تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آہو

باغِ حیات میں ہر سُو، پت جھڑ رقص کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
دریا دریا جُو جُو، پت جھڑ رقص کرے
باغِ حیات میں ہر سُو، پت جھڑ رقص کرے
پتّی پتّی پھونک کے کومل پھولوں کی
اور ہتھیا کر خوشبو، پت جھڑ رقص کرے
سبزہ زرد پڑے تو دُھنک کر رہ جائے
ششدر ہوں سب آہو، پت جھڑ رقص کرے
ماند ہوئے ہیں، جتنے بھی رنگ شبابی تھے
سہم چلے ہیں گُلرو، پت جھڑ رقص کرے
روش روش لہراکر تُند بگولوں سی
اور پھیلا کر بازو، پت جھڑ رقص کرے
باغوں اور مکانوں اور ایوانوں تک
روزِ ازل سے بدخُو، پت جھڑ رقص کرے
عین عروج پہ کھیتوں اور کھلیانوں میں
ماجِد کب مانے تُو، پت جھڑ رقص کرے
ماجد صدیقی

شب زاد بے شمار ہیں، جگنو بہت ہی کم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
فتنے بہت ہیں، خیر کے پہلو بہت ہی کم
شب زاد بے شمار ہیں، جگنو بہت ہی کم
یابس فضا کا صید ہیں کیا کیا غزال چشم
رونا کسے بہم کہ ہیں آنسو بہت ہی کم
اک سمت دہشتی ہیں تو اک سمت خوش خصال
گیدڑ کثیر اور ہیں آہو بہت ہی کم
باطن میں ہے کچھ اور پہ ظاہر ہے بے مثال
گھر گھر سجے گلوں میں ہے خوشبو بہت ہی کم
جانے رخوں کی رونقیں کیوں محو ہو چلیں
انگناؤں تک میں دِکھتے ہیں مہ رُو بہت ہی کم
بازار میں غرض کے سوا اور کس کا راج؟
ملتے ہیں اہلِ سُوق میں خوش خُو بہت ہی کم
ماجد ہے کنج گیر جو تو کس سبب سے ہے؟
جاتا ہے بزم بزم میں کیوں تو بہت ہی کم
ماجد صدیقی

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑