تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

الاؤ

بڑھنے لگے دھرتی کے گھاؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 101
لاؤ کوئی مسیحا لاؤ
بڑھنے لگے دھرتی کے گھاؤ
دیکھ چکے ہیں ’آنکھ دِکھائی،
دیکھ چکے ابرو کا تناؤ
جُھلسیں اِک اِک بِن چھاتا کو
دھوپ میں پنہاں ہیں جو الاؤ
پھر چندا کچھ کر ڈالے گا
پھر سے بحر میں ہے ٹھہراؤ
حق گوئی ہے وطیرہ اپنا
بھلے ہمیں مجرم ٹھہراؤ
اے آدم فرزند ترے، ہم
دیکھ بِکے ہیں کس کس بھاؤ
چاند ایسے ہر مُکھ کو ماجِد
لاحق رہتا ہے گہناؤ
ماجد صدیقی

داؤ پہ داؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 99
شاہو! لگاؤ
داؤ پہ داؤ
آہوں سے کب
بجھیں الاؤ
مفروضوں سے
بھریں نہ گھاؤ
سچ کہنے سے
مت گھبراؤ
ہر خواہش کی
پینگ جھلاؤ
بات بات میں
پھول کھلاؤ
ماجِد دُکھتے
دِل سہلاؤ
ماجد صدیقی

کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں
ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے
سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں
وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے
ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں
شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں
اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں
زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں
ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں
چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا
جبیں پہ اہلِ وفا کی، تناؤ جیسے ہیں
جو ہم ہوئے بھی تو کیا ، یوسفِ سخن ماجد
عیاں ہیں سب پہ ہم ایسوں کے بھاؤ جیسے ہیں
ماجد صدیقی

ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
لے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤ
ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ
چُپ چاپ ہو جیسے کوئی بن باس پہ نکلے
اے دل کی تمّناؤ! کوئی حشر اُٹھاؤ
کچھ ماند تو پڑ جائیں گے باتوں کی نمی سے
آؤ کہ دہکتے ہیں خموشی کے الاؤ
پھرتا ہے کچھ اس طور سے مغرور و گریزاں
ہے وقت بھی جیسے ترے ابرو کا تناؤ
اُترے ہیں جو اِس میں تو کھُلے گا کبھی ماجدؔ
لے جائے کہاں جھومتے دریا کا بہاؤ
ماجد صدیقی

کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے
کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے
بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصّورِ حسن
یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے
نکل گیا ہوں سلامت ہی حادثوں سے تو مَیں
چِتا میں رکھ کے نہ یادوں کی اَب جلاؤ مجھے
اُدھر ہیں لوگ نگاہوں میں جن کی راکھ ہوں میں
اِدھر ہو تم کہ بتاتے ہو اِک الاؤ مجھے
تناوری پہ مری بس کہاں وجود مرا
اُتر بھی جاؤ جو پاتال تک نہ پاؤ مجھے
پیمبرِ گل تر ہوں غزل ہوں ماجدؔ کی
نظر پڑوں تو کبھی آ کے گنگناؤ مجھے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑