تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آنا

خلق کو ہم نے یاد آنا ہے آج نہیں تو کل

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
جیون دِیپ نے بُجھ جانا ہے آج نہیں تو کل
خلق کو ہم نے یاد آنا ہے آج نہیں تو کل
جاناں تیرا قرب بجا، پر وقت ندی کے بیچ
ہجر نے بھی تو تڑپانا ہے آج نہیں تو کل
وہی جو قیدِ حیات میں بھگت چکی ہے اُسکی ماں
دوشیزہ نے دُہرانا ہے آج نہیں تو کل
ہم نے رخش وہ چھوڑنا کب ہے، جس پہ سوار ہیں ہم
بدخواہوں نے شرمانا ہے آج نہیں تو کل
پیڑ نہ جانے اُس کی سج دھج کا باعث ہیں جو
برگ و ثمر نے جھڑ جانا ہے آج نہیں تو کل
ذہنوں ذہنوں روز بروز پنپتی نفرت کے
زہری ناگ نے اِٹھلانا ہے آج نہیں تو کل
ماجد اُس پہ نظر رکھنی ہے ہر لحظہ ہر گام
بے عملی نے دہلانا ہے آج نہیں تو کل
ماجد صدیقی

کورے ورق پہ کچھ تو لکھا جانا چاہئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
شیشے پہ دل کے بال کوئی آنا چاہئے
کورے ورق پہ کچھ تو لکھا جانا چاہئے
پتّھر کی اوٹ ہو کہ شجر کی پناہ ہو
سایہ ملے تو اب کہیں سستانا چاہئے
پیوست جس سے ہے وہ شجر سبز ہے تو پھر
چلتی ہوا میں شاخ کو لہرانا چاہئے
فریاد سے نہ باز رہے گا یہ دل اِسے
دے کر کوئی فریب ہی بہلانا چاہئے
وہ مہرباں تھا ہم پہ مگر کتنی دیر کو
پہلی کے چاند سے اُسے سمجھانا چاہئے
ماجدؔ شبابِ فن ہے تو سطحِ خیال پر
از خود ہی حرف حرف اُبھر آنا چاہئے
ماجد صدیقی

یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 108
کچھ دیر میں چندا کو جب بام پہ آنا ہے
یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے
پوچھے گا مروّت سے کب حال ہمارا وہ
پتھر ہے جو سینے پر کب اس نے ہٹانا ہے
اِس حبس کے موسم میں، ہر حرف تمنّا کا
گرحلق سے ابھرا بھی، خوں ہی میں سمانا ہے
ہے وقت کے کِیسے میں جتنا زرِ ناخالص
حصے میں ہمارے ہی آخر کو وہ آنا ہے
قابیل سے ملتا ہے جس کا بھی کوئی رشتہ
ہابیل پہ اُس نے ہی رعب اپنا جمانا ہے
ابجد نہ جنہیں آئے الفاظ کی ندرت کا
کہتے ہیں وُہ ماجدؔ کا انداز پرانا ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑