تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آرام

حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
تو میسّر ہو کسی شب تو یہ اقدام کروں
حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں
حرفِ روشن، تری اُمیدِ ملاقات ایسا
میں حمائل بہ گلُو کیوں نہ سرِ شام کروں
پر سلامت ہیں تو زخموں کو لئے ہر جانب
قصّۂ ضربتِ صیّاد بھی اب عام کروں
ساعتِ نحس جو غالب مرے حالات پہ ہے
ایسی آفت کو اکیلے میں کہاں رام کروں
قائلِ صنعتِ آذر ہوں ہنرمند ہوں میں
میں جو کرتا ہوں تو یوں مدحتِ اصنام کروں
مجھ کو درپیش مسافت ہے رُتوں کی ماجدؔ
سایۂ گل میں جو پہنچوں تو اب آرام کروں
ماجد صدیقی

ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کھینچتے ہر صبح کی مت شام کر
ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر
اے کہ تُو چاہے کرے شیروں کو زیر
اولاً چڑیاں چمن کی رام کر
جس طرف تیرا گزر ہو اے کلرک!
اُس سڑک کی کُل ٹریفک جام کر
اے دلِ نادان!سب کچھ جاں پہ سہہ
مت مچا تُو شور،مت کُہرام کر
جو بھی دے ماجِد جنم وُہ ہے عظیم
ہو سکے تو دیس کو خوش نام کر
ماجد صدیقی

وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
ڈرتا ہے کہ اُس پر کوئی الزام نہ آئے
وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے
آنگن میں شبِ تار کی چیخیں ہیں یہ کیسی
ہے کون پرندہ جسے آرام نہ آئے
ہم خود ہی سمجھتے ہیں تصوّر میں کچھ ایسا
چندا تو کبھی چل کے سرِبام نہ آئے
اٹھا تھا جو ناؤکے الٹتے سرِ دریا
کانوں میں کہیں پھر وہی کہرام نہ آئے
فیضان بھی ایسا ہی عطا ہونا تھا ان سے
جو لوگ کہ لینے ہمیں دو گام نہ آئے
دیکھی تھی جو اس دل نے کسی موڑ پہ ماجدؔ
ایسی بھی کسی گھر میں کوئی شام نہ آئے
ماجد صدیقی

مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
بظاہر تو وہ ہم سے رام سا ہے
مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے
چمن پر کس نے پھر شب خون مارا
بپا شاخوں میں پھر کہرام سا ہے
بچیں کیوں کر نہ اُس عیّار سے ہم
کہ جس کا دیکھنا بھی دام سا ہے
ہماری برتری یہ ہے کہ ہم پر
کسی کی چاہ کا الزام سا ہے
ہمیں کیا یاد رکھیں گے وہ جن کو
ہمارا نام بھی دشنام سا ہے
نکل کر حلقۂ دامِ ہوس سے
زیاں ہے گو مگر آرام سا ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑