تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

اترائیں

مہرباں جھونکے جو آئے بھی تو کر پائیں گے کیا؟

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 181
دل کے اندر کی ہیں جو ضربات، سہلائیں گے کیا؟
مہرباں جھونکے جو آئے بھی تو کر پائیں گے کیا؟
کردئے اپنے تلذّذ کو نوالے تک گراں
تخت والے عجز اپنا اور دکھلائیں گے کیا؟
چاند کا گھر میں اُترنا ہو بھلے اعزاز، پر
سر پہ اُتری چاند پر ہم پِیر، اِترائیں گے کیا؟
رہنما صاحب اِنہی کے دم ہیں ذِیشان آپ
ہم کہیں گے حالِ خلقت، آپ فرمائیں گے کیا؟
پایہ ہائے زر سے قائم تخت پر۔۔۔ظلّ اِلٰہ
اِرتقا پر دھن لٹا دینے سے باز آئیں گے کیا؟
زندگی میں تو مزے دنیا کے کچھ بھائے نہیں
آخرت میں بھی مزے دنیا کے ہی پائیں گے کیا؟
ہو چلی ہیں حرص میں آنکھیں تلک جن کی سفید
جو ازل کے ڈھیٹ ہیں ماجد وہ شرمائیں گے کیا؟
ماجد صدیقی

وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
ہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہم
وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم
وُہ کون حقیقت ہو جس کو، ایقان کی منزل ٹھہرائیں
تکفیر ہو کس کس منظر کی اور کس پر ایماں لائیں ہم
نسلوں تک گروی رکھ کر ہم، کیا ٹھاٹھ سنبھالے بیٹھے ہیں
کچھ کم تو نہیں یہ کاج اپنا کیونکر نہ بھلا اِترائیں ہم
اغراض کا عرفاں ہونے پر مُنہ نوچیں ہر سچّائی کا
دھجّی دھّجّی ہر قول کریں، گر عہد کریں، پھر جائیں ہم
جو عیش ہمارا ہے چاہے بن جائے سزا اوروں کے لئے
جس حرص نے یہ اعزاز دیا، اُس حرص سے باز نہ آئیں ہم
یہ بات کہی جگنو نے ہمیں، تھک ہار کے تیرگیٔ شب میں
ہے حرفِ منّور جو بھی کوئی ماجدؔ نہ زباں پر لائیں ہم
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑