تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

الٹا

ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 165
رکھ دیا دل کھول کر گویا ہو سر تا پا کُھلا
ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا
رات کی رانی کی خوشبو میں صبا کے رقص میں
ہم نے آنکھیں ہی نہ کھولیں ورنہ وہ کیا کیا کُھلا
اپنے ہاں کی جو سیاست ہے، شکستہ خط میں ہے
جیسے اہلِ دِہ پہ پٹواری کا ہو بستا کُھلا
پُھول دِکھلایا تو اُس نے چاند دکھلایا ہمیں
جیسے جیسے ہم کُھلے ہم پر بھی وہ ویسا کُھلا
دیکھنے میں گو ہمارے پاس آن اُترا ہے وہ
جھیل میں اُترا جو چندا ہم پہ وہ اُلٹا کُھلا
رام کرنے کو ہمیں تاکا کبھی جھانکا کیا
وہ کہ پیکر تھا حیا کا ہم پہ کب پُورا کُھلا
ہاں کبھی یوں بھی کیا تھا ہم نے سجدہ شُکر کا
ہاں کسی چنچل کا ماجد ہم پہ بھی در تھا کُھلا
ماجد صدیقی

دل دہل کر ہے گلے میں آ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
وقت اَن ہونی عجب دکھلا گیا
دل دہل کر ہے گلے میں آ گیا
ہم نے ہے ملہار بوندوں سے سنی
لُو بھبھوکا بھی ہے دیپک گا گیا
تُندخُوئی کا چلن اُس شوخ کا
رفتہ رفتہ ہے ہمیں بھی بھا گیا
کھیل میں نااہل ہمجولی مرا
میری ساری گاٹیاں اُلٹا گیا
ہاں وہی نیندیں اُڑا دیتا ہے جو
گھر میں ہے مینڈک وہی ٹرّا گیا
پیار جتلاتے بہ حقِ بیکساں
اب تو جیسے ہے گلا بھرّا گیا
صبح ہوتے ہی ٹریفک کا دُھواں
کِھل اٹھے پھولوں پہ ماجد چھا گیا
ماجد صدیقی

ہم نہ بتلا تے، نہیں، ایسا نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
آپ ہی نے رازِدل پوچھا نہیں
ہم نہ بتلا تے، نہیں، ایسا نہیں
آپ سے ملنے کا ایسا تھا نشہ
رنگ تھا جیسے کوئی ،اُترا نہیں
سنگ دل تھے اہلِ دنیا بھی بہت
آپ نے بھی ،پیا ر سے دیکھا نہیں
دمبدم تھیں اِک ہمِیں پر یورشیں
تختۂ غیراں کبھی الٹا نہیں
توڑنا، پھر جوڑنا، پھر توڑنا
ہم کھلونوں پر کرم کیا کیا نہیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑