تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

اداؤں

یا شاعری میں اُتری دعاؤں کے زور پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
جینا ہے اب ارادوں، دواؤں کے زور پر
یا شاعری میں اُتری دعاؤں کے زور پر
مقبولِ خلق راہنما جو بھی ہیں سو ہیں
بدنامیوں سے پھوٹی بلاؤں کے زور پر
شاہی میں انقلاب جو آئے سو آئے ہے
یک دم تڑخ کے اُٹھتی صداؤں کے زور پر
ہم ہیں جہاں یہاں کوئی حِلم آشنا نہیں
اُجڑا نگر یہ جھوٹی اَناؤں کے زور پر
انساں کی کاوشیں بھی بجا ہیں سبھی مگر
اُڑتا ہے ہر جہاز ہواؤں کے زور پر
ماجِد ہم ایسے غاصبِ خوش خُو کو کیا کہیں
دِل لے اُڑے جو اپنی اداؤں کے زور پر
ماجد صدیقی
Advertisements

کیا ہوئے لوگ وہ خوابیدہ اداؤں والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دم بہ دم کھلتی رُتوں اپنی ہواؤں والے
کیا ہوئے لوگ وہ خوابیدہ اداؤں والے
پل میں بے شکل ہُوئے تیز ہوا کے ہاتھوں
نقش تھے ریت پہ جو عہد وفاؤں والے
جیسے بھونچال سے تاراج ہوں زر کی کانیں
بھنچ گئے کرب سے یوں ہاتھ حناؤں والے
شورِ انفاس سے سہمے ہیں پرندوں کی طرح
زیرِ حلقوم سبھی حرف دعاؤں والے
آ گئے سبزۂ بے جاں میں طراوت سے معاً
دیکھتے دیکھتے انداز خداؤں والے
اوڑھنی سب کی ہو جیسے کوئی مانگے کی ردا
باغ میں جتنے شجر ملتے ہیں چھاؤں والے
عکسِ احساس، زباں تک نہیں آتا ماجدؔ
لفظ ناپید ہیں گھمبیر صداؤں والے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑