تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

دیباچہ

ایک متنوع نظم از سید ضمیر جعفری

(صورت احوال آنکہ کا دیباچہ)

ماجد صدیقی اردو اور پنجابی کے جانے پہچانے شاعر ہیں جن کا اپنا مخصوص انداز فکر ہے ان کی اردو شاعری کے جو مجموعے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان میں ’’آغاز‘‘ دنیائے غزل میں ان کی جداگانہ اور تازہ آواز کا مظہر ہے جب کہ ’’شاد باد منزل مراد‘‘ میں اس نوجوان شاعر نے نہایت ہی اہم اور قومی نوعیت کے بحرانی مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔

اب ماجد صدیقی اپنے قارئین کو ایک نثری کاوش ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے روپ میں دے رہے ہیں۔ جس کا مواد اگرچہ مصنف کی ابتدائی زندگی کے ایک خاص حصے کے واقعات ہیں لیکن اس تصنیف کو آسانی سے محض سوانح عمری بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کتاب کے اوّل سے آخر تک اگرچہ ابو اب کا باہمی ربط واقعات کی ڈوری سے قائم ہے لیکن اسے ماجد کے شگفتہ اور توانا انداز کا کرشمہ کہئے یا اس کے شاعرانہ احساس کا ترفع۔ کہ کتاب مزاحیہ نثر میں لکھی جانے کے باوجود ذرا ہٹ کر دیکھنے پر مزاجاً ایک ایسی متنوع نظم نظر آتی ہے۔ جس کا کوئی جملہ بلکہ لفظ اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔

15 اگست 1977 ء

Advertisements

تیسرا ناتا اور لطف خانہ ساز از کرنل محمد خان

(صورت احوال آنکہ کا دیباچہ)

ماجد صدیقی سے میرا قلم کا رشتہ تو بعد کا ہے، اس سے پہلا تعلق یہ ہے کہ وہ میرا ’’گرائیں‘‘ ہے اور اب کہ اس نے مجھے اپنی نئی تصنیف۔۔۔ صورت احوال آنکہ۔۔۔ کے سلسلے میں اپنا گواہ ٹھہرایا ہے تو اس سے غالباً میرا تیسرا ناتا بنتا دکھائی دیتا ہے کہ اس کی نثر کی پیشانی پر بھی طنز و مزاح کا عنوان ہے جو یار لوگوں نے میرے ماتھے پر بھی بہ زور جڑ دیا ہے ماجد ادب کا شیدائی ہے اور اس حیثیت سے اس کی نظر اپنے زمانے اور سر زمین کی حدود پر رہتی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ آگے۔۔۔ کتاب ہذا میں ہر چند کہ اس نے بڑے سادہ واقعات کو ایک بہت بڑے جیتے جاگتے عالم کا دریچہ بنا دیا ہے۔ یہ تحریر کوئی بحر بیکراں نہیں، شاید ذرا سی آبجو ہے، لیکن اہل ذوق کو اس کے قطروں میں کئی دجلے نظر آئیں گے۔ نفس مضمون کے علاوہ لطف زبان پر ماجد نے جس انداز سے اپنے آپ کو صرف کیا ہے۔ اس سے اس کی نظر۔۔۔ اپنے دیہاتی پس منظر کی وجہ سے۔۔۔ اس حسن تک جا پہنچی ہے جسے ایسی جگہوں کے خود فنکار، لے سے لے کر رنگ، اور رنگ سے لے کر مرئی فن پاروں تک میں سمو دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب اگرچہ اردو میں لکھی گئی ہے تاہم اس کے مواد اور محاورے کا پنجابی ذائقہ قاری کو ایک ٹانک (Tonic)کے طور پر محسوس ہوتا ہے۔ امید ہے اس ٹانک کو ’’اہل زبان‘‘ بھی نافع پائیں گے۔

ماجد صدیقی بنیادی طور پر شاعر ہے اور آگے چل کر اس کے زیادہ چرچے بحیثیت شاعر ہی ہوا کریں گے۔ شاعر ماجد نے اپنے مستقبل کے محقق کی کئی مشکلیں آسان کر دی ہیں کہ بقلم خود اپنے حالات کا ایک اشاریہ پیش کر دیا ہے۔ سو بسم اللہ کیجئے اور ماجد صدیقی کی اس خانہ ساز سے بقدر شوق اپنے فکر و ادراک کو لذت آشنا کیجئے۔

راولپنڈی۔ 13دسمبر 77ء

شاد باد منزل مراد دیباچہ از فیض احمد فیض

ماجد صدیقی صاحب ہمارے خوش فکر اور خوش گو شعراء میں سے ہیں۔ اردو اور پنجابی میں یکساں سلیقے اور سہولت سے لکھتے ہیں۔ ان کی غنائیہ منظومات کا ایک مجموعہ آغاز اب سے پہلے شائع ہو چکا ہے۔ اور ادبی حلقوں میں معروف ہے۔ اب آپ نے قومی نظموں کا یہ مجموعہ ترتیب دیا ہے۔ خلوص جذبات اور قدرت اظہار دونوں اعتبار سے یہ منظومات داد و تحسین کی مستحق ہیں۔

اسلام آباد ۔ 17اپریل 1957ء

ضابطہ

نام کتاب: ریتنجناں

شاعر: ماجد صدیقی

پہلی اشاعت: 1978

ناشر: اپنا ادارہ، ڈھوک کھبہ، راولپنڈی

اندر دی ہَک زہر سی دھا گئی وِچ وجود

اکھیں پھرن رتینجناں، جگرا ہویا سواہ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

انتساب

آپنیاں سانہواں دے سُکھ

خالدہ ماجد دے ناں

گھُلّے ڈاہڈا نھیر جویں ہُن گھلیا اے

بجھیا کلُل جائے پھَٹ جویں ہُن کھلیا اے

جھلّے کوئی نہ تھاں تے ٹکراں ماراں میں

ربّا! اُنج کدوں تینوں چتیاراں میں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ضابطہ

نام کتاب: ریتنجناں

شاعر: ماجد صدیقی

پہلی اشاعت: 1978

ناشر: اپنا ادارہ، ڈھوک کھبہ، راولپنڈی

اندر دی ہَک زہر سی دھا گئی وِچ وجود

اکھیں پھرن رتینجناں، جگرا ہویا سواہ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

انتساب

آپنیاں سانہواں دے سُکھ

خالدہ ماجد دے ناں

گھُلّے ڈاہڈا نھیر جویں ہُن گھلیا اے

بجھیا کلُل جائے پھَٹ جویں ہُن کھلیا اے

جھلّے کوئی نہ تھاں تے ٹکراں ماراں میں

ربّا! اُنج کدوں تینوں چتیاراں میں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

فلیپ

نام کتاب: ’’میں کنّے پانی وچ آں‘‘

شاعر: ماجد صدّیقی

پہلی اشاعت: 1978

ناشر: اپنا ادارہ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سُونہاں لیندی اکھ

نام کتاب: ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘

شاعر: ماجد صدّیقی

پہلی اشاعت: 1964

ناشر: ماجد نشان پبلشرز

انتساب

کرنال محمد خان دے ناں

زخم پھُل ہوندا

تے میں کالر سجاوندا

پَیڑ رو سکدی

تے نظماں کہن دی کی لوڑ سی؟

۔۔۔۔

منّو بھائی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

میں اور میری شاعری

آپ نے پُوچھا تو کیا مانوگے، میرا یہ کہا

’’چاہ میری شاعری ہے، میں پُجاری۔امن کا”

غنچے غنچے کی چٹک کو مِدحتِ مَولا کہوں

کہکشاؤں میں جھلکتا پاؤں، میں عکسِ خدا

میں یقیں کرتا نہیں کوئی بھی بِن پُن چھان کے

اور مفروضوں کو جانوں شِرک کا ہم مرتبہ

نعمت یزداں مرے نزدیک ہے نُطقِ ضمیر

جس سے رُو گردانیاں ہیں، آپ ہم سب کی خطا

میں خدا سے بھی سدا اقبال سی باتیں کروں

اور کبھی اقبال تک سے بھی میں لُوں پنجہ لڑا

چاند کی تسخیر بھی مجھ کو نہ بھا پائی کہ میں

ہمسری مابین قوموں کے ہوں پہلے چاہتا

ننھی چڑیوں پر غضب ژالوں کا تڑپائے مجھے

فاختاؤں پر کہاں بھولے عقابوں کا کیا

شورشیں برپا عرب سے تا بہ افغان و عراق

جس قدر بھی ہو چکیں، میں اُن پہ کُڑھتا ہی رہا

ویت نام و الجزائر ہو کہ ڈھاکہ فال ہو

جبر جیسا بھی ہو میرے نزدہے سب ایک سا

ہوں وہ کشمیر و فلسطیں، یا مری خاکِ وطن

جس کی بد بختی پہ بھی لکھا، وہ ورثہ ہے مرا

ہندوپاکستان میں جوپُھوٹ ہے آغاز سے

اب تلک اُس پُھوٹ کا حل کیوں نہیں ڈھونڈا گیا

اور افغانوں کی نگری میں نئی بے چینیاں

دورِ حاضر میں ہوئیں کس شہ کی جانب سے بپا

ایٹمی طاقت کہا جائے کسے، کس کو نہیں

ایسا ہونا تک مجھے ہرگز نہیں اچھا لگا

چُنگلوں میں آمروں کے آ کے جو انصاف گھر

فیصلے دیتے رہے، اُن پر بھی میں تڑپا کیا

قوم کو دکھلا کے کرکٹ، تخت بچ جاتے رہے

اِس نشے کو بھی تو تھا افیون میں نے ہی کہا

کیا کتابیں کیا سخنور، سب کی ناقدری ہوئی

اور میں جیتوں کے نوحے کیا سے کیا لکھتارہا

’’بولیاں” جو ایک صنفِ خاص ہے پنجاب میں

مجھ سے اردو شاعری میں یہ اضافہ بھی ہوا

مجھ کو بھائے ہے ہمارے ہاں ہے جو طنز و مزاح

پر اُسے مضحک بنا دینا نہیں اچھی ادا

میں نہ وصل و ہجر میں پڑ کے گنواؤں ثانیے

میں جو رس چوسوں نئے لمحات کا بڑھ کر سدا

میں خلافِ جبر ہوں چاہے وہ ہو سُسرال کا

جسکا اپنے ہاں ہر اک عورت کرے ہے سامنا

آجروں سے بَیر میرا کارکن میرے عزیز

بیوگاں کا، اور یتامیٰ کا ہوں سانجھی برملا

اور سب’ لُٹیوں، سے لے کر مائی مختاراں تلک

تذکرہ ایسی سبھوں کا میں نے شرماتے کیا

میں کوئی تفریق بھی دیکھوں جو انسانوں کے بِیچ

غیر انسانی و حیوانی اُسے سمجھوں سدا

یہ گواہی ہر کہیں میرے سخن میں پاؤگے

مجھ کو نفرت نفرتوں سے، میں ہوں چاہت پر فِدا

حرصیوں کو چاہے وہ تاجر ہوں، یا ہوں منتظم

ہر بگڑتے نظم کو ٹھہراؤں میں شاہی خطا

اور کئی مضمون بھی میرے پسِ معنی نہاں

اور کئی دنیاؤں تک بھی ہے پہنچتا فن مرا

باعثِ تشویش ہیں ماجد! بڑے بُوڑھوں کے دُکھ

نسلِ نَو کی صحتِ کردار، میرا مسئلہ

ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑