تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

آئیے

مرے وسوسوں مرے واہموں کو مٹائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پۓ لطف یا پۓ جور جیسے بھی آئیے
مرے وسوسوں مرے واہموں کو مٹائیے
ہمہ دم ہی صور نہ پھُونکئے سرِ انجمن
کبھی کوئی قصّۂ جاں فزا بھی سنائیے
میں ترس رہا ہوں کتابِ سبز بہار کو
مرے ہاتھ اِس کا وَرق وَرق نہ تھمائیے
پۓ انتقام، ستم میں بخل نے کیجیئے
کہ یہ زہرہے تو نہ جرعہ جرعہ پلائیے
کبھی کھولئے کسی کنجِ لطف کا باب بھی
بکنارِ گلشنِ آرزُو نہ پھرائیے
ہے علیلِ دید تمہارا ماجدِؔ خستہ جاں
کسی روز صورتِ موجِ باد ہی آئیے
ماجد صدیقی

ٹھہرا جب احتجاج تو کھُل کر منائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پتلے روِش روِش پہ خزاں کے جلائیے
ٹھہرا جب احتجاج تو کھُل کر منائیے
حاصل بہ عجز رتبہ مبارک ہو یہ تمہیں
میں ہوں انا شکار مرے منہ نہ آئیے
پھر دیکھنا حصولِ گلِ تر کے خواب بھی
دامن تو پہلے باڑھ سے اپنا چھڑائیے
دعویٰ ہے تازگی کا درونِ قفس یہی
سر پھوڑ پھوڑ اپنا لُہو میں نہائیے
ماجدؔ یہ تن نہ مثلِ گریباں ہو چاک چاک
دل میں جو زہر ہے وہ زباں پر بھی لائیے
ماجد صدیقی

لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
سچّے ہو گر تو اور نہ آنکھیں چُرائیے
لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے
کیو ں وقتِگفتگو ہے نگاہوں میں اضطراب
زیرِ زباں ہے جو وہ زباں پر بھی لائیے
میں پُھول بھی ہوں گر تو بگولوں کی زد پہ ہوں
میں کھو چکا حواس مرے منہ نہ آئیے
کھینچے جو اپنی سمت اُنہیں بھی جو دُور ہیں
ایسا بھی کوئی پُھول سرِ لب کِھلائیے
لَو دے اٹھے گلاب نہ آخر سرِحجاب
اس طور بھی نہ روئے درخشاں چھپائیے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑