تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

ماجِد نشان

ہم جنہوں نے آنکھ کھولی جابروں کے درمیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
ہو چکے جاگیر سی پیرون شہوں کے درمیاں
ہم جنہوں نے آنکھ کھولی جابروں کے درمیاں
یوں تو دیواریں ہیں اِن ساروں باہم متّصل
فاصلے بڑھنے لگے۔۔لیکن گھروں کے درمیاں
جس جگہ اہلِ نظر کو وہ نظر آیا کیا
وہ جگہ ہے منروں کے مسجدوں کے درمیاں
رہ بہ رہ جیسے خبر ہو گرم آدم خور کی
ایک سی ہے کھلبلی سب قافلوں کے درمیاں
رہبروں کے جال میں یوں خلق ہے صیدِ ہوس
مغویہ جیسے گھری ہو شاطروں کے درمیاں
فیصلہ کرنے کو ماجِد کون منصف آئے گا
مسئلہ اُلجھا ہوا ہے سَرپِھروں کے درمیاں
ماجد صدیقی
Advertisements

نظر کیونکر نہ رکھیں اُس پہ جو رت بھی سہانی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
ہمیں کاہے کو ہر پل پت جھڑوں سے بدگمانی ہے
نظر کیونکر نہ رکھیں اُس پہ جو رت بھی سہانی ہے
تعفّن آشنا ٹھہرے نہ ہو نابُود نظروں سے
وہ پانی خاک پر جس کو بہم پیہم روانی ہے
سحر کا دوپہر کا اور زوالِ شام کا منظر
تری ہو یا مری سب کی بس ایسی ہی کہانی ہے
حضور اپنے جو ہم جنسوں سے نت سجدے کراتا ہے
زمینی مت کہو اُس کو وہ حضرت آسمانی ہے
کسی کے جھوٹ کو تم جھوٹ ثابت کرکے دیکھو تو
سنو پھر اس سے کیا کیا پاس اُس کے گلفشانی ہے
وہ کنجشک و کبوتر ہو کہ ماجِد فاختہ اُس کے
پر و بازو میں لرزہ امن خواہی کی نشانی ہے
ماجد صدیقی

کوئی ہے ڈھب کا ٹھکانہ کہاں ہم ایسوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
نہ فرشِ خاک نہ باغِ جناں ہم ایسوں کا
کوئی ہے ڈھب کا ٹھکانہ کہاں ہم ایسوں کا
نہ پُختگی ہو جو عزم و عمل میں تو ماجِد
کوئی بھی کام ہو کیونکر رواں ہم ایسوں کا
ماجد صدیقی

میں تِیرہ بخت ہوں ،دے، آفتاب دے مُجھ کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
نئی رُتوں،نئی فصلوں کی تاب دے مُجھ کو
میں تِیرہ بخت ہوں ،دے، آفتاب دے مُجھ کو
جو مُجھ کو حوصلہ، جِینے کا حوصلہ دے دیں
اُڑوں میں جِن کے سہارے وُہ خواب دے مُجھ کو
یہ تُو جو خود ہی کرے شاد، پِھر کرے ناشاد
یہ کیا مذاق ہے بس یہ جواب دے مُجھ کو
مری بساط بھی دیکھ اے خُدا! خُدا ہے جو تُو
میں جِن کا اہل ہوں ایسے عذاب دے مُجھ کو
ہُوا جو مجھ پہ ہر اُس ظلم کی تلافی ہو
مرے زماں!کوئی ایسا خطاب دے مُجھ کو
مجھے جو دے تو کوئی نعمتِ فراواں دے
تووں سا تپنے لگا ہُوں سحاب دے مُجھ کو
لہو کے بیچ سے جو حِدّتِ سکوں بخشے
رگوں سے خِلق ہو جو وُہ شراب دے مُجھ کو
ماجد صدیقی

اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
مُڑنے والی تھی وُہ ساحل کی طرف یم کی طرح
اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح
اُس کی انگڑائی میں دعوت تھی بہ اندازِ دگر
ابروؤں میں آنے والے دلنشیں خم کی طرح
پیش قدمی میں عجب امرت تھا پھیلا چار سُو
اُس کا ہر ہٹتا قدم لگنے لگا سم کی طرح
کہہ رہا تھا مجھ سے جیسے اُس کا فردوسِ بدن
دیکھنا رہ سے بھٹک جانا نہ آدم کی طرح
نشّۂ دیدار اُس کا اب کے تھا کُچھ اور ہی
آنکھ میں اُتری لگی وُہ کیفِ پیہم کی طرح
یہ بدن ماجِد سحرآثار ہو جانے لگا
اس سے ملنے کا اثر تھا گل پہ شبنم کی طرح
ماجد صدیقی

ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
مری صورت ہے جو بے بال و پر ، اچّھا نہیں لگتا
ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا
ذرا سا بھی جو چہرے کو تکدّر آشنا کردے
اُنہیں ہم سا کوئی شوریدہ سر اچّھا نہیں لگتا
بہت کم گھر نفاذِ جبر پر چُپ تھے، سو اچّھے تھے
مگر یوں ہے کہ اب سارا نگر اچّھا نہیں لگتا
قدم بے سمت ہیں اور رہنما منصب سے بیگانہ
ہمیں درپیش ہے جو وُہ سفر اچّھا نہیں لگتا
مثالِ کودکاں بہلائے رکھنا بالغوں تک کو
ہنر اچُھا ہے لیکن یہ ہنر اچّھا نہیں لگتا
چہکنا شام کو چڑیوں کا ماتم ہے گئے دن کا
مگر ماتم یہ ہنگامِ سحر اچّھا نہیں لگتا
گلوں نے جن رُتوں سے ہیئتِ پیغام بدلی ہے
غضب یہ ہے ہَوا سا نامہ بر اچّھا نہیں لگتا
کہیں کیونکر نہ ماجِد زر سے ہی جب سُرخیٔ خوں ہے
نہیں لگتا ہمیں فقدانِ زر، اچّھا نہیں لگتا
ماجد صدیقی

وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
مجھ سے جو چھن گئے،میرے رب موڑ دے
وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے
فاختاؤں کے حق میں خلافِ ستم
رگ بہ رگ تھا جو رنج و تعب موڑ دے
ساتھ اپنے ہی جس میں سخن اور تھے
خلوتوں کی وہ بزمِ طرب موڑ دے
جس سے مُکھ تھا انگاروں سا دہکا ہوا
مُو بہ مُو تھی جو وہ تاب و تب موڑ دے
الجھنوں کا تھا جن پر نہ سایہ تلک
ہاں وہ لمحاتِ خندہ بہ لب موڑ دے
نام اوروں کے جتنے شرف ہیں مرے
مجھ کو موڑے نہ تھے جو، وہ اب موڑ دے
رنج جو بھی ملے ،عفو کی شکل میں
دینے والوں کو ماجِد وہ سب موڑ دے
ماجد صدیقی

بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
لب بہ لب جو ہر کہیں چھائی لگے
بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے
ناتواں کی سمت میزائل کی کاٹ
جابروں کو صَوتِ شہنائی لگے
اسلحہ چھینے نوالے خلق کے
اور روزافزوں یہ مہنگائی لگے
سُو بہ سُو پھیلے ہیں پھندے حرص کے
ہر قدم پر سامنے کھائی لگے
امن کی جانب توجّہ چاہتی
جو صدا بھی ہے وُہ بھرّائی لگے
ہم سخن کی سلطنت کے شاہ ہیں
ہاں ہمیں زیبا یہ دارائی لگے
گُم شدہ محمل جو ڈھونڈے دشت میں
اپنا ماجِد بھی وُہ سَودائی لگے
ماجد صدیقی

بے دم ہے پیڑ پیڑ چمن کا چِتاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
گھرنے لگے ہم آپ یہ کیسی خزاؤں میں
بے دم ہے پیڑ پیڑ چمن کا چِتاؤں میں
کچھ دودو گردوشور ہی نقصاں رساں نہیں
خبروں کا زہر بھی تو ملا ہے ہواؤں میں
دھن دھونس دھاندلی کے مسلسل داباؤ سے
لرزہ سنائی دینے لگا ہے صداؤں میں
گوشہ کوئی کہ جس میں درندوں سے ہو اماں
ہر شخص چل پڑا ہے پلٹ کر گُپھاؤں میں
اللہ اس کو اور نمو اور تاب دے
یاور وہ پیڑ ہم ہیں مگن جس کی چھاؤں میں
پینچوں کے بل پہ شہ تو ہوا اور مقتدر
ماجِد غلامیوں کے چلن پھر ہیں گاؤں میں
ماجد صدیقی

حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
گُن سخن میں وُہ رُخِ یار کے لائے ہم نے
حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے
نزد اِن کے بھی کسی شہ کی سواری اُترے
اِس گماں پر بھی در و بام سجائے ہم نے
جن کی تنویر میں کام آیا ہم ایسوں کا لہو
آنگنوں آنگنوں وُہ دِیپ جلائے ہم نے
ہاں رسا ہونے نہ پائی کوئی فریاد و دُعا
عرش کے پائے بھی کیا کیا نہ ہِلائے ہم نے
جھڑکیوں سے کہیں،افیون سے وعدوں کی کہیں
شاہ کہتے کہ ’’یُوں لوگ سُلائے ہم نے’‘
عقل سے شکل سے جِن جِن کی، نحوست ٹپکے
ایسے بُودم بھی سر آنکھوں پہ بِٹھائے ہم نے
کسی انساں کی دولتّی سے لگیں جو ماجِد
جانتے بُوجھتے وُہ زخم بھی کھائے ہم نے
ماجد صدیقی

مہ کا اثر بھی مہر کی ضَو پر پڑ سکتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
کم اوقات بھی زور آور سے اکڑ سکتا ہے
مہ کا اثر بھی مہر کی ضَو پر پڑ سکتا ہے
بے غیرت کو اپنے کیے پہ ملال کہاں کا
غیرت مند ہی شرم سے خاک میں گڑ سکتا ہے
سُوکھ کے برگِ گلاب بھی نوکیلا ہو جائے
ہونٹوں میں جو، اُلجھ سکتا ہے، اَڑ سکتا ہے
کام میں لانے کی تنظیم کی بات ہے ساری
دام کا دھاگا شیر تلک کو جکڑسکتا ہے
کرتا ہے فریاد کی لَے وُہ سپرد ہَوا کے
پتّا ورنہ بِن لرزے بھی جھڑ سکتا ہے
آب میں اُترا چاند کسی سے نہ ساکن ٹھہرے
اور پہاڑ بھی اپنی جگہ سے اُکھڑ سکتا ہے
شرط اگر ہے تو وہ مالی کی نااہلی
ماجِد جس سے باغ کا باغ اُجڑ سکتا ہے
ماجد صدیقی

دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
شاہ نگر سے وہ کہ ہے شہرِ ریا او یار!
دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!
کب تک اور ہمیں بے دم ٹھہرائے گی
ذکر سے شاہوں کے مسموم ہوا او یار!
اپنا مقدّر جنیں یا آفت سمجھیں
جس میں گھرے ہیں ہم وہ حبس ہے کیا او یار!
زورآور خوشبو بردار بتائیں جسے
کیوں وہ صبا لگتی ہے تعفّن زا او یار!
ذہن میں در آئے ہیں یہ کون سے اندیشے
بستر تک کیوں لگنے لگا ہے چِتا او یار!
جبر نے کونسا اور اب طیش دکھایا ہے
عدل کے حجلوں میں بھی شور بپا او یار!
رُخ پہ سرِ میداں نہ یہ کالک مَل اپنے
ماجِد تجھ سے کہے مت پیٹھ دکھا او یار!
ماجِد جبر کی رُت میں سخن کو دھیما رکھ
دھیان میں اپنے پیری بھی کچھ لا او یار!
ماجد صدیقی

یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
سُوکھا پتّا یا میں اُڑتا پر ٹھہروں
یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں
اپنے آپ میں رہنا ہی کیا ٹھیک نہیں
آسمان کا میں کیوں کر ہمسر ٹھہروں
کُوچۂ حرص میں اپنی خیر منانے کو
خیر کا مدِمقابل ٹھہروں، شر ٹھہروں
خبر خبر ہیں چَوکھٹے نت نت ماتم کے
سوچتا ہوں کس کس کا نوحہ گر ٹھہروں
مثلِ صبا اپنا جی بھی بس چاہے یہی
غنچہ غنچہ چٹکوں، پیغمبر ٹھہروں
کسے خبر کل نطق کے ناطے نگر نگر
میں بے قیمت بھی گنجینۂ زر ٹھہروں
ماجد صدیقی

رات گئے تک نیند نہ مجھ کو آئے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
سوچ بدن میں زہر نیا پھیلائے گی
رات گئے تک نیند نہ مجھ کو آئے گی
بار بار جو اُگ آتی ہے راہوں میں
کس کس سے دیوار یہ چاٹی جائے گی
ڈال ڈال کر کوسنے پھیلی جھولی میں
بُڑھیا دیر تلک اب تن سہلائے گی
آگ سے جس نے اپنا ناطہ جوڑ لیا
وُہ رسّی کیا اپنا آپ بچائے گی
لطف و سکوں کا جھونکا تک جو پا نہ سکی
قوم مری کس موسم پر اِترائے گی
ابکے آب میں جال بِچھا جو چَوطرفہ
مچھلی مچھلی اُس میں جان گنوائے گی
ماجِد کُود کے دیکھ تو عزم کے دریا میں
بعد کی صورت بعد میں دیکھی جائے گی
ماجد صدیقی

زخم دے گئے دل کو خار پھر زبانوں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
ذِلّتوں کی بستی سے پھر نئے پیام آئے
زخم دے گئے دل کو خار پھر زبانوں کے
سامنے کی باتیں تو سامنے کی باتیں ہیں
اور بھی کچھ اِحساں ہیں ہم پہ مہربانوں کے
جبر نے دکھایا ہے پھر کہیں کمال اپنا
لوتھڑے فضا میں ہیں کچھ نحیف جانوں کے
شیر کے در آنے کے اشتباہ پر ماجدؔ
اہتمام کیا کیا تھے دشت میں مچانوں کے
ماجد صدیقی

میں سر سبز شجر جو پل پل اِیندھن بنتا جاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
دے کر چھِیننے والے تیری دین کو کیا ٹھہراؤں
میں سر سبز شجر جو پل پل اِیندھن بنتا جاؤں
تیری سماعت کے در پر ہے بس یہ دستک میری
چندرماں ایسا گھٹتا بڑھتا میں راتیں چمکاؤں
اور بھی کِھل کِھل اُٹھیں میرے ہونٹ گُلابوں جیسے
حرفوں حرفوں اور بھی چیت رُتوں تک میں مسکاؤں
لہرائیں، رنگ لائیں میرے دل کی سب آشائیں
میں نے جو بِیجائیاں کی ہیں،اُن کی فصل اُٹھاؤں
ان کی مہک، ان کی شیرینی، لُطف دِکھائیں اپنے
پُھولنے پھلنے والی اپنی شاخوں پر اِتراؤں
اِیقان و فیضان سے میرے جو سرچشمہ پُھوٹا
اُس کی نم کی یاوری سے اِک اور جنم میں پاؤں
جس کا اُنس ہے، جس کی قرابت، ماجِد! دم خَم میرا
اورفرازوں، اُس سے اپنے قُرب کی پینگ جُھلاؤں
ماجد صدیقی

اور ترا ہجر، ترا دھیان زیادہ چاہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
دل کی جو بھی ہو طلب،تجھ سے اعادہ چاہے
اور ترا ہجر، ترا دھیان زیادہ چاہے
تیری آنکھوں کے سوا مستیاں چھلکیں نہ کہیں
جسم کا جام ترے قرب کا بادہ چاہے
سچ وہ سورج کی کرن ہے جو چھپائے نہ چھپے
مکر جیسا بھی ہو ہر آن لبادہ چاہے
گانٹھ کیسی ہو وہ اس سے کبھی کھولے نہ کھلے
حسن چاہت کی کوئی بات ہو سادہ چاہے
چاند جذبوں کی صداقت سے پہنچ کو پہنچے
کوہ کھدنے کو بڑا سخت ارادہ چاہے
تجھ سے ملنے کو پروبال بھی درکار ہیں اب
اب تو ماجِد بھی ہوا پر کوئی جادہ چاہے
ماجد صدیقی

خُود اُجڑنا اور ہر منظر اُجڑتے دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
دمبدم طبعِ رسا اپنی بگڑتے دیکھنا
خُود اُجڑنا اور ہر منظر اُجڑتے دیکھنا
پالنا پیڑوں کو اپنی کاوشوں سے اور پِھر
ٹہنیوں سے زرد رُو پتّوں کو جھڑتے دیکھنا
دیکھنا کھیتوں پہ پالنہار بُوندوں کا نزول
فصل کو ژالوں سے پِٹتے اور اُکھڑتے دیکھنا
دیکھنا چندا پنپتے تا بہ نصفِ مہ سدا
اور اُسے پھر تیسویں تک ماند پڑتے دیکھنا
ایک دن آئے گا، کوڑا وقت کا لپکے گا اور
کھال اپنی بھی میاں ماجِد اُدھڑتے دیکھنا
ماجد صدیقی

فیض یہ اب پڑھائیوں کے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
دِن ہیں جو بِن کمائیوں کے ہیں
فیض یہ اب پڑھائیوں کے ہیں
پیڑ پر، لوحِ بخت پر، انداز
اپنے اپنے لکھائیوں کے ہیں
درد جھیلے ہیں کتنے ماؤں نے
راز یہ پاس دائیوں کے ہیں
زرد پتّے یہی کہیں باہم
اگلے موسم جدائیوں کے ہیں
یُوسف آسا ہر اِک گُنی جانے
کیسے برتاؤ بھائیوں کے ہیں
رہنما کب کہیں کہ اُن سب کے
جو چلن ہیں قصائیوں کے ہیں
ہم کہ ٹھہرے فراز جُو ماجِد
یہ کرم ہم پہ کھائیوں کے ہیں
ماجد صدیقی

اور معالج بہم عطائی مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
دی نہیں کرب سے رہائی مجھے
اور معالج بہم عطائی مجھے
ہاں وہی تو ہے حیثیت میری
تھی جو ابلس نے سُجھائی مجھے
ابنِ آدم ہوں مَیں صدف تو نہیں
رزق بخشا ہے کیوں ہوائی مجھے
اُس خدا تک کا میں ہوا منکر
جس نے دی خلق پر خدائی مجھے
گھر کے بد خصلتوں میں بھی ماجِد!
کرنی آئی نہیں بُرائی مجھے
ماجد صدیقی

کچھ نہ کر اور بس فساد اُٹھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
دہر کا خود سے اعتماد اٹھا
کچھ نہ کر اور بس فساد اُٹھا
بارِ تشویش تیرے ذہن میں ہے
کم اُٹھا چاہے تو زیاد اُٹھا
دیکھ تجھ پاس حرفِ نرم تو ہے
در سے سائل کو بامراد اُٹھ
دور ہے آسماں زمیں ہی پہ رہ
ہاں اُٹھا نازِ خاک زاد اُٹھا
بزم میں لب نہ اپنے کھینچ کے رکھ
نطقِ خوش کُن پہ حرفِ داد اُٹھا
بانٹ ماجِد سکونِ دل ہر سو
واہموں کے نہ کردباد اُٹھا
ماجد صدیقی

خوں میں وہ جوشِ اشتیاق کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
جی سے جانے کا اتفاق کہاں
خوں میں وہ جوشِ اشتیاق کہاں
سادہ لوحی میں حضرتِ آدم
طاق ہوں گے پہ ہم سے طاق کہاں
ہم کہ یک جہتیوں کے داعی ہیں
خلق میں ہم سا ہے نفاق کہاں
آئنے میں ذرا سا بال آیا
بات گزری ہے دل پہ شاق کہاں
کیا خبر کہہ کے ناخلف ماجدؔ
وقت کر دے ہمیں بھی عاق کہاں
ماجد صدیقی

آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
جو بھی بہ زور و مکر ہے والیٔ تخت ہُوا
آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا
اِک آمر ایسا بھی ہمِیں نے دیکھا جو
خبطِ مسیحائی کے سبب صد لخت ہُوا
مجبوروں نے جبر سہا تو جابر کا
ہوتے ہوتے اور رویّہ سخت ہُوا
ہم ٹھہرے مُحتاج تو برق و رعد ایسا
موسم کا لہجہ کُچھ اور کرخت ہُوا
خود ہی نکلے ہر مشکل ہر علّت سے
ماجد ہم سوں کا شافی کب بخت ہُوا
ماجد صدیقی

ماجِد جو لطف دیں وُہ ہوائیں تلاش کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
تازہ مہک کی لِپٹیں، رِدائیں تلاش کر
ماجِد جو لطف دیں وُہ ہوائیں تلاش کر
جن کا مزہ ہو دیکھے مناظر سے بھی سوا
چھب جن کی اور ہو وُہ فضائیں تلاش کر
ہونٹوں سے تیرے نام پہ خُوشبو سی جو اُٹھیں
اور ہوں رسا جو ایسی دُعائیں تلاش کر
خوشامدوں پہ ہو جو بہم کام پر نہیں
اوروں سا تُو بھی ایسی قبائیں تلاش کر
جو کھو چکے ہیں نقش، خط و حرف میں وُہ ڈھال
جو دُور جا چکیں وُہ صدائیں تلاش کر
ایسی کہ فیض و غالب و منٹو جو دے گئیں
ایسی کہ پِھر نہ آئیں وُہ مائیں تلاش کر
ہو کے بھسم سِدھائیں جو بگڑوں کو جِیتے جی
ہاں بہرِ گُمرہاں وُہ چِتائیں تلاش کر
ماجد صدیقی

مگر فن ہے مرا موجود تو کب میں نہیں ہوں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
بہت یاد آؤں گا ہر شخص کو جب میں نہیں ہوں گا
مگر فن ہے مرا موجود تو کب میں نہیں ہوں گا
مری قامت نہیں تسلیم جن بَونوں کو اب، وہ بھی
دلائیں گے مجھے کیا کیا نہ منصب، میں نہیں ہوں گا
سحر پھوٹے گی آخر جگنوؤں سے میرے حرفوں کے
یہ ہو گا پر ہُوا جب اس طرح تب میں نہیں ہوں گا
نہ جانیں گے خمیر اِس کا اٹھا کن تلخیوں سے تھا
مرا شیریں سخن دہرائیں گے سب میں نہیں ہوں گا
یقیں ہے انتقاماً جب مجھے ظلمت نگل لے گی
مرے فکر و نظر ٹھہریں گے کوکب میں نہیں ہوں گا
جتانے کو مری بے چینیاں آتے زمانوں تک
پسِ ہر حرف دھڑکیں گے مرے لب میں نہیں ہوں گا
ملا جو صرفِ فن ہو کر مجھے اظہار کا ، ماجِد
سبھی ترسیں گے اپنانے کو وہ ڈھب میں نہیں ہوں گا
ماجد صدیقی

شاخ پر کِھل کے گلابوں نے بکھر جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
بیٹیاں دھن ہے پرایا اِنہیں گھر جانا ہے
شاخ پر کِھل کے گلابوں نے بکھر جانا ہے
ہم کہ ہیں باغ میں پت جھڑ کے بکھرتے پتّے
کون یہ جانتا ہے کس کو کدھر جانا ہے
ڈھل بھی سکتا ہے جو سورج ہے سروں پر سُکھ کا
کانپ کانپ اُٹھنا ہے،یہ سوچ کے ڈر جانا ہے
گرد ہی لکھی ہے پیڑوں کے نصیبوں میں جنہیں
پل دو پل موسمِ باراں میں نکھر جانا ہے
آخرِ کار دکھائی نہ وُہ دے بُھوت ہمیں
ہم نے جس شخص کو رستے کا شجر جانا ہے
ماجد صدیقی

ستم شعار دُعاؤں سے کب ٹھکانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
بدل کے روپ نئے، اور دندنانے لگے
ستم شعار دُعاؤں سے کب ٹھکانے لگے
سنا جو قطعِ شبِ رُوسیہ کا مژدہ
چٹک چٹک کے شگوفے بھی چہچہانے لگے
عتابِ ابر تو لمحوں سے مستزاد نہ تھا
شجر کو ڈھانپتے اپنا بدن زمانے لگے
بجے ہیں روز ہتھوڑے نئے سماعت پر
بجا کہ تن پہ ہمارے نہ تازیانے لگے
جو اُن کے نام تھا کوتاہ قامتی کے سبب
اُچھل اُچھل کے سقم خود ہی وہ دکھانے لگے
ہُوا کچھ ایسے کہ زینے تہہِ قدم لا کر
جو پست قد ہیں وہ نیچا ہمیں دکھانے لگے
ماجد صدیقی

وقت سمٹا تو ہمیں کام بہت یاد آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
ایک آغاز تھا انجام بہت یاد آئے
وقت سمٹا تو ہمیں کام بہت یاد آئے
کچھ تو ایسے تھے جنہیں بھول کے تسکین ملی
اور کچھ لوگ بہ ہر گام بہت یاد آئے
وہ نہ جو ٹوہ میں روزی کی نکل کر لوٹے
چہچہے اُن کے سرِشام بہت یاد آئے
مول جب اپنا پڑا شہر کے بازاروں میں
وہ جو یوسف کے لگے دام، بہت یاد آئے
خود ہی نکلے تھے نکالے نہ گئے جو اُس سے
کعبۂ دِل کو وہ اصنام بہت یاد آئے
دیکھ کر ندّیاں جذبوں کی اترتی ماجِد
تھے کبھی دل میں جو کہرام، بہت یاد آئے
ماجد صدیقی

واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
اِک اِک قدم پہ ہے نئی ایجاد کیا کہیں
واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں
صحرا میں جیسے کوئی بگولہ ہو بے مُہار
ہم آپ ہیں کُچھ ایسے ہی آزاد کیا کہیں
ہم مطمئن ہیں جس طرح اینٹوں کو جوڑ کر
یوں بھی کبھی ہوئے نگر آباد کیا کہیں
ہم نے تو کوہِ جُہل و کسالت کیا ہے زیر
کہتے ہیں لوگ کیوں ہمیں فرہاد کیا کہیں
باٹوں سے تولتے ہیں جو پھولوں کی پتّیاں
حق میں ہمارے فن کے وہ نقّاد کیا کہیں
ہم جنس اوجِ تخت سے لگتے ہیں کیوں حقیر
ماجِد یہ ہم کہ جو نہیں شہ زاد کیا کہیں
ماجد صدیقی

الجھن میں ہمِیں کیوں پڑ جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
احوال ذرا جو بگڑ جائیں
الجھن میں ہمِیں کیوں پڑ جائیں
اچکے کیوں چرخ ہمیں ہی ھلا
کیوں پَیر زمیں سے اُکھڑ جائیں
کیونکر فرمان پہ شاہوں کے
کھالیں جسموں سے اُدھڑ جائیں
طوفاں میں جلالِ ستمگر کے
انگیں کاہے کو اُجڑ جائیں
کیوں کشتی عمر کنارے پر
پہنچے تو لوگ بچھڑ جائیں
موسم کی تُند مزاجی سے
پتّے کیوں پیڑ سے جھڑ جائیں
ماجِد کیوں پینچ وہی ٹھہریں
جو اپنے کہے پر اڑ جائیں
ماجد صدیقی

خدا کے گھر میں بھی جوتوں کی خود حفاظت کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
ادائے فرض سے غافل نہ ہو عبادت کر
خدا کے گھر میں بھی جوتوں کی خود حفاظت کر
بس اِس غرض کو کہ کل تیرے کام آئے گا
اُٹھا یہ رنج بھی بیمار کی عیادت کر
جو زیردست ہو ہم جنس، پی لہو اُس کا
تہہِ سپہر خُداوند کی نیابت کر
وہ رزقِ خاص کہ ہاتھ آئے جو خیانت سے
وہ رزق کام میں لا قوم کی قیادت کر
صدائے خلق بنامِ ریا صدا میں مِلا
یہ کاج عیب چھپائے گااِس میں عجلت کر
اتار دھڑکنیں ماجِد سخن کی رگ رگ میں
یہ سُر نِکھار ابھی اور بھی ریاضت کر
ماجد صدیقی

زورآور نے مدِ مقابل کو محصور ہی رکھنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
اِٹھلانے کچھ کر دکھلانے سے معذور ہی رکھنا ہے
زورآور نے مدِ مقابل کو محصور ہی رکھنا ہے
ہم ایسوں کو جو بے سمت بھی ہیں اور غافل و کاہل بھی
جبر نے اپنا ہاتھ دکھانا ہے مجبور ہی رکھنا ہے
جو بھی ہے صاحبِ قامت اُسکو شاہ کے مصاحب بَونوں نے
دھج اپنی قائم رکھنے کو شاہ سے دُور ہی رکھنا ہے
ظلمتِ شب میں کرمکِ شب بھی جس کے لبوں پر چمکا ہے
دن چڑھنے پر نام اُس نے اپنا منصور ہی رکھنا ہے
اِس مقصد کو سر نہ کہیں وہ اُٹھائیں تازہ بدن ہو کر
مزدوروں کو آجر نے ہر حال میں چُور ہی رکھنا ہے
ماجِد ہم نے یہی دیکھا ہے مشفق ماؤں تک نے بھی
جو بھی کوئی سوتیلا ہو اُس کو رنجور ہی رکھنا ہے
ماجد صدیقی

وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
شاخِ شجر پر پھل پکنے کا ہر حیلہ ناکام لگا
وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا
آنے والے وقت کے تیور اِس میں وہ پڑھ لیتا ہے
اب بھی شاہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جمشیدی جام لگا
ہم جس کی کوڑی لائے تھے ہم نے جو کچھ سوچا تھا
اس کا ہونا ہی کیونکر اب کے بھی خیال خام لگا
ضبط کے ہاتھوں پھٹی پھٹی لگتی تھیں جتنی آنکھیں تھیں
اور سکوت لبوں کا سینے سینے کا کہرام لگا
ا چّھی قدروں کو اپنانا بات گئے وقتوں کی ہے
آج تو جس میں بھی ہے اُس کو سفلہ پن انعام لگا
وقت نہ پھر ہاتھ آئے گا ایسا اے صاحبِ بینائی
بول کوئی بولی اور ہم سارے اندھوں کے دام لگا
ہم کہ پیادہ پیا ہیں ماجدؔ جانیں یہ احوال ہمِیں
کن کن حیلوں دن کا سورج جا کے کنارِ شام لگا
ماجد صدیقی

جُگ بیتے وہ شخص نہیں ہے دیکھا جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
آنکھوں میں آباد ہے ویرانہ سا جیسے
جُگ بیتے وہ شخص نہیں ہے دیکھا جیسے
کوئی چکور نہیں آتا ہے اُڑ کر ہم تک
ہم تنہا ہیں آسمان پر چندا جیسے
جب سے باغ نے ابر سے ہم آغوشی چاہی
اُڑنے لگا وہ اور بھی، اور بھی اُونچا جیسے
چھنی سماعت سے جب سے بُوندوں کی آہٹ
چاروں اور ہے ہیبت زا سنّاٹا جیسے
جب سے ماجِد عمر کی پت جھڑ زوروں پر ہے
گرد آلود ہُوئی ہر ایک تمنّا جیسے
ماجد صدیقی

انگناں اُترا پُورا چندا آتی شب گھٹ جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
آج کے دن کا لطف اُٹھا لے، آج نہیں پِھر آئے گا
انگناں اُترا پُورا چندا آتی شب گھٹ جائے گا
انساں گِدھ یا زاغ نہیں ہے اُس سے مرے کب اُس کا ضمیر
چال چلے یا ظلم کرے وُہ،آخر کو پچتائے گا
اچّھا کر اور اچّھا کرکے،اُس کے انت کی فکر نہ کر
خَیر کے بِیج سے دیکھنا اِک دِن پَودا اُگ ہی آئے گا
ماجِداپنے سُخن کی ضَو پرپڑتے چھینٹوں کو یہ بتا
چاند پہ جو بھی تُھوکے گا آخر کو منہ کی کھائے گا
ماجد صدیقی

ہاں سانس یہی خُدا نُما ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
یہ سانس عطّیۂ خُدا ہے
ہاں سانس یہی خُدا نُما ہے
قربت میں بھی فاصلہ ہے لازم
یہ راز اِک عمر میں کُھلا ہے
پِھرپنکھ کسی کے پھڑپھڑائے
ہاں گھونسلا پھر کوئی جلا ہے
ہونٹوں پِہ سجی ہے بات دل کی
غنچہ سرِ شاخ کِھل چلا ہے
آئی ہے تری گلی سے ہو کر
سرمست وگرنہ کیوں ہوا ہے
ماجِد یہ شریر موسمِ گلُ
تیری ہی طرح کا منچلا ہے
ماجد صدیقی

جو سیر کر دے رُوح کو ایسا کوئی منظر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
یادوں کا نقشِ دلنشیں دِل میں کوئی کیونکر نہیں
جو سیر کر دے رُوح کو ایسا کوئی منظر نہیں
وُہ جس جگہ ہے اُس جگہ جانا کسی کا سہل کب
تُجھ بِن صبا! اپنا کوئی اب اور نامہ بر نہیں
ہم آپ تو ہیں دمبخود،ہم سے ملے جو وہ کہے
تُم لوگ ہو جس جَیش میں اُس کا کوئی رہبر نہیں
ہے کس جگہ چلنا ہمیں رُکنا کہاں بِچھنا کہاں
ہے درس ایسا کون سا وُہ جو ہمیں ازبر نہیں
جو دب گیا وُہ صید ہے،چڑھ دوڑتا صیّاد ہے
ابنائے آدم ہیں جہاں،بالائے خیر و شر نہیں
کُچھ یہ کہیں کُچھ وہ کہیں ہم کیاکہیں کیا ٹھیک ہے
ماجِد ہی ذی دانش یہاں، ماجِد ہی دانشور نہیں
ماجد صدیقی

ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
ہے اگر زندہ تو آ اور رقص کر
ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر
خود کو پودوں، اور گُلوں میں ڈھال لے
آنکھ میں رُت کی سما اور رقص کر
فرش سے تا عرش یُوں بھی لَو لگا
چاہتوں کے پر بنا اور رقص کر
مُحتسب کی آنکھ سے بچ کر کبھی
مان لے تن کا کہا اور رقص کر
ہے اگر اِک یہ بھی اندازِ حیات
ہاتھ میں ساغر اُٹھا اور رقص کر
دیکھ یُوں بھی اپنے ماجِد کو کبھی
ظرف اِس کا آزما اور رقص کر
ماجد صدیقی

دریا میں وفور آب کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
ہر سُو جو چھلک چھلک چلا ہے
دریا میں وفور آب کا ہے
چُوزوں ہی پہ چِیل چِیل جِھپٹے
مظلوم ہی دار پر کِھنچا ہے
اب تک نہ لگا کسی کنارے
لب پر جو سفینۂ دُعا ہے
ذرّے مجھے مہر دیں دکھائی
قدموں میں لگے ،بِچھی ضیا ہے
چندا میں ہے اُس کا چاند چہرہ
اور ایلچی اُس کی یہ صبا ہے
مُونس ہے ہر اِک لُٹے پُٹے کا
ماجِد کہ نِعَم میں خود پلا ہے
ماجد صدیقی

رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہر جسم پہ گرد کی ردا ہے
رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے
وُہ دوستی ہو کہ دُشمنی ہو
اِک کرب ہے دُوسری بلا ہے
دیتا ہے افق افق دکھائی
اک شخص کہ چاند سا ڈھلا ہے
کیا درس دِلا رہا ہے دیکھو!
پانی پہ جو بُلبُلہ اُٹھا ہے
بدلی نئی رُت نے اور کروٹ
پِھر شاخ پہ تازہ چہچہا ہے
پہچان کب اس کی جانے ہو گی
ماجِد کہ جو کُنج میں پڑا ہے
ماجد صدیقی

کیا اور نجانے دیکھنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
ہر سمت ہی حشر اِک بپا ہے
کیا اور نجانے دیکھنا ہے
نِت اپنی جھلک دکھانے آئے
وُہ بُوم کہ بام پر بسا ہے
اِک اور کی ڈور سے وُہ دیکھو
اِک اور پتنگ لُٹ چلا ہے
جارِح کو گئے تھے جو دکھانے
وُہ زخم تو پھر بھی اَن سِلا ہے
گر دِل نہ رکاوٹوں کو مانے
مشکل ہو کوئی بھی سو وُہ کیا ہے
دِن کتنے ہیں اور کام کتنے
ماجِد تُجھے یہ بھی سوچنا ہے
ماجد صدیقی

ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
ہر آن بدن پہ بوجھ سا ہے
ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے
جس میں نیا رنج روز اُترے
دِل ایسا ہی فرد آئنہ ہے
ہر سمت شروع میں سفر کے
دیکھا ہے جِدھر بھنور نیا ہے
رفعت کا ہے جو بھی اگلا زینہ
لاریب وُہ قوّت آزما ہے
اعصاب پڑے ہیں ماند جب سے
ہر تازہ سفر کٹھن سَوا ہے
بارش کو ترستا مُرغِ گِریاں
ماجِد! ترا حرفِ مُدّعا ہے
ماجد صدیقی

صحرا میں یہ موجۂ صبا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
ہونٹوں پہ جو بول پیار کا ہے
صحرا میں یہ موجۂ صبا ہے
پُونجی کسی بُلبُلے کی جیسے
اِس زیست میں اور کیا دھرا ہے
باز آئے نہ لوٹنے سے سورج
دیکھاہے یہی، یہی سُنا ہے
بندھنی ہے جو آتے موسموں میں
اپنے ہی سخن کی وُہ ہوا ہے
ہر میمنہ گُرگ سے کہے یہ
جو آپ کہیں وُہی بجا ہے
سہہ جائے تُو تُند و تُرش کیا کیا
ماجِد ترا حوصلہ بڑا ہے
ماجد صدیقی

ایم سی ایس اک اور بھی آپ نے کرنا ہو گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
نرم روی اپنا کے اور سُدھرنا ہو گا
ایم سی ایس اک اور بھی آپ نے کرنا ہو گا
اندر کی ٹھنڈک سے رکھ کے پروں کو سلامت
پار بکھیڑوں کے صحرا سے اترنا ہو گا
تازہ عزم و عمل اپنا کے گُن دکھلاکے
جیون میں اک رنگ نیا نت بھرنا ہو گا
شام کی گرد میں کھو کے اور پھر تازہ ہو کے
وادیٔ شب سے مثل گلوں کے ابھرنا ہو گا
رکھنا ہو گا پاس سدا ننھوں کی رضا کا
آپ سے ننھوں کو ہرگز نہیں ڈرنا ہو گا
جینے کے فن سے لے کر تخلیقِ سخن تک
اک اک میں کھو جانا اور نکھرنا ہو گا
آپ کا جیون سہل ہوا گر یاور بیٹے
آسودہ ماجِد نے بھی توٹھہرنا ہو گا
مئی۲۰۰۷ء نیپیروِل۔امریکہ
ماجد صدیقی

زمین کیا ہے، فضا کیا ہے، آسماں کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
نگاہ میں ہے جو منظر بہ جُز گماں کیا ہے
زمین کیا ہے، فضا کیا ہے، آسماں کیا ہے
یہ جانتے ہیں مسافر فقط اندھیروں کے
ستارۂ سحری کیا ہے، کہکشاں کیا ہے
نظر میں لا کے تنِ برگِ زرد کا لرزہ
کُھلا یہ ہم پہ کہ اندیشۂ خزاں کیا ہے
گدا گدا ہے سو کُتّوں کا سامنا ہے اُسے
غنی کے واسطے آوازۂ سگاں کیا ہے
زوالِ عمر تلک ہم نہ سُرخرو ٹھہرے
حیات!تُجھ سا کوئی اور امتحاں کیا ہے
کوئی رہا ہے نہ ماجِد کسی نے رہنا ہے
تو پھر یہ مضحکۂ رنجِ رفتگاں کیا ہے
ماجد صدیقی

جہان دیکھتا اپنا سلوک کیا ہوتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
ملا نہ تخت ہمیں اور اگر ملا ہوتا
جہان دیکھتا اپنا سلوک کیا ہوتا
کھلے کی دھوپ میں کوئی تو آسرا ہوتا
وہ چاہے سایہ کسی گرد باد کا ہوتا
نظامِ دہر نجانے سنبھالتا کیسے
ہُوا بہشت بدر جو اگر خدا ہوتا
ماجد صدیقی

جابر کی یہی تو اِک ادا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
کہہ دے جو وُہ ہوتے دیکھتا ہے
جابر کی یہی تو اِک ادا ہے
لے عفو سے کام ،لے سکے گر
ہاں ہاں یہی وصفِ بے ریا ہے
اُجلا ہے تو دامنِ بداں ہے
تر خوں سے مری تری قبا ہے
رکھ تازگی تُو مری سلامت
مولا یہی اِک مری دُعا ہے
پنپی ہے یہ کس کی نیّتِ بد
ماحول میں زہر سا گُھلا ہے
ماجد صدیقی

ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کھینچتے ہر صبح کی مت شام کر
ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر
اے کہ تُو چاہے کرے شیروں کو زیر
اولاً چڑیاں چمن کی رام کر
جس طرف تیرا گزر ہو اے کلرک!
اُس سڑک کی کُل ٹریفک جام کر
اے دلِ نادان!سب کچھ جاں پہ سہہ
مت مچا تُو شور،مت کُہرام کر
جو بھی دے ماجِد جنم وُہ ہے عظیم
ہو سکے تو دیس کو خوش نام کر
ماجد صدیقی

اُس پہ کوئی نظم پِھر لکھ لایئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
کرب کوئی سوچ کر سو جایئے
اُس پہ کوئی نظم پِھر لکھ لایئے
آپ بِن چاہے جو طوطے بن گئے
اِک سبق ہی زیست بھر دُہرائیے
لا کے پنجوں میں کہاں چھوڑے گا باز
یہ رعایت ذہن میں مت لائیے
پُوری کشتی ہو شکنجے میں تو پھر
کُود کر گرداب ہی میں جایئے
پھیلئے تو مثلِ خُوشبو پھیلئے
چھایئے تو ابر بن کر چھایئے
آپ سے بہتر ہو گر نسل آپ کی
اور کسی حاصل کو مت للچایئے
تُم کہ ماجِد ابکے امریکہ میں ہو
گُن کُچھ اپنے بھی یہاں گِنوایئے
ماجد صدیقی

ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
کرے تو اور ہی وہ احتساب کرتا ہے
ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے
سنان و تیر و کماں توڑ دے اُسی پر وہ
ستم کشی کو جسے انتخاب کرتا ہے
دمکتا اور جھلکتا ہے برگِ سبز سے کیوں؟
وہ برگِ زرد سے کیوں اجتناب کرتا ہے
بھلے جھلک نہ دکھائے وہ اپنے پیاروں کو
بُلا کے طُور پہ کیوں لاجواب کرتا ہے
گلوں میں عکس وہ ماجد دکھائے خود اپنے
کلی کلی کو وہی بے نقاب کرتا ہے
ماجد صدیقی

یہ ایک شمعِ سخن ہم نے جو جلائی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
ضیائے دہر، اندھیروں میں کھینچ لائی ہے
یہ ایک شمعِ سخن ہم نے جو جلائی ہے
کوئی کوئی ہے خُلیفہ خُدا کا ایسا بھی
تمام خلق میں جس کے سبب دُہائی ہے
مِلا ہے زاغ کو ٹُکڑا کہیں سے روٹی کا
اور ایک جُھنڈ کی اُس ایک پر چڑھائی ہے
بہ حقِ ہم نفساں ہے جو شر، یہ انساں ہے
کہ کل بھی جس نے قیامت نئی اُٹھائی ہے
نجانے کتنے دھڑوں میں ہے منقسم ٹھہری
وُہ نسل، روزِ ازل سے جو بھائی بھائی ہے
لگا رہا ہے تُو کیوں اِس کو داؤ پر ماجِد!
یہ آن ہی تو تری زیست کی کمائی ہے
ماجد صدیقی

سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
شہر کی ناآسودگیاں اور اُجڑی یادیں گاؤں کی
سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی
آمر آمر کے سائے میں خلقِ خدا نے پنپنا کیا
رات کی رانی پلنے لگی ہے کوُکھ میں کب صحراؤں کی
وہ بھی کسی کسی بختاور کے حصے میں آتی ہے
آخر کو سرہانے سجتی ہے جو تختی ناؤں کی
کھیل میں بد خُلقی کے ناتے وہ کہ ہے جو شہ زور بنا
زِچ لگتا ہے کیا کیا،کوشش کرتے آخری داؤں کی
بھلے وہ حق میں ہو اولاد کے، خالص اور پوِتّر بھی
پھولنے پھلنے پائی ہے کب چاہت بیوہ ماؤں کی
ہم کہ جنموں کے ہیں مسافر مغوی طیّاروں کے،ہمیں
جانے کیا کیا باقی ہے ملنی تعزِیر خطاؤں کی
بادلوں میں بھی دیکھو ماجِد ابکے یہ کیا پھوٹ پڑی
چھائے دشت نوردوں کے سر ٹُکڑی ٹُکڑی چھاؤں کی
23مارچ07 کواسلام آباد سے امریکہ کے سفر کے دوران فلائٹBA-128میں لکھی گئی ایک غزل
ماجد صدیقی

ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
شیر کی کھال مستعار مِلے
ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے
تھے وہ درباریوں کے چھوڑے ہوئے
جو پرندے پئے شکار مِلے
ڑُخ بہ رُخ چاہے گردِ جَور سجے
تخت کو اور بھی نکھار ملے
جو بھی ہے دردمندِ خلق اُس کو
اور کیا جُز فرازِ دار مِلے
جو خلافِ فرعون اُٹّھی تھی
لب بہ لب کیوں وہی پُکار مِلے
کاسہ لیسوں میں اک سے اک تازہ
جو ملے وہ وفا شعار مِلے
وہ جو لائے بقائے حفظِ عوام
کون ماجِد کو ایسا یار مِلے
ماجد صدیقی

تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
شاخ پہ برگِ زرد ہی کیوں ٹھہرائے مجھے
تُند ہوا آ آ کر کیوں دہلائے مجھے
بادل میرے نام اُمڈ کے نہ برسے جو
ڈال کے لیت و لعل میں کیوں ترسائے مجھے
میری ولی عہدی کیونکر تسلیم نہیں
بات یہ بس دربار کی ہے کھولائے مجھے
پل پل جس کی میں نے خیر طلب کی ہے
خلق بھی کچھ تو میرا دیا لوٹائے مجھے
مجھے ملے پھل میرے سینچے پودے کا
اور نہ ملے تو چَین بھلا کیوں آئے مجھے
اپنے لفظ ہی ٹھہریں پُھونک مسیحا کی
ایسا کون ہے ماجِد جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

یار تک، بے وفا نِرا نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
ربطِ باہم کا یہ سِرا نکلا
یار تک، بے وفا نِرا نکلا
کھیل میں ٹیڑھ جو، قصور تھا جو
اور کسی کا نہیں مِرا نکلا
ہوشمند اِک مجھے ہی رہنا تھا
جو مِلا مجھ سے سرپِھرا نکلا
جتنا پیندا تھا دل کی ناؤ کا
آبِ دشمن میں ہی گِھرا نکلا
جو مزہ قُربِ دوستاں کا تھا
آخرش وہ بھی کِرکِرا نکلا
تیرا سایہ تلک بھی اے ماجِد!
جانے کیوں مُحتسب ترا نکلا
ماجد صدیقی

اے لرزتے زرد پتّے مت خزاں کی بات کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
خاک میں ملنے پہ در آتے زماں کی بات کر
اے لرزتے زرد پتّے مت خزاں کی بات کر
تیرنے کو ہیں یہ نیّائیں فراتِ زیست میں
بات کر ایقان کی یا تُو گماں کی بات کر
ہاں وہی جو ہم نے حفظِ جاں کو حاصل کی نہیں
اور ہمیں پر جو تنی ہے اُس کماں کی بات کر
جس کے فیض و غیض ہر دو میں دوگونہ لطف ہے
چھوڑ سارے مخمصے اُس جانِ جاں کی بات کر
ہم فرشتے تو نہیں،نوری ہوں کیا خاکی سے ہم
اے زمیں زادے! نہ ہر دم آسماں کی بات کر
غیر ہیں جو گنبد و مِینار ماجِد کیا ہیں وُہ
دیس سے نکلا ہے اپنے آستاں کی بات کر
ماجد صدیقی

برسے غضب ، جو قسطوں میں مرنے سے بچا لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
چوزوں جیسا، پروں تلے سے اُچک لے، اٹھا لے
برسے غضب ، جو قسطوں میں مرنے سے بچا لے
ماجد صدیقی

میرا وُہی اُس سے واسطہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
چھت کو جو ستوں کا آسرا ہے
میرا وُہی اُس سے واسطہ ہے
اُترا ہے کہاں کہاں سے جانے
نس نس میں جو زہر سا بھرا ہے
اپنائیں نہ خاک و باد جِس کو
وُہ پیڑ بھلا کہاں پھلا ہے
کیوں بات یہ، ناتواں نہ جانے
کب شیر شکار سے ٹلا ہے
حاوی ہے جو ہر کہیں سروں پر
ناوقت وُہ مِہر کب ڈھلا ہے
جو عمر گزشتنی ہے ماجِد!
بِیتے بھی تو اُس کا رمزکیا ہے
ماجد صدیقی

وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
جس سے بن بھی آئے، رہے ہے ان بن بھی
وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی
ناداری دکھلائے سگی ماؤں میں بھی
اپنائیت بھی اور سوتیلا پن بھی
اپنے عزیز و اقارب راضی رکھنے کو
تن من بھی لگتا ہے، لگتا ہے دھن بھی
جیسے ہو بھونچال کا شور فضاؤں میں
گُونجے ہے یوں گاہے دل کی دھڑکن بھی
سب سے بڑا ہے داعیٔ امن بھی انساں ہی
اور انسانوں میں پڑتے ہیں رَن بھی
ناآگاہ ترے اخلاص سے اہلِ جہاں
کُھلا نہیں ماجِد اِن سب پہ ترا فن بھی
ماجد صدیقی

موجۂ آبِ رواں یاد آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
جب ترا لطفِ نہاں یاد آئے
موجۂ آبِ رواں یاد آئے
تجھ سے خسارہ پیار میں پا کے
سُود نہ کوئی زیاں یاد آئے
تیور جب بھی فلک کے دیکھوں
تجھ ابرو کی کماں یاد آئے
راج پاٹ جب دل کا جانچوں
تجھ سا رشکِ شہاں یاد آئے
ہاں ہاں ہر دو بچھڑے مجھ سے
بزم تری کہ جناں یاد آئے
چاند اور لہر کے ربط سے ماجِد
کس کا زورِ بیاں یاد آئے
ماجد صدیقی

دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
جس کا اندر جنّت کے اندر سا ہو
دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو
بیشک دِل اُس میں اُلجھے پر فتنہ وُہ
زن سا اور زمیں اور نہ زر سا ہو
رحمتِ یزداں تک سے بھی وہ ڈر جائے
جس کھیتی پر بادل ٹوٹ کے برسا ہو
اُس خطّے میں اچّھے دن کم کم آئیں
تخت جہاں کا بھی حقدار کو ترسا ہو
گُنی بہت اور اپنی آن کا رکھوالا
جس کا بیٹا ہو میرے یاور سا ہو
اپنے یہاں گھر بار کے سب دکھ سہنے کو
حوصلہ ہو تو ماجِد وُہ ساگر سا ہو
ماجد صدیقی

اور پیرایہ نہ تھا اظہار کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
ترجماں لرزہ تھا بس بیمار کا
اور پیرایہ نہ تھا اظہار کا
یہ چلن اب نِت کا ہے، اخبار کا
اِک نہ اِک لائے بگولہ نار کا
استطاعت ہو تو پڑھ لو ہر کہیں
رُخ بہ رُخ اِک نرخ ہے بازار کا
تاب کیا کیا دے گیا ابلیس کو
اِک ذرا سا حوصلہ انکار کا
ہم کہ ہیں ہر پل سکوں نا آشنا
ہے یہ فتنہ دیدۂ بیدار کا
ہو سخن ماجِد کا یا خلقِ خُدا
حال مندا ہے ہر اِک شہکار کا
ماجد صدیقی

شجر پہ پات تھے جتنے وہ زرد ہونے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے
شجر پہ پات تھے جتنے وہ زرد ہونے لگے
وہی جو کھینچ کے لائے تھے کشتیوں سے ہمیں
بھنور کے بیچ وہ ناؤ ہیں اب ڈبونے لگے
کٹے ہیں جن کے بھی رشتے کہ تھے جو جزو بدن
سکوں کی نیند بھلا وہ کہاں ہیں سونے لگے
ہیں جتنے دل بھی غرض کی تپش سے بنجرہیں
یہ ہم کہاں ہیں محبت کے بیج بونے لگے
یہ واقعہ ہے کہ وہ حبسِدم سے ہو آزاد
بحال کرب کوئی، جب بھی کھُل کے رونے لگے
ملے جو شاہ بھی تقلیلِ رزقِ خلق سے وُہ
رگوں میں جبر کے نشتر نئے چبھونے لگے
ترے یہ حرف کہ جگنو ہیں ا شک ہیں ماجد
ہیں سانس سانس میں، کیا کیا گہر پرونے لگے
ماجد صدیقی

بدلیں چمن کے بس ایسے سارے ہی اصول تو کیا اچّھا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
پھول پہ منڈلاتی تتلی لے بھاگے پُھول تو کیا اچّھا ہو
بدلیں چمن کے بس ایسے سارے ہی اصول تو کیا اچّھا ہو
ہجر کی گھڑیاں بُجھتی سی چنگاریوں سی راکھ ہوتی جائیں
اُس کے وصل کا لمحہ لمحہ پکڑے طُول تو کیا اچّھا ہو
جو پودا بھی بیج سے پھوٹے کاش وہ پودا سرو نشاں ہو
خاک پہ اُگنے ہی سے اگر باز آئیں ببول تو کیا اچّھا ہو
کاش ہماری جلدوں کے اندر سے جھلکے علم کا غازہ
اپنے چہروں سے دھل جائے جُہل کی دھول تو کیا اچّھا ہو
جس سے بہم میدانِ عمل ہو پھر سے کسی گستاخِ خدا کو
گاہے گاہے سرزد ہو گر ہم سے وہ بھول تو کیا اچّھا ہو
ماجِد کرتے رہو نت تازہ اپنے گلشنِ ذہن کا منظر
پیڑوں سے جھڑ جھڑجائے جو کچھ ہو فضول تو کیا اچّھا ہو
ماجد صدیقی

بادل کہ نشے میں جُھومتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
پاس اُس کے بہت پئے عطا ہے
بادل کہ نشے میں جُھومتا ہے
اُن سب کا کہ سنگدل ہیں جو
ہے جو بھی ستم سو برملا ہے
بچّے کو بہت ہے ہاتھ میں گر
اُس کے کوئی ایک جھنجھنا ہے
راحت پہ مقّربان کے بھی
دیکھا ہے جسے جلا کٹا ہے
پِھر پِھرنے لگیں کسی کی نظریں
پِھر ہاتھ مرا کہیں اُٹھا ہے
ماجِد ہے کہ نیم قرن سے جو
کُچھ پائے بِناں غزل سرا ہے
ماجد صدیقی

ربّ عالم پناہ میں رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
پاندھیوں کو نہ راہ میں رکھنا
ربّ عالم پناہ میں رکھنا
عرش تک کو ہِلا کے جو رکھ دے
تاب ایسی بھی آہ میں رکھنا
لے نہ بیٹھیں یہ باتفنگ تمہیں
کوئی مُخبر سپاہ میں رکھنا
شیر جو ہو گیا ہے آدم خور
اُس کی یہ خُو نگاہ میں رکھنا
تاجور! نسخۂ حصولِ تخت
سینت رکھنا، کُلاہ میں رکھنا
ہو جو ماجِد سُخن پسند تو پِھر
فرق کیا واہ واہ میں رکھنا
ماجد صدیقی

میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
باپ تھا بیٹے کا اب پوتے کا دادا ہُوں
میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں
اپنی نسل کے بڑھنے کا بھی سرور عجب ہے
میں جو ایک تھا اپنے آپ میں سَو لگتا ہوں
میرے انگناں اُتری ہے پھر صبحِ درخشاں
جس کی کرنوں سے میں اور دمک اُٹھا ہوں
میری جبیں اب اور منوّر ہونے لگی ہے
میں کہ شبانِ پیہم کا اِک جلتا دِیا ہوں
میرے جَنے ہوں گے کچھ اور لطافت پیشہ
میں جو گُلوں بگھیوں پر تتلی سا اُڑتا ہوں
اُس کی حیات میں، اُس کے فروغ میں، میری بقا ہے
اُس کے جنم کے ناتے میں ذی شان ہُوا ہوں
ماجِد فیض مرے ملکِ آزاد کا ہے یہ
ملک سے باہر بھی اب میں جیتا بستا ہوں
ماجد صدیقی

بَیری بھی اُنہی کی وُہ ہوا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
پتّوں کی جو ماں ہے مامتا ہے
بَیری بھی اُنہی کی وُہ ہوا ہے
لپٹا ہُوا بھید بھید میں ہے
وہ بھید جو سب پہ اَن کھلا ہے
ماجد صدیقی

وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
اب خُدا سے بھی مجھے کہنے میں یہ، کُچھ ڈر نہیں
وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں
نیّتیں بھی جب نہیں ہیں صاف، نظریں بھی علیل
کب یہ مانیں ہم کہ خرمن میں کوئی اخگر نہیں
جانے کیا ہے جو بھی رُت بدلے رہے رنگ ایک سا
حال جو پہلے تھا،اُس سے اب بھی کُچھ بہتر نہیں
بس فقط اُلٹا ہے تختہ اور کُچھ جانیں گئیں
بہرِ غاصب،فرق یُوں ہونے میں ذرّہ بھر نہیں
بچپنے سے رگ بہ رگ تھا جو رچاؤ لُطف کا
دیس کے اندر بہت ہے،دیس سے باہر نہیں
آخرش ایسا ہی ماجِد ہر کہیں ہو گا رقم
تُم نے اپنا نام کب لکّھا بہ آبِ زر نہیں
ماجد صدیقی

جذبۂ رشک و رقابت ہے جگر میں اُترا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
اُس سے جو فرقِ ممالک ہے نظر میں اُترا
جذبۂ رشک و رقابت ہے جگر میں اُترا
کاش یہ سوچتا میں ساکھ نہ کھو دوں اپنی
میں کہ تھا پہلے پہل پہلوئے شر میں اُترا
ماجد صدیقی

چنگاری کو رقصاں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
اُس کا حسنِ درخشاں دیکھا
چنگاری کو رقصاں دیکھا
تھوڑ ہی تھوڑ رہی خوشیوں کی
رنج ہی رنج فراواں دیکھا
چاند اُسے ہی رگیدنے آیا
جو تارا بھی نمایاں دیکھا
جسم پگھل کے چٹختا لاگے
روح کو جب سے پرِیشاں دیکھا
گل پہ نجانے اوس پڑی کیا
صبح اسے بھی گریاں دیکھا
بام و افق سے ہم نے اکثر
حسن کو آنکھ پہ عریاں دیکھا
وجد سے پھر نکلا نہ وہ جس نے
ماجد! تجھ کو غزلخواں دیکھا
ماجد صدیقی

اور مقیّد ہو کے نہروں کی روانی ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ابر بردوشِ ہوا رہ کر بھی پانی ہو گیا
اور مقیّد ہو کے نہروں کی روانی ہو گیا
لطفِ باراں سے، شگفتِ گُل سے جو منسوب تھا
ہاں وہی مضموں ادا میری زبانی ہو گیا
وہ کہ کہلاتا رہا تھا لالۂ صحرا کبھی
رنگ و خوشبو کی کشش سے میرا جانی ہو گیا
اُس نے اہلِ خاک سے پھر رابطہ رکھا نہیں
جس کو کچھ رفعت ملی وہ آسمانی ہو گیا
خواب میں اکثر لگا ایسا کہ صبح جاگتے
میں بھی اوروں کی طرح قصّہ کہانی ہو گیا
کھو کے سارے رنگ گردآلود، زنگ آلود سا
دل بھی ہے گزرے زمانوں کی نشانی ہو گیا
ہاں وہی ماجِد کہ تھا صورت گرِ جذبات جو
مانتے ہیں سب کہ ہے بہزاد و مانی ہو گیا
ماجد صدیقی

آندھی کب آداب اپنائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
آئے اور کہرام مچائے
آندھی کب آداب اپنائے
ہم پہ نگاہ پڑی ہے رُت کی
اُڑتی ریت ہمیں سہلائے
دکھلائیں ہر قد کو بڑھا کے
پچھلے پہر کے بڑھتے سائے
راہی ہمیشہ راہ نکالے
سانپ ہمیشہ پھن پھیلائے
بندہ خوشی خوشی کو پا کر
بچوں ایسی پینگ جُھلائے
وقت کی اَن جانی چالوں سے
کوہ بدن کا کُھرتا جائے
ماجد پائے رواں کیوں ٹھہرے
جب تک سانس نہ رُکنے پائے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑