تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

اچھل

دیکھ سارے شہر کا نقشہ بدل جانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
آنگنوں سے چاند پھر آگے نکل جانے لگا
دیکھ سارے شہر کا نقشہ بدل جانے لگا
ہم بھلا تصویر کیا کھینچیں گرفتِ وقت کی
سانپ چڑیا کو سلامت ہی نِگل جانے لگا
دل تمّنا کے بر آنے پر ہے یُوں مسرور سا
جس طرح سِکّہ کوئی کھوٹا ہو چل جانے لگا
زور وُہ اب کے دکھایا ہے ہمیں امواج نے
تختۂ جاں تک بدن سے ہے اچھل جانے لگا
چرخ سے وُہ حدّتیں برسیں کہ اَب ایسا لگے
چاندنی سے بھی بدن جیسے ہو جل جانے لگا
چیونٹیوں سا تو بھلا درپے ہے کیوں اِس کوہ کے
کب مزاجِ دہر ہے ماجدؔ بدل جانے لگا
ماجد صدیقی

چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا
چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا
ایک شڑاپ سے پانی صید دبوچ کے اپنا
بے دم کر کے اُس کو، دُور اُگل جائے گا
اُس کے تلے کی مٹی تک، بے فیض رہے گی
اِس دُنیا سے جو بھی درخت اَپَھل جائے گا
خوف دلائے گا اندھیارا مارِ سیہ کا
مینڈک سا، پیروں کو چھُو کے اُچھل جائے گا
سُورج اپنے ساتھ سحر تو لائے گا پر
کُٹیا کُٹیا ایک الاؤ جل جائے گا
کب تک عرضِ تمنّا پر کھائے گا طمانچے
لا وارث بچّوں سا دل بھی سبنھل جائے گا
ماجد کی جو خواہش بھی ہے بچّوں سی ہے
تتلی کو دیکھے گا اور مچل جائے گا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑