تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ارزاں

اے شہِ عاجز! وقارِ خلق ارزاں اور کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
چادریں نُچتی ہیں جن کی اُن کو عریاں اور کر
اے شہِ عاجز! وقارِ خلق ارزاں اور کر
اپنی قامت ناپ اُن کے ساتھ بے وقعت ہیں جو
جو پریشاں حال ہیں اُن کو پریشاں اور کر
کر نمایاں اور بھی ہر دستِ حاجت مند کو
ضعف سے لرزاں ہیں جو وہ ہاتھ لرزاں اور کر
مایۂ خلقت پہ حاتم طائیاں اپنی دِکھا
داغ ناداری کے ماتھوں پر نمایاں اور کر
چھین لے فریاد کی نم بھی لبوں کی شاخ سے
نیم جاں ہیں جس قدر تُو اُن کو بے جاں اور کر
گھیر کر لا ریوڑوں کو جانب گُرگانِ دشت
مشکلیں اُنکی جو ذی وحشت ہیں آساں اور کر
جتنے ماجد ہیں یہاں گریہ کناں اُن پر برس
چیختے ہرنوں کو جنگل میں ہراساں اور کر
ماجد صدیقی

خود بھی تنگ داماں ہوں، گھر بھی تنگ داماں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
چیت چیت اک جیسی، کلفتوں کا ساماں ہے
خود بھی تنگ داماں ہوں، گھر بھی تنگ داماں ہے
وسعتیں بھی، قامت کی سربلندیوں جیسی
کاش اُس نے دی ہوتیں، بس یہ ایک ارماں ہے
عمر بھر کو دے دی ہے کوہکن سی مزدوری
ہم پہ کیا کہیں کیسی، یہ عطائے یزداں ہے
جنس جنس کے ہم نے، نرخ جانچ کر دیکھے
ہے اگر تو دانائی، شہر بھر میں ارزاں ہے
صحن میں تمّنا کے، ہے یہی قلم ماجدؔ
جس کی تابناکی سے، شب بہ شب، چراغاں ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑