تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آتے

کیسے کیسے وقت آئے اور گزر جاتے رہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
پھول کچھ لمحے تو کچھ تھے سنگ برساتے رہے
کیسے کیسے وقت آئے اور گزر جاتے رہے
تھپکیوں سے بھی رہے تھے رس اُنہی کا چوستے
مہرباں جھونکے تھے جن پتّوں کو سہلاتے رہے
تھا اُن ہی کے جسم میں وقتِ سحر خوں جم گیا
جو فصیلِ شب سے ساری رات ٹکراتے رہے
خوب تھا وہ آتے جاتے موسموں کا سا ملاپ
تم ملا کرتے تو تھے گرچہ بچھڑ جاتے رہے
خاک تھی وہ لذّتِ خواب سکوں جس کے عوض
آنے والے دن بھی گروی رکھ دئیے جاتے رہے
شاخچوں کے پھول پھل پڑنے سے پہلے توڑنا
ایسی رسمیں بھی یہاں کچھ لوگ دُہراتے رہے
یاد سے ہو محو ماجدؔ کیسے اُن چہروں کا عکس
شدّتِ خواہش سے جو دل میں اُتر آتے رہے
ماجد صدیقی

بہ بزمِ غیر نہ آتے اگر بُرا کیا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
بھرم مرا نہ گنواتے اگر بُرا کیا تھا
بہ بزمِ غیر نہ آتے اگر بُرا کیا تھا
تمہارے روٹھ کے جانے سے جو ہوا برپا
وہ حشر تم نہ اٹھاتے اگر بُرا کیا تھا
وہی جو تیر سی میرے بدن کو چیر گئی
وہ بات منہ پہ نہ لاتے اگر بُرا کیا تھا
تمہارے ہجرِمسلسل سے جو الاؤ بنی
اس آگ میں نہ جلاتے اگر بُرا کیا تھا
تم ہی تو تھے جو مرا دم تھے، دل کی دھٹرکن تھے
سفر میں ساتھ نبھاتے اگر بُرا کیا تھا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑