تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آج

اصل میں بس میں ہمارے ہے تو آج کا دن ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 135
اچّھے امکانات کا اچّھے کاج کا دن ہے
اصل میں بس میں ہمارے ہے تو آج کا دن ہے
آج تو سال کے بعد ہے پھر بندھن دن اپنا
آج تو جاناں دل پر تیرے راج کا دن ہے
ہونٹ سجیں جس دن بھی شوخ سخن سے وہ دن
نام اس شوخ خرام کے شوخ خراج کا دن ہے
ایک نہ ایک علالت ہر لمحے کو لاحق
اپنے یہاں کوئی بھی تو نہیں جو علاج کا دن ہے
زور جہالت سے ورنہ ناکیں کٹ جائیں
اپنے یہاں ہر دن ہی رسم و رواج کا دن ہے
ہے مفقود روایت اک دوجے کے بھلے کی
کوئی نہیں ایسا جو اچّھے سماج کا دن ہے
بن سمجھے عمریں تک گزریں رسوائی میں
سمجھیں تو ماجد ہر دن ہی لاج کا دن ہے
ماجد صدیقی

سچ ہے اپنے خداوندوں کا ہے یہ کاج

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
جمہوریت میں بھی ولی عہدوں کا رواج
سچ ہے اپنے خداوندوں کا ہے یہ کاج
کھوج لگانے پر جانے کیا کیا نکلے
خوب ہے چھپے رہیں گر ہَما شُما کے پاج
ہمیں ارادت آقائی و غلامی سے
ہم کرتے ہیں ادا جانے کس کس کا باج
ساری دوائیں بہر فسادِ جسم بنیں
دل کے میَلوں کا ہو بھی تو کیا ہو علاج
بعد بیاہ کے ٹھہریں تختۂ مشق سبھی
بیٹیاں پھنّے خانوں کی بھی کریں کب راج
آنے و الا ہو یا بِیت گیا کل ہو
پیشِ نظر رکھنا ہے ہمیں تو آج ہی آج
قیس کو ہے توقیر، سگِ لیلیٰ تک کی
عشق پرستوں کا ہے ماجد اور سماج
ماجد صدیقی

نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
مجھے ہی ضبطِ تمنّائے دل کی لاج سی
نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی
زبان سے بھی کہو بات جو نگاہ میں ہے
جو حشر دل پہ گزرنا ہے کل وُہ آج سہی
کسی کے نام تو ہونا ہے اِس ریاست کو
خُدا کے بعد تمہارا ہی دل پہ راج سہی
ستم کا نام نہ دیں ہم کسی ستم کو بھی
یہ اہتمام بھی اَب شہر کا رواج سہی
کرو نہ شاخِ بدن سے سروں کے پھُول جُدا
سدا بہار تمہارے ہی سر کا تاج سہی
ہلا نہ لب بھی ستم گرکے سامنے ماجدؔ
جہاں ہیں اور وہاں یہ بھی ایک باج سہی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑