آسمان ملا
کھنچ کے اس سے گلا نہ گھونٹ اپنا
وقت سے تُو بھی اپنی تان ملا
ظلم سے حق طلب ہوا جو بھی
پھر نہ اُس شخص کا نشان ملا
ابنِ آدم سمجھ کے شیطاں بھی
جب ملا ہم سے بدگمان ملا
کچھ فلک مرتبت ہیں وہ بھی جنہیں
جو ملا وجۂ کسرِ شان ملا
دیر تھی منہ بھنور کا کھلنے کی
پھر نہ کشتی نہ بادبان ملا
جس پہ جھک کر ملا تھا اوج ہمیں
پھر نہ ماجدؔ وہ آستان ملا
ماجد صدیقی

خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا
آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں
ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا
اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی
رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا
کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے
مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا
ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے
یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا
ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح
دورانیہ ہو جیسے کسی امتحان کا
ماجد صدیقی

تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کیا کیا خم اور ہوں ابھی بازو کمان کے
تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے
جیسے کوئی اُڑائے کبوتر ، بہ روزِ جشن
پُرزے ہوا کے ہاتھ تھے یوں بادبان کے
بہروپ ہی بھرے گا ، کرم بھی وہ گر کرے
نکلا جو گھر سے ، راہزنی ہی کی ٹھان کے
ماجد ہمیں بھی ، دیکھیے جھانسہ دیا ہے کیا
آنچل سا آسمان پہ ،بدلی نے تان کے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑