تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آ

چنگیاں دِناں دے ہاڑے، سِر تے ہور بھسوڑیاں پا گئے نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 34
جذبیاں نُوں بے تھانواں کر گئے، سفنیاں نُوں دہلا گئے نیں
چنگیاں دِناں دے ہاڑے، سِر تے ہور بھسوڑیاں پا گئے نیں
خورے کیہڑیاں رُتاں ہتھوں، مُدّتاں توں زنجیرے نیں
پاندھی پَیر اساڈے، اگّے ودّھن نُوں، سدھرا گئے نیں
صورت کوئی نہ بندی جاپے، سنگ مقصد، کڑمائی دی
وچ اُڈیکاں پھُل گانے دے، وِینیاں تے کُملا گئے نیں
ٹِنڈاں دا کیہ، ایتک تے، ماہلاں وی تَرُٹیاں ہون گیّاں
اچن چیتی کَھوہ تاہنگاں دے، اِنج اُلٹے چکرا گئے نیں
ویہندیاں ویہندیاں ائی راہ لبھ پئی، دل چ رُکیاں ہیکاں نوں
سَد وطنوں کُھنجیاں کُونجاں دے، سُتے درد جگا گئے نیں
ویلے نے کد پرتن دِتا، ودھدے ہوئے پرچھانویں نوں
سجن سانوں، اُنج ائی میل ملاپ دے، لارے لا گئے نیں
ہاں ماجدُ چُنجاں کُنجیاں، کانواں فر نانویں انڈیاں دے
چِڑیاں ہتھوں ککھ جوڑن دے، دن فر پرت کے آ گئے نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پرندے گھونسلوں کو آ رہے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
پروں میں شام باندھے لا رہے ہیں
پرندے گھونسلوں کو آ رہے ہیں
یہ کس صحرا میں آ ڈالا ہے ڈیرہ
بگولے کیوں ہمیں بہلا رہے ہیں
بچھاتی ہیں جو سانسوں میں سرنگیں
وہ خبریں اب نئے پل لا رہے ہیں
ہر اک دن گانٹھ بنتا جا رہاہے
اور ہم گھونسے اُسے دکھلا رہے ہیں
قدم ایقان کے رنجور کرنے
ہزاروں وسوسے بِھّنا رہے ہیں
جو جھکڑ چھینتے ہیں برگ ہم سے
نمو جانے وہی کیوں پا رہے ہیں
ماجد صدیقی

یار ہمارے پاس ہمارے آ بیٹھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
خود کو ناقدروں سے کہیں نہ لٹا بیٹھیں
یار ہمارے پاس ہمارے آ بیٹھیں
میڈیا والے کہہ کے یہی نت سوتے ہیں
تنگ عوام عدالتیں خود نہ لگا بیٹھیں
گھونسلے بے آباد کریں جب چڑیوں کے
حرصی کوّے اگلے بام پہ جا بیٹھیں
سینت سنبھال کے جگہ جگہ سامانِ فنا
انساں خود ہی حشر کہیں نہ اُٹھا بیٹھیں
بے گھر بے در سارے آگ سے غفلت کی
سوتے سوتے جھونپڑیاں نہ جلا بیٹھیں
خواہشیں جن کی دے کے جنم روکے رکھیں
بچے ماں اور باپ کو سچ نہ سجھا بیٹھیں
ماجد صاحب ہم بھی باغی دلہن جیسا
زیورِ کرب نہ اپنی جبیں پہ سجا بیٹھیں
ماجد صدیقی

سُست رَو تھا اور تھا جو مستقل رَو، چھا گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
ہوتے ہوتے مرتبہ فتح و ظفر کا پا گیا
سُست رَو تھا اور تھا جو مستقل رَو، چھا گیا
جب سے ہے دونیم ٹھہرا تن جنم استھان کا
تب سے اندیشہ ہمیں اگلی رُتوں کا کھا گیا
عدل قبضے میں لیا اور انتہا کی جَور کی
حق سراؤں تک کو آمر کیا سے کیا ٹھہرا گیا
ہاں شفا مشروط جب اِذنِ جراحت سے ہوئی
زندگی میں بارِ اوّل میں بھی کچھ گھبرا گیا
ہم نے بھی ساون سمے تک دھوپ کے دھچکے سہے
زور طوفاں کا گھٹا، بارش کا موسم آ گیا
تیرتی ہے دیکھ وہ بدلی جلو میں دھوپ کے
بام پر وہ دیکھ آنچل پھر کوئی لہرا گیا
ریگ کی وسعت سَرابی، زہر سی ماجد لگی
اور صحراؤں کا موسم تُندیاں دکھلا گیا
ماجد صدیقی

دل دہل کر ہے گلے میں آ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
وقت اَن ہونی عجب دکھلا گیا
دل دہل کر ہے گلے میں آ گیا
ہم نے ہے ملہار بوندوں سے سنی
لُو بھبھوکا بھی ہے دیپک گا گیا
تُندخُوئی کا چلن اُس شوخ کا
رفتہ رفتہ ہے ہمیں بھی بھا گیا
کھیل میں نااہل ہمجولی مرا
میری ساری گاٹیاں اُلٹا گیا
ہاں وہی نیندیں اُڑا دیتا ہے جو
گھر میں ہے مینڈک وہی ٹرّا گیا
پیار جتلاتے بہ حقِ بیکساں
اب تو جیسے ہے گلا بھرّا گیا
صبح ہوتے ہی ٹریفک کا دُھواں
کِھل اٹھے پھولوں پہ ماجد چھا گیا
ماجد صدیقی

میری تشنہ خواہشیں بچّہ مرا دُہرا آ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
جب کبھی اندوہِ رفتہ بھُولنے پر آ گیا
میری تشنہ خواہشیں بچّہ مرا دُہرا آ گیا
لے لیا مٹھی میں تتلی جان کر کیسا شرر
کھیل میں خواہش کے مَیں کیسا یہ دھوکا کھا گیا
تھا تواضح میں تو مہماں کی بڑا ہی سرخرو
میں تقاضائے اعانت پر مگر شرما گیا
زلزلے ماضی کے پنہاں تھے وہ جس کی دِید میں
سرسے لے کر پاؤں تک یکسر مجھے دہلا گیا
گفتگو تو تھی خنک گوئی پہ ساری منحصر
کون سا جھونکا دبی چنگاریاں سلگا گیا
کلبلائیں بھی تو کیا اظہارِ پامالی پہ ہم
اب تو یہ انداز ہے ماجدؔ ہمیں بھی بھا گیا
ماجد صدیقی

آنے والے آ نہ سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 147
ہم پہ کرم فرما نہ سکے
آنے والے آ نہ سکے
دے گئے رنج بکھرنے کا
پھُول بھی دل بہلا نہ سکے
کر کے مقّید بھی وہ مجھے
بات مری جھٹلا نہ سکے
میری آس کے آنگن کے
چاند کبھی گہنا نہ سکے
ہم نہ ہوئے تسلیم جنہیں
وہ بھی ہمیں ٹھکرا نہ سکے
ماجدؔ کیا کیا رنج تھے جو
لوگ زباں پر لا نہ سکے
ماجد صدیقی

وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 137
نظر میں ہے نظر سے ہے جُدا بھی
وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی
ہَوا جن پر بظاہر مہرباں ہے
اُنہی پتّوں سے رہتی ہے خفا بھی
گریزاں ہیں نجانے کیوں ہمِیں سے
زمانہ بھی، مقدر بھی،خدا بھی
ستم باقی رہا اب کون سا ہے
بہت کچھ ہو چکا اب لوٹ آ بھی
ترستی ہے جسے خوں کی روانی
سخن ایسا کوئی ہونٹوں پہ لا بھی
بہت نزدیک سے دیکھا ہے ماجدؔ!
نظر نے عرصۂ کرب و بلا بھی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑