تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

انگاروں

پُھوٹ جب پڑنے لگے، تو آ پڑے یاروں کے بِیچ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ناچتی ہیں دُوریاں، انگناؤں میں، پیاروں کے بِیچ
پُھوٹ جب پڑنے لگے، تو آ پڑے یاروں کے بِیچ
بِن گُنوں کے محض رِفعت سے جو وجہِ ناز ہیں
دَب گئی ہے میری کُٹیا کیسے مِیناروں کے بِیچ
لے گئے ہیں دُور شہ کو لوک دانائی سے دُور
ہاں وہی رخنے کہ ہیں اَیواں کی دیواروں کے بِیچ
وہ کہ ہیں زیرِ تشدّد، اور لاوارث بھی ہیں
اُن کے قصّے نِت چِھڑیں شغلاً بھی اخباروں کے بِیچ
جو نہ سُلگے، جو نہ بھڑکے، پر تپاتے تھے بہت
زندگی گزری ہے اپنی اُنہی انگاروں کے بِیچ
کوئی یوسف ہو سخن کا، چاہے وُہ ماجد ہی ہو
کیا پتہ وجہِ رقابت ہو وہ مہ پاروں کے بِیچ
اب سے ماجد ٹھان لے، اُس کے سِوا کچھ بھی نہ کہہ
جونسا تیرا سخن شامل ہو شہکاروں کے بِیچ
ماجد صدیقی

نکلا چاند بھی گہنایا ہے سازش سے اندھیاروں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
‮بے معنی بے کیف ہوئی ہے آنکھ مچولی تاروں کی
نکلا چاند بھی گہنایا ہے سازش سے اندھیاروں کی
ژالے، سیل، بگولے، بارش، شور مچاتی سرد ہوا
لمبی ہے فہرست بڑی اِس گلشن کے آزاروں کی
ایوانوں کی چبھتی چھاؤں ہے ہر سمت گھروندوں پر
رہگیروں کے ماتھوں پر ہے دُھول لپکتی کاروں کی
دعوے دار وفاؤں کے تو پہنچے، نئی مچانوں پر
جانے کس پر آنکھ لگی ہے ہم اخلاص کے ماروں کی
رُت رُت کا فیضان مقدّر ٹھہرے اُن ہی لوگوں کا
رکھتے ہیں جو اہلِ نظر پہچان بدلتے دھاروں کی
اُس کے وصل کا قصّہ ہم نے جن لفظوں میں ڈھالا ہے
در آئی اُن لفظوں میں بھی حدّت سی انگاروں کی
جب تک خون میں دھڑکن ہے جب تک یہ نطق سلامت ہے
ٹوٹ نہیں سکتی ہے ماجدؔ ہم سے سانجھ نگاروں کی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑