تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

انساں

بادلوں سا ہے میّسر مجھے ذیشاں ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 167
مجتمع ہونا، بہ یک وقت پریشاں ہونا
بادلوں سا ہے میّسر مجھے ذیشاں ہونا
زندگی میں کبھی وہ دن بھی فراہم تھے مجھے
بیٹھنا بِیچ میں بچّوں کے، گُلِستاں ہونا
میں ہوں شہکارِ خدا، میں نہ خدا کہلاؤں
مجھ کو یہ طَور سکھائے مرا انساں ہونا
گاہے گاہے جو سخن میں نہیں حدّت رہتی
طبعِ شاعر کا ہے یہ، مہرِ زمستاں ہونا
زر کہ جو وجہِ بشاشت ہے کہاں اپنا نصیب!
ہے تو قسمت میں فقط، رنجِ فراواں ہونا
وہ کہ ہیں اہلِ وسائل انہیں کھٹکا کس کا
ہے اُنہیں ہیچ غمِ جاں، غمِ جاناں ہونا
گاہے گاہے کی خطا ہے مرا خاصہ ماجد!
اور یہ عظمت ہے مری اس پہ پشیماں ہونا
ماجد صدیقی

پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ہجرِ جاناں، جان کا تاوان ہونے لگ پڑا
پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا
جب سے اُلٹا تاج اپنے سر پہ شاہِ وقت نے
ہے وہ کاسہ قوم کی پہچان ہونے لگ پڑا
جس سے بن پوچھے نہیں اٹھتا قدم سردار کا
پینچ بستی کا ہے کیوں دربان ہونے لگ پڑا
جب سے اُس پر ہار کر سب کچھ اُسے دیکھا ہے پھر
دل مرا کچھ اور بھی نادان ہونے لگ پڑا
آن اُترا بام سے چندا وہ دل کی جھیل میں
مرحلہ مشکل تھا جو آسان ہونے لگ پڑا
اِس میں جانے کیا بڑائی سوُنگھ لی عمران نے
پُوت وہ پنجاب کا ہے خان ہونے لگ پڑا
جتنا درس نیک بھی ماجد اسے تو نے دیا
آدمی تھا جو، وہ کب انساں ہونے لگ پڑا
ماجد صدیقی

پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
خلق نے تو اس کو ایسے میں بھی ذی شاں کہہ دیا
پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا
رزق نے جس کے مجھے پالا ہے جس کا رزق ہوں
کہہ دیا اس خاک کو میں نے رگِ جاں کہہ دیا
اِس تمنّا پر کہ ہاتھ آ جائے نخلستاں کوئی
خود غرض نے دیکھ صحرا کو گلستاں کہہ دیا
ہمزبانِ شاہ وہ بھی تھے جنہوں نے آز میں
رات تک کو، یار کی زلفِ پریشاں کہہ دیا
میں وہ خوش خُو جس نے دو ٹانگوں پہ چلتا دیکھ کر
شہر کے بن مانسوں تک کو بھی انساں کہہ دیا
کیا کہوں کیوں میں نے سادہ لوح چڑیوں کی طرح
وقفۂ شب کو بھی تھا صبحِ درخشاں کہہ دیا
اس کے ناطے، درگزر جو محض عُجلت میں ہوئی
گرگ کو بھی بھیڑ نے ماجدؔ پشیماں کہہ دیا
ماجد صدیقی

ہے میّسر مجھے انساں ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
قّصۂ دہر کا عنواں ہونا
ہے میّسر مجھے انساں ہونا
کتنا مشکل ہے ترے غم کا حصول
کتنا مشکل ہے پریشاں ہونا
تو مری روح میں، وجدان میں ہے
تجھ کو حاصل ہے مری جاں ہونا
مہر کو سر پہ سجانا پل بھر
پھر شبِ سردِ زمستاں ہونا
پھُولنا شاخ پہ غنچہ غنچہ
اور اِک ساتھ پریشاں ہونا
کب تلک خوفِ ہوا سے آخر
ہو میسّر، تہِ داماں ہونا
تھے کبھی ہم بھی گلستاں ماجدؔ
اَب وطیرہ ہے بیاباں ہونا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑