تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

انتظار

کسی اِک بدن پہ، اِک سا، اگر اختیار ہوتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 160
سفرِ حیات اپنا بڑا لطف دار ہوتا
کسی اِک بدن پہ، اِک سا، اگر اختیار ہوتا
نہ حکومتی سلیقے ہمیں آ سکے دگرنہ
یہ جو اب ہے ایسا ویسا، نہ کوئی دیار ہوتا
نہ کجی کوئی بھی ہوتی کسی فرد کے چلن میں
جسے راستی کہیں سب، وہ اگر شعار ہوتا
کبھی گھٹ کے ہم بھی بڑھتے تو بجا ہے یہ ہمیں بھی
کسی چودھویں کے چندا سا بہم نکھار ہوتا
نہ ہُوا کہ ہم بھی کرتے بڑی زرنگاریاں، گر
زرِ گُل سا پاس اپنے زرِ مستعار ہوتا
کبھی رہنما ہمارا نہ بنا یہ قولِ غالب
’اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا،
کوئی ہے کمی جو ماجد ہے ہمیں میں ورنہ اپنا
وہ جو ہیں جہاں میں اچّھے، اُنہی میں شمار ہوتا
ماجد صدیقی

مثالِ قوسِ قزح ہے یہ پیار کا موسم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 158
بہم رہے نہ سدا قُربِ یار کا موسم
مثالِ قوسِ قزح ہے یہ پیار کا موسم
نشہ حیات کا سارا اُسی میں پنہاں تھا
کسی بدن پہ جو تھا اختیار کا موسم
نجانے کیوں ہے یتیموں کے دیدہ و دل سا
جہاں پہ ہم ہیں اُسی اِک دیار کا موسم
ہے قحطِ آب کہیں، اور قحطِ ضَو ہے کہیں
نگر پہ چھایا ہے کیا شہریار کا موسم
جو چاہیے تھا بہ کاوش بھی وہ نہ ہاتھ آیا
محیطِ عمر ہُوا انتظار کا موسم
اُنہیں بھی فیض ہمیں سا ملا ہے دریا سے
اِدھر ہی جیسا ہے دریا کے پار کا موسم
گزرنا جان سے جن جن کو آ گیا ماجد
نصیب اُنہی کے ہُوا اَوجِ دار کا موسم
نذرفیض
ماجد صدیقی

دیا ہے بادِصبا نے مزہ خمار آسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
کرن کرن ہے سحر کی نگاہِ یار آسا
دیا ہے بادِصبا نے مزہ خمار آسا
بہ نطق و فکر ہے وہ لطفِ تازگی پیدا
نفس نفس ہے مرا اِن دنوں بہار آسا
مرے وجود سے پھوٹی وہ خَیر کی خوشبو
کہ چبھ رہا ہوں دلِ شیطنت میں خار آسا
وہ ابر ہوں کہ کھڑا ہوں تُلا برسنے کو
ہر ایک درد ہے اب سامنے غبار آسا
میں اس میں اور وہ مجھ میں ہے جسکا سودا تھا
نہیں ہے روگ کوئی دل کو انتظار آسا
سخن سے طے یہی نسبت ہے اب تری ماجدؔ
کہ ہو گیا تجھے موزوں گلے میں ہار آسا
ماجد صدیقی

فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
جِسے پسند جہاں بھر کے شہر یار کریں
فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں
ہوئے ہیں پھول بھی آمادۂ شرارت کیا
ہمِیں سے ذکر تمہارا جو بار بار کریں
جو مصلحت کو پسِ حرف دَب کے رہ جائے
وُہ بات کیوں نہ زمانے پہ آشکار کریں
ہمیں یہ کرب کہ کیوں اُن سے ربط ہے اپنا
اُنہیں یہ آس کہ ہم جان و دل نثار کریں
لبوں پہ عکس ہے جو آئنہ اِنہی کا ہے
زباں کے زخم بھلا اور کیا شمار کریں
یہ رات کوہ نہیں کٹ سکے جو تیشوں سے
سحر کی دُھن ہے تو کُچھ اور انتظار کریں
کھُلا ہے ہم پہ تمّنا کا حال جب ماجدؔ
تو ایسے کانچ سے کیا انگلیاں فگار کریں
ماجد صدیقی

گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
نصابِ ربط کے نقش و نگار بُھول گئے
گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے
گھروں سے لے کے گھروں تک انا و نخوت کی
اُڑی وہ گرد کہ چہرے نکھار بُھول گئے
ہوائے تُند نے جھٹکے کچھ اس طرح کے دئیے
ہمارا کس پہ تھا کیا اختیار؟ بُھول گئے
جنہیں گماں تھا نمو اُن تلک بھی پہنچے گی
وہ کھیت مرحلۂ انتظار، بُھول گئے
نہ جان پائے کہ مچلے گا، پُھول چہروں میں
یہ ہم کہ خوئے دلِ نابکار، بُھول گئے
قدم کدھر کو ،ارادے کدھر کے تھے اُن کے
یہ بات رن میں سبھی شہسوار، بُھول گئے
فضائے تخت ثمر بار دیکھ کر ماجدؔ
جو روگ شہر کو تھے، شہریار، بُھول گئے
ماجد صدیقی

یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
غیر پر اتنا اعتبار نہ کر
یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر
گل پریشاں ہُوا مہک کھو کر
حالِ دل تو بھی آشکار نہ کر
میں گیا وقت جا چکا ہوں ،مرے
لوٹ آنے کا انتظار نہ کر
ہم کہ ہیں چاہتوں کے متوالے
ہم سے اغماض اے نگار! نہ کر
تو کسی ایک ہی کا ہو کر رہ
خُو کوئی اور اختیار نہ کر
ماجد صدیقی

ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
ہم بدگماں ہوں پیار سے ایسے بھی ہم نہیں
ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں
پُھولوں تلک سفر ہی جب اپنا ہے مدّعا
ڈر جائیں خار زار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
اک اور بھی جنم ہو تو دیکھیں گے رہ تری
ٹھٹکیں ہم انتظار سے ایسے بھی ہم نہیں
خُو ہے جو سر بلندیٔ سر کی ہمیں ۔۔ اِسے
بدلیں گے انکسار سے ایسے بھی ہم نہیں
جاناں !ترا وہ تیرِ نظر ہو کہ تیغِ غیر
جھجکیں کسی بھی و ار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
ماجد صدیقی

یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
غیر پر اتنا اعتبار نہ کر
یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر
گل پریشاں ہُوا مہک کھو کر
حالِ دل تو بھی آشکار نہ کر
میں گیا وقت جا چکا ہوں ،مرے
لوٹ آنے کا انتظار نہ کر
ہم کہ ہیں چاہتوں کے متوالے
ہم سے اغماض اے نگار! نہ کر
تو کسی ایک ہی کا ہو کر رہ
خُو کوئی اور اختیار نہ کر
ماجد صدیقی

کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 135
نہیں کوئی شہر زلزلے سے دوچار دیکھا
کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا
الجھ گیا ہے جہاں بھی کانٹوں سے کوئی دامن
بچا بھی گر وہ تو پھراُسے تار تار دیکھا
جگر جو ٹکڑے ہوا تو اُس کی سلامتی کا
رضا پہ بردہ فروش کی، انحصار دیکھا
سگانِ پابند دشت میں جب کبھی کُھلے ہیں
فضا میں آندھی سا ایک اٹھتا غبار دیکھا
رقم جو شیشے پہ بس کے چڑیا ہوئی، کسی نے
کب اُس کے بچوں کا عالمِ انتظار دیکھا
نجانے کتنوں کو ہے وہ نیچا دکھا کے ابھرا
جسے بھی ماجدؔ سرِ نظر تاجدار دیکھا
ماجد صدیقی

خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 119
لب و زبان کو ماجدؔ! فگار کیا کرنا
خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا
جسے ترستے بجھی ہیں بصارتیں اپنی
اب اُس سحر کا ہمیں انتظار کیا کرنا
نہ کوئی مدّ مقابل ہو جب برابر کا
تو رن میں ایسی شجاعت شمار کیا کرنا
یہ سر خجل ہے ٹھہرتا نہیں ہے شانوں پر
اِسے کچھ اور بھی اب زیر بار کیا کرنا
نہاں نہیں ہے نگاہوں سے جب کِیا اُس کا
کہے پہ اُس کے ہمیں اعتبار کیا کرنا
سبک سری میں جوہم پر کیا ہے دُشمن نے
جواب میں ہمیں ایسا ہی وار کیا کرنا
ماجد صدیقی

آنکھیں پگھل چلی ہیں، اسی انتظار میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
مہکے ہمارا باغ بھی شاید، بہار میں
آنکھیں پگھل چلی ہیں، اسی انتظار میں
دل کا اُبال کرتے رہے ہیں سپردِ چشم
ہم نے کیا وُہی کہ جو تھا، اختیار میں
چاہے وُہ جائے دفن بھی سب سے الگ تھلک
نخوت ہے اس طرح کی، دلِ تاجدار میں
یہ اور بات آگ بھی، گلزار بن گئی
نمرود نے تو حق کو اُتارا تھا، نار میں
آکاش تک میں چھوڑ گیا، نسبتوں کا نُور
ماجد جو اشک، ٹوٹ گِرا یادِ یار میں
ماجد صدیقی

اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
اپنے اِحساں جتا کے خوار نہ کر
اِتنا اوچھا بھی مجھ پہ وار نہ کر
ظلمتوں میں مجھ ایسے ذرّوں کے
جگمگانے کا انتظار نہ کر
مَیں کہ ہوں راندۂ ازل، مجھ پر
کر مگر اتنا اعتبار نہ کر
تو خُدا ہے، تو اپنے بندوں سا
لینے دینے کا کاروبار نہ کر
تُو کہ ابرِ کرم ہے، ربط کرم
چوٹیوں ہی سے استوار نہ کر
لے حقیقت کی کچھ خبر ماجدؔ
واہمے، ذہن پر سوار نہ کر
ماجد صدیقی

کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
چمن پہ ہے تو بس اِتنا سا اختیار ہمیں
کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں
مچلتی لُو کا فلک سے برستے ژالوں کا
نہ جانے کون سا موسم ہو ساز گار ہمیں
ہر اِک قدم پہ وہی تجربہ سکندر سا
کسی بھی خضر پہ کیا آئے اعتبار ہمیں
ذرا سا سر جو اٹھا بھی تو سیل آلے گا
یہی خبر ہے سُنائے جو، اِنکسار ہمیں
مہک تلک نہ ہماری کسی پہ کھُلنے دے
کِیا سیاستِ درباں نے یوں شکار ہمیں
جو نقش چھوڑ چلے ہم اُنہی کے ناطے سے
عزیز، جان سے جانیں گے تاجدار ہمیں
بپا جو ہو بھی تو ہو بعدِ زندگی ماجد
یہ حشر کیا ہے جلائے جو، بار بار ہمیں
ماجد صدیقی

زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
پڑے ہیں دیکھنے کیا کربِ آشکار کے دن
زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن
بنامِ کم نظراں، لطفِ لمحۂ گزراں
ہمارے نام نئی رُت کے انتظار کے دن
بدن سے گردِ شرافت نہ جھاڑ دیں ہم بھی
لپک کے چھین نہ لیں ہم بھی کچھ نکھار کے دن
طویل ہوں بھی تو آخر کو مختصر ٹھہریں
چمن پہ رنگ پہ، خوشبو پہ اختیار کے دن
نئے دنوں میں وہ پہلا سا رس نہیں شاید
کہ یاد آنے لگے ہیں گئی بہار کے دن
فلک کی اوس سے ہوں گے نم آشنا کیسے
زمین پر جو دھوئیں کے ہیں اور غبار کے دن
یہ وقت بٹنے لگا ناپ تول میں کیونکر
یہ کس طرح کے ہیں ماجدؔ گِنَت شُمار کے دن
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑