تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

اضطراب

گناہگار ہیں ہم، ہم سے اجتناب، جناب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
بشر کی چاہ کا ہم سے ہے انتساب، جناب
گناہگار ہیں ہم، ہم سے اجتناب، جناب
کبھی تو عظمتِ انساں فلک نشاں ہو گی
کبھی تو پائیں گے تعبیر اپنے خواب، جناب
گرا پڑا ہمیں دیکھا تو تم کہ جارح تھے
تمہیں بھی ہونے لگا کیوں یہ اضطراب، جناب
گھٹا کے رقص کی ہو یا تمہارے قرب کی ہو
نئی رتوں کی طراوت بھی ہے شراب، جناب
ہر ایک ٹیڑھ تمہاری، ہماری سیدھ ہوئی
یہ تم کہ خیر سے ہو اپنا انتخاب، جناب
یہاں کی لذّتیں برحق مگر بہ عمرِ اخیر
بھگت رہے ہیں ہمِیں کیا سے کیا عذاب، جناب
ادا لتا کی زباں سے جو ہو سکے ماجد
غزل اک ایک تمہاری ہے لاجواب، جناب
ماجد صدیقی

یہ ارتباط بھی آب و حباب جیسا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
سلوک مجھ سے ترا اجتناب جیسا ہے
یہ ارتباط بھی آب و حباب جیسا ہے
مرے لبوں پہ رواں ذکرِ التفات ترا
بدستِ صبح گُلِ آفتاب جیسا ہے
متاعِ زیست ہے پیوستگئِ باہم کا
یہ ایک لمحہ کہ کھلتے گلاب جیسا ہے
کھُلا یہ ہم پہ ترے جسم کے چمن سے ہے
کہ برگ برگ یہاں کا کتاب جیسا ہے
نکل ہوا میں کہ عالم کچھ اِن دنوں اس کا
مثالِ گفتۂ غالب شراب جیسا ہے
ہے جستجوئے خیابانِ تشنہ لب میں رواں
مرا یہ شوق کہ اُمڈے سحاب جیسا ہے
ہم اِس حیات کو محشر نہ کیوں کہیں ماجدؔ
سکونِ دل بھی جہاں اضطراب جیسا ہے
ماجد صدیقی

مَیں بھی گھِرا ہوں جیسے فضائے حباب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
حجلے سے واہموں کے نکلتا ہوں خواب میں
مَیں بھی گھِرا ہوں جیسے فضائے حباب میں
کیوں سر پہ آ پڑا ہے یہ خیمہ سکون کا
آیاہے جھول کس کی نظر کی طناب میں
شایدکہیں تو لطف کا دریا رواں ملے
کہسار سر کئے ہیں اِسی اضطراب میں
وہ ابرِ لخت لخت حجابوں کا اور وہ تو
کیا لذّتیں تھیں مجھ سے ترے اجتناب میں
پیاسی زمیں پہ وہ بھی مجھی سا تھا مہرباں
خُو بُو تھی کچھ مجھی سی مزاجِ سحاب میں
ہر حرف چاہتا تھا اُسی پر رکے رہیں
کیا کیا تھے باب اُس کے بدن کی کتاب میں
انساں تھا وہ بھی میری طرح ہی انا شکار
تھوکا ہے، اس نے بھی مرے منہ پر جواب میں
ماجدؔ قلم کو تُو بھی نمِ دل سے آب دے
نکلی ہیں دیکھ کونپلیں شاخِ گلاب میں
ماجد صدیقی

تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ہُوا ہے سچ مچ یہی کہ مَیں نے یہ خواب دیکھا
تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا
خُدا سے بھی ہے سلوک میرا معاوضے کا
کِیا ہے میں نے وُہی جو کارِ ثواب دیکھا
بھرا ہے کیا کیا نجانے چھالوں میں اپنے پانی
بہ دشتِ اُمید جانے کیا کیا سراب دیکھا
چھڑا جو قّصہ کبھی غلاموں کی منفعت کا
سخن میں آقاؤں کے نہ کیا اجتناب دیکھا
کسی عمارت پہ لوحِ کم مائیگاں نہ لٹکے
بڑے بڑوں ہی کے نام یہ انتساب دیکھا
پہنچ میں آیا جو بچّۂ میش بھیڑئیے کی
ندی کنارے اُسی کا ہے احتساب دیکھا
نہ بچ سکا تو بھی خود فریبی کی دلکشی سے
ترے بھی بالوں میں اب کے ماجدؔ خضاب دیکھا
ماجد صدیقی

کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
سرِ سپیدۂ مُو، پردۂ خضاب آیا
کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا
گماں یہ ہے کہ ستارے زمیں پہ اُتریں گے
سرِ ورق جو کبھی دل کا اضطراب آیا
قدم اُکھڑنے تلک تھیں صلابتیں ساری
پھر اُس کے بعد تو ہر حادثہ شتاب آیا
کبھی اُٹھا کے نہ دیکھا خود آئنہ جس نے
وہ شخص پاس مرے بہرِ احتساب آیا
ملائے آنکھ نہ مجھ دشت سے جبھی ماجدؔ
برس کے پھر کسی دریا یہ ہے سحاب آیا
ماجد صدیقی

ہَوا اسیر ہے لیکن ابھی حباب میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
بجا کہ زور بہت کچھ گرفتِ آب میں ہے
ہَوا اسیر ہے لیکن ابھی حباب میں ہے
کرم کے ساتھ غضب بھی ہے اُس سے وابستہ
اگر ہے آب تو پھر برق بھی سحاب میں ہے
نہ بے زباں ہے نہ قادر ہے نطق پر اپنے
ہر ایک شخص مسلسل اِسی عذاب میں ہے
نہاں بھی ہے تو کہاں تک رہے گا پوشیدہ
جو حرف وقت کی تعزیّتی کتاب میں ہے
کوئی تو معجزہ دکھلائے گا فراق اُس کا
ہر ایک رگ میں لہو جس سے اضطراب میں ہے
سبھی رُتوں کی طرف سے اُسے سلام کہ جو
کھِلے گلاب کی مانند کشتِ خواب میں ہے
بنی ہے شہر میں جو خارِ ہر زباں ماجد!ؔ
وہ ساری بات ترے ایک شعر ناب میں ہے
ماجد صدیقی

نہ سہی پہ کُچھ تو ترا جواب ہے سامنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
جو نہیں ہے تُو، تو یہ ماہتاب ہے سامنے
نہ سہی پہ کُچھ تو ترا جواب ہے سامنے
ہے رواں لُہو میں ترے ہی لمس کا ذائقہ
شب و روز اک یہی عکسِ خواب ہے سامنے
وُہی جس کی آس مشامِ جاں کو رہی سدا
سرِ شاخِ شب وُہ کھِلا گلاب ہے سامنے
تری دید ہے کہ نظر میں حرف سُرور کے
ترا قرب ہے کہ کھُلی کتاب ہے سامنے
یہی شے تو وجہِ قیام خیمۂ لُطف ہے
یہ جو دو حدوں میں تنی طناب ہے سامنے
ہے تجھی سی پیاس اِسے بھی لختِ زمین جاںِ
یہی جو نظر میں تری سحاب ہے سامنے
وُہی کھو گئی تھی جو تُجھ سے ماجدِ ؔ بے سکوں
وُہی دیکھ! ساعتِ اضطراب ہے سامنے
ماجد صدیقی

بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا
بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا
جنم بھی روک دیا، آنے والی نسلوں کا
ستم نے اپنا تحفّظ تھا، بے حساب کیا
وُہ اپنے آپ کو، کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا
فنا کا راستہ، خود اُس نے انتخاب کیا
بہت دنوں میں، کنارا پھٹا ہے جوہڑ کا
زمیں نے خود ہی، تعفّن کا احتساب کیا
یہ ہم کہ خیر ہی، پانی کا گُن سمجھتے تھے
ہمیں بھنور نے، بالآخر ہے لاجواب کیا
نہ ہمکنارِ سکوں، ہو سکا کبھی ماجدؔ
یہ دل کہ ہم نے جِسے، وقفِ اضطراب کیا
ماجد صدیقی

اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا
اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا
اقرارِ مُدّعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ
آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا
اُس کو بھی اَن کہی کے سمجھنے میں دیر تھی
کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا
تھی اُس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب
تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا
تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار
منظر وہ کیا تھا مدِّ مقابل کتاب سا
ماجدؔ نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک
جب سطحِ آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑