تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آسان

پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ہجرِ جاناں، جان کا تاوان ہونے لگ پڑا
پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا
جب سے اُلٹا تاج اپنے سر پہ شاہِ وقت نے
ہے وہ کاسہ قوم کی پہچان ہونے لگ پڑا
جس سے بن پوچھے نہیں اٹھتا قدم سردار کا
پینچ بستی کا ہے کیوں دربان ہونے لگ پڑا
جب سے اُس پر ہار کر سب کچھ اُسے دیکھا ہے پھر
دل مرا کچھ اور بھی نادان ہونے لگ پڑا
آن اُترا بام سے چندا وہ دل کی جھیل میں
مرحلہ مشکل تھا جو آسان ہونے لگ پڑا
اِس میں جانے کیا بڑائی سوُنگھ لی عمران نے
پُوت وہ پنجاب کا ہے خان ہونے لگ پڑا
جتنا درس نیک بھی ماجد اسے تو نے دیا
آدمی تھا جو، وہ کب انساں ہونے لگ پڑا
ماجد صدیقی

کم نہیں کسبِ خسارہ میں مگر انسان بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
عرش تک سے اِس پہ ارزانی ہیں گو احسان بھی
کم نہیں کسبِ خسارہ میں مگر انسان بھی
ہے ہمیں کیوں اُس بدن پر حکمرانی کا یقیں
جس کے ملنے کا نہیں باقی کوئی امکان بھی
سرو کا تو کیا جو لرزاں بھی ہو شورِ سیل سے
خاک پر دِبکے ملے ہیں سنبل و ریحان بھی
آبجو میں اور ہے پودا سرِ ساحل کچھ اور
سانس لینا دہر میں مشکل بھی ہے آسان بھی
باپ روزی کے لئے نکلا وطن سے دُور تو
مڑ کے بچّوں کی نہ اُس سے ہو سکی پہچان بھی
سحرِ سے فرصت مِلے دل کے تو ماجدؔ دیکھنا
کچھ تقاضے تجھ سے رکھتی ہے بدن میں جان بھی
ماجد صدیقی

میدان کی اِک ہار ہے پہچان ہماری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
اتنی سی سرِ ارض ہے اَب آن ہماری
میدان کی اِک ہار ہے پہچان ہماری
بتلائے کہ سر کون سی دہلیز پہ خم ہو
کر دے کوئی مشکل یہی آسان ہماری
ابجد سے بھی جو پیار کی واقف نظر آئے
سَو جان ہو اُس شخص پہ قربان ہماری
یہ ساغرِ جم بھی ہے اٹا گردِ زماں سے
کیا رہنمائی کرے وجدان ہماری
ہے اِس کی بقا بھی غمِ اولاد کے ناتے
ورنہ ہے کہاں جسم میں اب جان ہماری
نکلے ہی کہاں تخت کی زنجیر سے ماجدؔ
کب آ کے خبر لے کوئی خاقان ہماری
ماجد صدیقی

اور جنّت میں مجھ پر یہ بہتان لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اَن چکّھا، چکّھا تو میں شیطان لگا
اور جنّت میں مجھ پر یہ بہتان لگا
آیا ہے پھر کرب کوئی غُرّانے پر
جنگل جیسا پھر یہ دل سنسان لگا
چھُو کر دیکھا تو جل اُٹھیں پوریں بھی
کام بظاہر جو بھی کوئی آسان لگا
ماند پڑی جُوں جُوں اُمید رہائی کی
کنجِ قفس تُوں تُوں ہے جنم استھان لگا
ڈُوب کے مرنے والوں کی فہرست لئے
تختہ سا اِک جھیل کنارے آن لگا
آنکھ سے اوجھل رنگوں کا سیلاب لئے
غنچہ غنچہ ماجدؔ کا دیوان لگا
ماجد صدیقی

جاناں! تیر ا برتاؤ بھی جان لیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
چہرے پر چہرہ ہم نے پہچان لیا
جاناں! تیر ا برتاؤ بھی جان لیا
اِس بالک کی ہٹ تو ہم کو لے بیٹھی
ہم نے دل کا جانا تھا آسان لیا
جتنے بھی پیغام ہوا نے پہنچائے
ہم نے اُن ساروں کو سچا مان لیا
اور بھلا اِس مشکل کا حل کیا ہوتا
یاد اُجالا چہرۂ شب پر تان لیا
تیرے حسن کا سونا ہاتھ نہیں آیا
ہم نے چاہت کا صحرا بھی چھان لیا
ماجد صدیقی

جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 149
ہار کھانا مری پہچان کہاں
جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں
زیست مرہونِ نتائج ہے فقط
اِس کا اپنا کوئی عنوان کہاں
پہرہ دارانِ الم کے ہوتے
دل سے نکِلے کوئی ارمان کہاں
ہے معنون جو نہتّوں سے یہاں
ختم ہوتا ہے وُہ تاوان کہاں
چاند جوہڑ میں اُترتا کب ہے
ہم کہاں اور وہ ذی شان کہاں
ہے جو محبوس بدن میں ماجدؔ
چین پاتی ہے بھلا جان کہاں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑