تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آدم

شہرِ سخن میں لوگ ہمیں کم کم مانیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
اُن میں سے اِک ایک کو بے شک ہم مانیں
شہرِ سخن میں لوگ ہمیں کم کم مانیں
قامتِ یار کہیں ہرغم کے الاؤ کو
جیون کی ہر ٹیڑھ کو زلف کا خم مانیں
آئنہ سا جو چہرہ ہر دم پاس رہے
ہم تو بس اُس کو ہی جامِ جم مانیں
کیا کیا آس نجانے اُس سے لگا بیٹھیں
ہم جس کو ہم جنس کہیں، آدم مانیں
بچپن میں بھی دھوپ ہمیں ہی جلاتی تھی
پِیری میں بھی دھونس اُسی کی ہم مانیں
روتا دیکھ کے غیر ہمیں خوش کیونکر ہوں
اپنی آنکھیں ہم کیوں ماجد نم، مانیں
ماجد صدیقی

رہا ہی ایک سا کب ہے مزاج موسم کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جلال کیوں نہ دکھائے یہ چشمِ برہم کا
رہا ہی ایک سا کب ہے مزاج موسم کا
فرازِ عرش پہ ترجیح فرش کو دینا
یہی تو ہے کہ عجوبہ ہے ابنِ آدم کا
رُتوں نے خاک اڑا کر ہے اب کے لوٹایا
ہوا پہ قرض تھا جتنا بھی چشمِ پر نم کا
خموشیاں ہیں سیہ پوشیاں ہیں ہر جانب
بہار ہے کہ یہ عشرہ ہے کوئی ماتم کا
سرور چال میں کِھلتی ہوئی رُتوں جیسا
نشہ نگاہ میں آہو کے ایک اک رم کا
نکالتا نہ ہمیں ذہن سے تو کیا کرتا
سخن میں یار کے پہلو تھے اک ہمیں ذم کا
ہزار پیاس سے تو ایڑیاں رگڑ ماجدؔ
ترے لیے کوئی چشمہ نہیں ہے زمزم کا
ماجد صدیقی

اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
مُڑنے والی تھی وُہ ساحل کی طرف یم کی طرح
اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح
اُس کی انگڑائی میں دعوت تھی بہ اندازِ دگر
ابروؤں میں آنے والے دلنشیں خم کی طرح
پیش قدمی میں عجب امرت تھا پھیلا چار سُو
اُس کا ہر ہٹتا قدم لگنے لگا سم کی طرح
کہہ رہا تھا مجھ سے جیسے اُس کا فردوسِ بدن
دیکھنا رہ سے بھٹک جانا نہ آدم کی طرح
نشّۂ دیدار اُس کا اب کے تھا کُچھ اور ہی
آنکھ میں اُتری لگی وُہ کیفِ پیہم کی طرح
یہ بدن ماجِد سحرآثار ہو جانے لگا
اس سے ملنے کا اثر تھا گل پہ شبنم کی طرح
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑