تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آواز

سیکھ بیٹھے ہم اڑانوں کے نئے انداز بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
جس کی خواہش تھی ملا ہے وہ پرِ پرواز بھی
سیکھ بیٹھے ہم اڑانوں کے نئے انداز بھی
چپ رہے جب تک تو کلیوں سا رہا مٹھی میں بھید
مسکرانا تھا کہ ٹھہرا درد کا غمّاز بھی
ہم سے کب بے سمت نکلے لوگ لوٹائے گئے
رہ گئے تھک ہار کر بھرّا گئی آواز بھی
اپنا عکسِ نطق ہی نکلا جو دیکھا غور سے
تھا اِنہی حرفوں میں پنہاں وہ سراپا ناز بھی
وہ نگاہیں جب کبھی مضراب سی اٹھیں اِدھر
بیشتر اِس جسم کو ٹھہرا گئی ہیں ساز بھی
خاک کے پردے سے نکلے لوگ دکھلائیں تو ہم
میرؔ سا لیکن ملے ماجدؔ کوئی ہمراز بھی
ماجد صدیقی
Advertisements

سدا رہیں گے نہ ایک جیسے رُتوں کے انداز دیکھ لینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
فضائے دوراں کبھی تو ہو گی دلوں کی دمساز دیکھ لینا
سدا رہیں گے نہ ایک جیسے رُتوں کے انداز دیکھ لینا
یہ بات سورج کے ایک دوبار پھر کے آنے پہ منحصر ہے
کلی چھپائے جِسے، ہوا کے لبوں پہ وُہ راز دیکھ لینا
چمن میں تُندی ذرا سی بھی جسکے زمزموں میں درآئی اُس پر
کھُلے نہیں گر تو کُچھ دنوں میں قفس کے درباز دیکھ لینا
پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سِدھانے کی سوچتے ہو
بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وُہ اپنے انداز دیکھ لینا
فقط دبکنے سے فاختاؤں کو کیاضمانت ملے اماں کی
ہنر دکھائے گا اِس طرح تو کچھ اور شہباز دیکھ لینا
رواں دواں ہے نمِ زمیں سا، نمو کا پیغام جس میں ماجدؔ
صدا بصحرا کبھی نہ ہو گی مری یہ آواز دیکھ لینا
ماجد صدیقی

وُہ شوخ مرا دمساز نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 157
یہ بات کُھلی ہے راز نہیں
وُہ شوخ مرا دمساز نہیں
ہم قُرب پہ اُس کے فخر کریں
حاصل یہ ہمیں اعزاز نہیں
کہتے ہیں یہ دل وہ شیشہ ہے
ٹُوٹے تو کوئی آواز نہیں
بج اُٹّھے بِن مضراب کے جو
یہ جیون ایسا ساز نہیں
جو خوش الحان ہوئے اُن پر
کب زنداں کے در باز نہیں
حق بات ہے یہ گر جان سکیں
کنجشک ہیں ہم شہباز نہیں
ماجدؔ ہیں ہمیں جو غم، اُن کے
یہ اشک بھی اَب غمّاز نہیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑