تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

انتساب

انتساب

آپنیاں سانہواں دے سُکھ

خالدہ ماجد دے ناں

گھُلّے ڈاہڈا نھیر جویں ہُن گھلیا اے

بجھیا کلُل جائے پھَٹ جویں ہُن کھلیا اے

جھلّے کوئی نہ تھاں تے ٹکراں ماراں میں

ربّا! اُنج کدوں تینوں چتیاراں میں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

انتساب

آپنیاں سانہواں دے سُکھ

خالدہ ماجد دے ناں

گھُلّے ڈاہڈا نھیر جویں ہُن گھلیا اے

بجھیا کلُل جائے پھَٹ جویں ہُن کھلیا اے

جھلّے کوئی نہ تھاں تے ٹکراں ماراں میں

ربّا! اُنج کدوں تینوں چتیاراں میں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ہُوا ہے سچ مچ یہی کہ مَیں نے یہ خواب دیکھا
تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا
خُدا سے بھی ہے سلوک میرا معاوضے کا
کِیا ہے میں نے وُہی جو کارِ ثواب دیکھا
بھرا ہے کیا کیا نجانے چھالوں میں اپنے پانی
بہ دشتِ اُمید جانے کیا کیا سراب دیکھا
چھڑا جو قّصہ کبھی غلاموں کی منفعت کا
سخن میں آقاؤں کے نہ کیا اجتناب دیکھا
کسی عمارت پہ لوحِ کم مائیگاں نہ لٹکے
بڑے بڑوں ہی کے نام یہ انتساب دیکھا
پہنچ میں آیا جو بچّۂ میش بھیڑئیے کی
ندی کنارے اُسی کا ہے احتساب دیکھا
نہ بچ سکا تو بھی خود فریبی کی دلکشی سے
ترے بھی بالوں میں اب کے ماجدؔ خضاب دیکھا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑