تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

اٹھا

گھونسلے میں لوٹے تو گھونسلا جلا پایا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 178
برق و باد کو ہم نے یوں جلا بُھنا پایا
گھونسلے میں لوٹے تو گھونسلا جلا پایا
پیار کے لبادے میں گائے دوہ ڈالی ہے
ہم نے کیا سبھوں نے یوں اپنا مدّعا پایا
مُزدکش کسانوں نے بند باندھنے کیا تھے
کھیت کھیت ژالوں نے راستہ کُھلا پایا
اور سب کو رہنے دو پُھول بھی کِھلے جب تو
جس کو چھیڑ کردیکھا اُس کے باحیا پایا
جو ہُنر بھی آتا تھا وہ دکھا کے بندر نے
حظ اُٹھانے والوں کو بُت بنا کھڑا پایا
جس کو مِل گئی کُرسی، جس کو مِل گئے ٹھیکے
اور اِک محل اُس کا شہر میں اُٹھا پایا
جو ذراسا بھی اُترا تیرے خِظّۂ فن میں
اُس نے آخرش ماجد لطفِ بے بہا پایا
ماجد صدیقی

دُعا کا ہاتھ اپنا کاش ایسے بھی اُٹھا ہوتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 159
خُدا سے مانگتے جو، اُس سے پہلے مِل چکا ہوتا
دُعا کا ہاتھ اپنا کاش ایسے بھی اُٹھا ہوتا
کئی فرعون چھوڑے، پر نہ خود فرعون بچ پایا
اگر بندہ نہ ہوتا تو وُہی اب بھی خُداہوتا
ہم اُس سے پُوچھتے، کم مائیگی شاہکار کی کیوں ہے
خُدائے عزّو جَل سے سامنا گر ہو سکا ہوتا
کسی جارح کے منہ پر ہم طمانچہ ہی لگا سکتے
ہمیں بھی اختیار ایسا کوئی تو دے دیا ہوتا
ہمیں دریا میں اپنی بے بسی پر کیوں پڑا کہنا
ہمارے نام تِنکے ہی کا کوئی آسرا ہوتا
بغیرِ پِیر تھی دُشوار گر تجھ تک رسائی تو
ہمارا پِیر پھر غالب سے کم بھی کوئی کیا ہوتا
دہانِ مرگ چھُو چُھو کر مُڑے جو، گر نہ مُڑ پاتے
نہ ہم ہوتے نہ ماجد قصۂ کرب و بلا ہوتا
نذرِ غالب
ماجد صدیقی

ہونٹ ہلا اور پھول کھلا دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 126
رُت کو نیا جامہ پہنا دے
ہونٹ ہلا اور پھول کھلا دے
مَے اک اور ملا دے مَے میں
مستیٔ قرب کا جام چڑھا دے
صبر نہ جس میں ہو تیس دنوں کا
مُژدۂ عید ابھی وہ سنا دے
جس کے بعد جِناں ملتی ہو
حشر مری جاں میں وہ اٹھا دے
نام ترے یہ جو دل نے سجائی
آ اِس بزم کے بھاگ جگا دے
قرب ترا گر معجزہ ہے تو
آ اور اجڑے بدن کو جِلا دے
جس نے ترا قد کاٹھ بڑھایا
ماجد کے لکھے کو دعا دے
ماجد صدیقی

یار ہمارے پاس ہمارے آ بیٹھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
خود کو ناقدروں سے کہیں نہ لٹا بیٹھیں
یار ہمارے پاس ہمارے آ بیٹھیں
میڈیا والے کہہ کے یہی نت سوتے ہیں
تنگ عوام عدالتیں خود نہ لگا بیٹھیں
گھونسلے بے آباد کریں جب چڑیوں کے
حرصی کوّے اگلے بام پہ جا بیٹھیں
سینت سنبھال کے جگہ جگہ سامانِ فنا
انساں خود ہی حشر کہیں نہ اُٹھا بیٹھیں
بے گھر بے در سارے آگ سے غفلت کی
سوتے سوتے جھونپڑیاں نہ جلا بیٹھیں
خواہشیں جن کی دے کے جنم روکے رکھیں
بچے ماں اور باپ کو سچ نہ سجھا بیٹھیں
ماجد صاحب ہم بھی باغی دلہن جیسا
زیورِ کرب نہ اپنی جبیں پہ سجا بیٹھیں
ماجد صدیقی

ایواں بھی لرزا کر دیکھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
پایۂ تخت ہِلا کر دیکھیں
ایواں بھی لرزا کر دیکھیں
پاس جو دیں نہ بھٹکنے، اپنے
اُن کے یہاں بھی جا کر دیکھیں
اپنی آس کے چِلّے پر ہم
آخری تِیر چڑھا کر دیکھیں
ہر سکرین منافق نکلے
چینل بھلے گھما کر دیکھیں
ک اِک رُت کا مزہ لینے کو
اپنی نظر اُجلا کر دیکھیں
تن من جس سے آسودہ ہوں
جاں بھی کبھی سہلا کر دیکھیں
سر ہے فرازنشاں سو اِس کو
ماجد اور اُٹھا کر دیکھیں
ماجد صدیقی

ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
ہے اگر زندہ تو آ اور رقص کر
ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر
خود کو پودوں، اور گُلوں میں ڈھال لے
آنکھ میں رُت کی سما اور رقص کر
فرش سے تا عرش یُوں بھی لَو لگا
چاہتوں کے پر بنا اور رقص کر
مُحتسب کی آنکھ سے بچ کر کبھی
مان لے تن کا کہا اور رقص کر
ہے اگر اِک یہ بھی اندازِ حیات
ہاتھ میں ساغر اُٹھا اور رقص کر
دیکھ یُوں بھی اپنے ماجِد کو کبھی
ظرف اِس کا آزما اور رقص کر
ماجد صدیقی

سیاست میں بھی موٹروے بنا دیتے تو اچّھا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
قضیّہ تنگ نظری کا چُکا دیتے تو اچّھا تھا
سیاست میں بھی موٹروے بنا دیتے تو اچّھا تھا
جلا وطنی بھلے خودساختہ ہو، ہے جلا وطنی
سبق خودسوں کو اِتنا بھی سِکھا دیتے تو اچّھا تھا
روش جو رہبری کی ہے تحمّل اُس میں اپنا کر
بہت سوں کو جہانِ نَوسُجھا دیتے تو اچّھا تھا
سیاست میں ہمیشہ، مسٹری ہے جن کا آ جانا
کرشمہ گر کوئی وہ بھی دکھا دیتے تو اچّھا تھا
عمارت جس پہ پہلے سے کہیں ہٹ کر بنی ہوتی
کوئی بنیاد ایسی بھی اُٹھا دیتے تو اچّھا تھا
وہی جو قوم کو بانٹے ہے جانے کتنے ٹکڑوں میں
وہ کربِ نفرتِ باہم مٹا دیتے تو اچّھا تھا
ترستا ہے جو ماجد عمر بھر سے موسمِ نَو کو
اُسے ہی کچھ خبراچّھی سُنا دیتے تو اچّھا تھا
ماجد صدیقی

سحر نما ہے مجھے جو بھی کچھ کہا ہے مرا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 97
ہر ایک حرفِ غزل حرفِ مدّعا ہے مرا
سحر نما ہے مجھے جو بھی کچھ کہا ہے مرا
جو بعدِ قتل مرے، خوش ہے تُو، تو کیا کہنے
ترے لبوں کا تبسّم ہی خوں بہا ہے مرا
مرے سوال سے تیرا بھرم نہ کُھل جائے
ترے حضور بھی اب ہاتھ تو اُٹھا ہے مرا
بھلائی جب مرے ہاتھوں نہیں مرے حق میں
کہو گے جو بھی اُسی بات میں برا ہے مرا
کہیں تو خاک بسر ہوں،کہیں ہوں ماہ بدست
بڑا عجیب طلب کا یہ سلسلہ ہے مرا
ماجد صدیقی

کشیدِ اشک ہے آنکھوں سے جابجا اب کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 96
ہوا وہ جبر دبانے کو مدعّا اب کے
کشیدِ اشک ہے آنکھوں سے جابجا اب کے
وہ کیسا حبس تھا مہریں لبوں پہ تھیں جس سے
یہ کیسا شور ہے در در سے جو اُٹھا ہے اب کے
دَہن دَہن کی کماں اِس طرح تنی نہ کبھی،
بچا نہ تیر کوئی جو نہیں چلا اَب کے
شجر کے ہاتھ سے سایہ تلک کھسکنے لگا
وہ سنگ بارئِ طفلاں کی ہے فضا اب کے
خلاف ظلم سبھی کاوشیں بجا لیکن
سرِ غرور تو کچھ اور بھی اُٹھا اب کے
کوئی یہ وقت سے پوچھے کہ آخرش کیونکر
ہے آبِ نیل تلک بھی رُکا کھڑا اب کے
لبوں پہ خوف سے اِک تھرتھری سی ہے ماجدؔ
دبک گیا ہے کہیں کلمۂ دُعا اَب کے
ماجد صدیقی

پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
گئی جو چھوڑ کبھی شاخ پر سجا کے مجھے
پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے
ہُوا ہے جو بھی خلافِ گماں ہُوا اُن کے
بہت خفیف ہوئے ہیں وہ آزما کے مجھے
ہے میرے ظرف سے منصف مرا مگر خائف
مزاج پوچھ رہا ہے سزا سُنا کے مجھے
ابھی ہیں باعثِ ردِّ تپّش یہی بادل
بہم جو سائے بزرگوں کی ہیں دُعا کے مجھے
سُنا یہ ہے رہِ اظہارِ حق میں دار بھی ہے
چلے ہیں آپ یہ کس راہ پر لگا کے مجھے
زمیں کے وار تو اک ایک سہہ لئے میں نے
فلک سے ہی کہیں اب پھینکئے اُٹھا کے مجھے
سرِ جہاں ہوں وہ بیگانۂ سکوں ماجدؔ
پڑے ہیں جھانکنے گوشے سبھی خلا کے مجھے
ماجد صدیقی

ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
ہے اگر زندہ تو آ اور رقص کر
ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر
خود کو پودوں، اور گُلوں میں ڈھال لے
آنکھ میں رُت کی سما اور رقص کر
فرش سے تا عرش یُوں بھی لَو لگا
چاہتوں کے پر بنا اور رقص کر
مُحتسب کی آنکھ سے بچ کر کبھی
مان لے تن کا کہا اور رقص کر
ہے اگر اِک یہ بھی اندازِ حیات
ہاتھ میں ساغر اُٹھا اور رقص کر
دیکھ یُوں بھی اپنے ماجِد کو کبھی
ظرف اِس کا آزما اور رقص کر
ماجد صدیقی

رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہر جسم پہ گرد کی ردا ہے
رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے
وُہ دوستی ہو کہ دُشمنی ہو
اِک کرب ہے دُوسری بلا ہے
دیتا ہے افق افق دکھائی
اک شخص کہ چاند سا ڈھلا ہے
کیا درس دِلا رہا ہے دیکھو!
پانی پہ جو بُلبُلہ اُٹھا ہے
بدلی نئی رُت نے اور کروٹ
پِھر شاخ پہ تازہ چہچہا ہے
پہچان کب اس کی جانے ہو گی
ماجِد کہ جو کُنج میں پڑا ہے
ماجد صدیقی

بادل کہ نشے میں جُھومتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
پاس اُس کے بہت پئے عطا ہے
بادل کہ نشے میں جُھومتا ہے
اُن سب کا کہ سنگدل ہیں جو
ہے جو بھی ستم سو برملا ہے
بچّے کو بہت ہے ہاتھ میں گر
اُس کے کوئی ایک جھنجھنا ہے
راحت پہ مقّربان کے بھی
دیکھا ہے جسے جلا کٹا ہے
پِھر پِھرنے لگیں کسی کی نظریں
پِھر ہاتھ مرا کہیں اُٹھا ہے
ماجِد ہے کہ نیم قرن سے جو
کُچھ پائے بِناں غزل سرا ہے
ماجد صدیقی

میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
باپ تھا بیٹے کا اب پوتے کا دادا ہُوں
میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں
اپنی نسل کے بڑھنے کا بھی سرور عجب ہے
میں جو ایک تھا اپنے آپ میں سَو لگتا ہوں
میرے انگناں اُتری ہے پھر صبحِ درخشاں
جس کی کرنوں سے میں اور دمک اُٹھا ہوں
میری جبیں اب اور منوّر ہونے لگی ہے
میں کہ شبانِ پیہم کا اِک جلتا دِیا ہوں
میرے جَنے ہوں گے کچھ اور لطافت پیشہ
میں جو گُلوں بگھیوں پر تتلی سا اُڑتا ہوں
اُس کی حیات میں، اُس کے فروغ میں، میری بقا ہے
اُس کے جنم کے ناتے میں ذی شان ہُوا ہوں
ماجِد فیض مرے ملکِ آزاد کا ہے یہ
ملک سے باہر بھی اب میں جیتا بستا ہوں
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

تیر سارے کماں کے چلا دیکھیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
سخت جاں ہوں مجھے آزما دیکھیے
تیر سارے کماں کے چلا دیکھیے
جس میں مجھ کو ارادے جلانے کے ہیں
اُ س اگن کو بھی دے کر ہوا دیکھیے
میں نے کرنی تھی جاں، نذر کی ہے تمہیں
لعل ہے جو پہنچ میں گنوا دیکھیے
میرے حق میں ہیں جن جن کی بیداریاں
سب کے سب ایسے جذبے سُلا دیکھیے
جس سے شہرِرقیباں میں ہلچل مچے
حشر ایسا بھی کوئی اٹھا دیکھیے
ماجد صدیقی

کہ میری جان مرے جسم میں جلا دی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 136
نجانے جرم تھا کیا جس کی یہ سزا دی ہے
کہ میری جان مرے جسم میں جلا دی ہے
رواں دواں ہے ہر اک بازوئے توانا میں
جو رسم خیر سے چنگیز نے چلا دی ہے
کھلی ہے اُس کی حقیقت تو سب ہیں افسردہ
وہ بات جس کو بھرے شہر نے ہوا دی ہے
کمالِ فن ہے یہی عہدِ نو کے منصف کا
کہ جو پُکار بھی اٹھی کہیں، دبا دی ہے
یہی کِیا کہ رہِ شوق میں مری اُس نے
بڑے سکون سے دیوار سی اُٹھا دی ہے
جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا
تمام عمر اِسی آس پر بِتا دی ہے
جو رہ گیا تھا اُترنے سے آنکھ میں ماجد!ؔ
سخن نے اور بھی اُس دَرد کو جِلا دی ہے
ماجد صدیقی

پھر بھی خاموش میرا خُدا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
سر کہیں اور جھُکنے لگا ہے
پھر بھی خاموش میرا خُدا ہے
گرد ہے نامرادی کی پیہم
اورِادھر میرا دستِ دعا ہے
ہاتھ میں برگ ہے پھر ہوا کے
پھر ورق اک الٹنے لگا ہے
محو ہیں ابر پھر قہقہوں میں
پھر نشیمن کوئی جل اٹھا ہے
معتبر ہی جو ٹھہرے تو مجھ پر
جو ستم بھی کرو تم، روا ہے
خود کلامی سی ہے ایک، ورنہ
شاعری میں دھرا اور کیا ہے
میرے حصے کا من و سلویٰ
جانے ماجدؔ کہاں رُک گیا ہے
ماجد صدیقی

بن کے ٹُوٹا وہی بلا ہم پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
حاسدوں کو جو طیش تھا ہم پر
بن کے ٹُوٹا وہی بلا ہم پر
بغض جو ہمرہوں کے دل میں تھا
دُور جا کر کہیں کھُلا ہم پر
جس سے رکھتے تھے آس شفقت کی
ہاتھ آخر وُہی اٹھا ہم پر
لے نہ لیں جاں بھی خاک زادے یہ
مہرباں گر نہ ہو خدا ہم پر
لائے کب خیر کی خبر ماجدؔ
کب یہ احساں کرے ہوا ہم پر
ماجد صدیقی

نظر میں کیا یہ الاؤ جلا دئیے تُو نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
جو سو چکے تھے وُہ جذبے جگا دئیے تُو نے
نظر میں کیا یہ الاؤ جلا دئیے تُو نے
شگفتِ تن سے، طلوعِ نگاہِ روشن سے
تمام رنگ رُتوں کے بھلا دئیے تُو نے
تھا پور پور میں دیپک چھُپا کہ لمس ترا
چراغ سے رگ و پے میں جلا دئیے تُو نے
لباسِ ابر بھی اُترا مِہ بدن سے ترے
حجاب جو بھی تھے حائل اُٹھا دئیے تُو نے
ذرا سے ایک اشارے سے یخ بدن کو مرے
روانیوں کے چلن سب سِکھا دئیے تُو نے
کسی بھی پل پہ گماں اب فراق کا نہ رہا
خیال و خواب میں وہ گُل کھلا دئیے تُو نے
جنم جنم کے تھے سُرتال جن میں خوابیدہ
کُچھ ایسے تار بھی اب کے ہلا دئیے تُو نے
سخن میں لُطفِ حقائق سمو کے اے ماجدؔ
یہ کس طرح کے تہلکے مچا دئیے تُو نے
ماجد صدیقی

یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
آنکھوں میں مری سما کے دیکھو
یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو
ہے جسم سے جسم کا سخن کیا
یہ بزم کبھی سجا کے دیکھو
پیراک ہوں بحرِ لطفِ جاں کا
ہاں ہاں مجھے آزما کے دیکھو
اُترو بھی لہُو کی دھڑکنوں میں
کیا رنگ ہیں اِس فضا کے دیکھو
مخفی ہے جو خوں کی حِدتّوں میں
وہ حشر کبھی اٹُھا کے دیکھو
بے رنگ ہیں فرطِ خواب سے جو
لمحے وہ کبھی جگا کے دیکھو
بہلاؤ نہ محض گفتگو سے
یہ ربط ذرا بڑھا کے دیکھو
ملہار کے سُر ہیں جس میں پنہاں
وُہ سازِ طرب بجا کے دیکھو
طُرفہ ہے بہت نگاہِ ماجدؔ
یہ شاخ کبھی ہلا کے دیکھو
ماجد صدیقی

آگے انت اُس کا دیکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
شاخ پہ پھول کھِلا دیکھا ہے
آگے انت اُس کا دیکھا ہے
زور رہا جب تک سینے میں
تھا نہ روا جو، روا دیکھا ہے
فریادی ہی رہا وہ ہمیشہ
جو بھی ہاتھ اُٹھا دیکھا ہے
ہم نے کہ شاکی، خلق سے تھے جو
اب کے سلوکِ خدا دیکھا ہے
سنگدلوں نے کمزوروں سے
جو بھی کہا ، وُہ کِیا ، دیکھا ہے
جس سے کہو، کہتا ہے وُہی یہ
کر کے بَھلا بھی ، بُرا دیکھا ہے
اور نجانے کیا کیا دیکھے
ماجد نے ، کیا کیا دیکھا ہے
ماجد صدیقی

کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
لے ہاتھ سے ہاتھ اَب مِلا بھی
کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی
کیا ہم سے مِلا سکے گا آنکھیں
ہو تجھ سے کبھی جو سامنا بھی
سہمی تھی مہک گلوں کے اندر
ششدر سی مِلی ہمیں ہوا بھی
جس شخص سے جی بہل چلا تھا
وہ شخص تو شہر سے چلا بھی
کیوں نام ترا نہ لیں کسی سے
اَب قید یہ ہم سے تُو اُٹھا بھی
ماجدؔ کو علاوہ اِس سخن کے
ہے کسبِ معاش کی سزا بھی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑