تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آب

منظر ہے پھر نگاہ میں پھٹتے حباب کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
چھیڑا یہ کس نے ذکر ہَوا کے عتاب کا
منظر ہے پھر نگاہ میں پھٹتے حباب کا
برسے تو پیڑ پیڑ جڑوں سے اکھیڑ دے
یہ بھی تو اِک چلن ہے اُمڈتے سحاب کا
کس سے کہوں کہ اس کی چمن میں خطا ہے کیا
نُچنے پہ آ گیا ہے بدن کیوں گلاب کا
دیکھی جہاں کہیں بھی کوئی جانِ ناتواں
پنجہ وہیں پہ آ کے پڑا ہے عقاب کا
ماجدؔ ہیں ہم وہ گوشۂ صحرا کہ جس کی اور
پھرنے کو رُخ نہیں ہے کسی جُوئے آب کا
ماجد صدیقی
Advertisements

کمیاب ہے لعلِ ناب سا وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سر سے تا پا حجاب سا وُہ
کمیاب ہے لعلِ ناب سا وُہ
اُبھرے بھی جو سطحِ آرزُو پر
رُوکے نہ رُکے حباب سا وُہ
خوشبُو سا خیال میں دَر آئے
آنکھوں میں بسے گلاب سا وُہ
سب تلخ حقیقتوں پہ حاوی
رہتا ہے نظر میں خواب سا وُہ
حاصل ہے سرشکِ لالہ رُو کا
محجوب سا‘ دُرِّ آب سا وُہ
چھایا ہے بہ لُطف ہر ادا سے
خواہش پہ مری نقاب سا وُہ
ہُوں جیسے، اُسی کے دم سے قائم
تھامے ہے مجھے طناب سا وُہ
بارانِ کرم مرے لئے ہے
غیروں کے لئے عتاب سا وُہ
ماجدؔ ہو یہ جسُتجو مُبارک
ہاتھ آ ہی گیا سراب سا وُہ
ماجد صدیقی

ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
خونِ مظلوماں سے ہیں شاداب ہونے لگ پڑیں
ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں
غاصبانِ تخت کی خود ساختہ آفات سے
جانے کیا کیا ہستیاں، غرقاب ہونے لگ پڑیں
حق طلب ہیں جس قدر خاموش رکھنے کو اُنہیں
اجتماع گاہیں تلک برقاب ہونے لگ پڑیں
حرص زادوں کے تدّبر کی تہِ شیریں لئے
گالیاں بھی شاملِ آداب ہونے لگ پڑیں
جب سے ماجدؔ مکر کا غلبہ مناصب پر ہُوا
دیکھ کیا کیا حرمتیں بے آب ہونے لگ پڑیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑