تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

غزل سرا

پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
یہ انتظار ہی عنواں ہے اَب تو جینے کا
پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا
بدک کے ثقلِ سماعت سے اہلِ مکّہ کی
جو اہلِ حق ہے مسافر ہے اَب مدینے کا
یقیں اُنہیں بھی خُدا پر ہے بہرِ رزق جنہیں
ہے آسرا کسی پتّھر، کسی نگینے کا
بہ دَورِ نو کسی تنخواہ دار کے گھر کا
حیات، ہفتۂ آخر لگے مہینے کا
ہَوا نے دی سرِ ساحل یہی خبر آ کر
کھُلا نہیں تھا ابھی بادباں سفینے کا
تُو خاک زاد ہے اور جان لے کہ اے ماجدؔ
گُہر نہیں کوئی قطرہ ترے پسینے کا
ماجد صدیقی
Advertisements

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

قدم قدم ہے مرا پل صراط پر جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
ہُوا ہے درپئے جاں اَب تو ہر سفر جیسے
قدم قدم ہے مرا پل صراط پر جیسے
سُجھا رہی ہیں یہی نامرادیاں اپنی
رہیں گے آنکھ میں کنکر یہ عمر بھر جیسے
سفر میں ہُوں پہ وُہ خدشات ہیں کہ لگتا ہے
جھُلس رہا ہو سرِ راہ ہر نگر جیسے
کہیں تو بات بھلا دل کی جا کے کس سے کہیں
بچھڑ کے رہ گئے سارے ہی ہم نظر جیسے
لپک رہا ہوں مسلسل مگر نہ ہاتھ آئے
کٹی پتنگ ہو اُمید کی سحر جیسے
دہن دہن سے زباں جھڑ گئی ہے یُوں ماجدؔ
خزاں کے دور میں بے برگ ہوں شجر جیسے
ماجد صدیقی

وُہ مہرباں تھا تو دل کو گمان کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
ہمارے زیرِ قدم آسمان کیا کیا تھے
وُہ مہرباں تھا تو دل کو گمان کیا کیا تھے
چمن کو راس فضا جن دنوں تھی موسم کی
شجر شجر پہ تنے سائبان کیا کیا تھے
کھُلا زمین کے قدموں تلے سے کھنچنے سے
کہ اوجِ فرق کے سُود و زیان کیا کیا تھے
یہ بھید وسعتِ صحرا میں ہم پہ جا کے کھُلا
کہ شہرِ درد میں ہم بے زبان کیا کیا تھے
ہمیں ہی مل نہ سکا، وُہ بہر قدم ورنہ
مہ و گلاب سے اُس کے نشان کیا کیا تھے
نہ سرخرو کبھی جن سے ہوئے تھے ہم ماجدؔ
دل و نگاہ کے وُہ امتحان کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

دشت پر سے بادل کو لے اُڑے ہوا جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ہو چلی ہے ہر آشا یُوں گریز پا جیسے
دشت پر سے بادل کو لے اُڑے ہوا جیسے
کھِل نہیں سکی اُس کے سامنے کلی دل کی
دب گیا ہے ہونٹوں میں حرفِ مدّعا جیسے
چشم و لب کے آنگن میں ہو غرض کا موسم تو
بن کے بیٹھ رہتا ہے ہر کوئی خُدا جیسے
حال ہے کچھ ایسا ہی آج کے مؤرخ کا
داستاں لکھے اپنی کوئی بیسوا جیسے
رو پڑا ہے کیوں، دیکھو، ہاتھ میں سے بچّے کے
گِر گیا ہے، لگتا ہے، پھر سے جھنجھنا جیسے
اِس زمیں کا ہر خطّہ حرص کے حوالوں سے
یُوں لگے کہ ہونا ہو دشتِ کربلا جیسے
دل کی بات بھی ماجدؔ کھوکھلی ہوئی ایسی
زیرِ آب سے اُٹھے موجۂ صدا جیسے
ماجد صدیقی

جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
ہم بہاروں کے طالب تھے لیکن رُتوں کی رضا اور تھی
جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی
وُہ کہ جس کو تقاضا رہا ہم سے اظہارِ آزار کا
دل کو لائے زباں پر تو اُس انجمن کی فضا اور تھی
ہم تو ہر بات کو اُس کی، اخلاص کا رنگ دیتے رہے
ہم کو احساس ہی کب یہ تھا نیّتِ آشنااور تھی
اِس عجوبے کو ہم کیا کہیں جب چمن ہی قفس بن گیا
ساتھ لاتی تھی اپنے جو نزہت کبھی وہ صبا اور تھی
ساتھ لیکر جو چلتے تھے اوروں کو وہ رہنما اور تھے
کان میں گھولتی تھی جو رس ہمسری کا، صدااور تھی
سنگ دل تھے جو، اِس کو وُہی راکھ کا ڈھیر سمجھا کئے
دل کی ماجدؔ وگرنہ بہ ایں بے بسی بھی بہا اور تھی
ماجد صدیقی

تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ہُوا ہے سچ مچ یہی کہ مَیں نے یہ خواب دیکھا
تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا
خُدا سے بھی ہے سلوک میرا معاوضے کا
کِیا ہے میں نے وُہی جو کارِ ثواب دیکھا
بھرا ہے کیا کیا نجانے چھالوں میں اپنے پانی
بہ دشتِ اُمید جانے کیا کیا سراب دیکھا
چھڑا جو قّصہ کبھی غلاموں کی منفعت کا
سخن میں آقاؤں کے نہ کیا اجتناب دیکھا
کسی عمارت پہ لوحِ کم مائیگاں نہ لٹکے
بڑے بڑوں ہی کے نام یہ انتساب دیکھا
پہنچ میں آیا جو بچّۂ میش بھیڑئیے کی
ندی کنارے اُسی کا ہے احتساب دیکھا
نہ بچ سکا تو بھی خود فریبی کی دلکشی سے
ترے بھی بالوں میں اب کے ماجدؔ خضاب دیکھا
ماجد صدیقی

حال مخالف تھے سب کے سب دریا میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
ہم نے اُتارا جس دم مرکب دریا میں
حال مخالف تھے سب کے سب دریا میں
جب سے کنارے اُس کے تُجھ سے ملن ٹھہرا
اُترے آس کے کیا کیا کوکب دریا میں
ہر تنکے ہر پیڑ کو جو جتلاتا تھا
زور نہیں وہ پہلا سا اب دریا میں
ہاتھ میں چپّو تان لئے تو ڈرنا کیا
عمر کٹے یا کٹ جائے شب دریا میں
رنج نظر کا آخر آنکھ میں تیرے گا
لاش دبی رہتی ہے بھلا کب دریا میں
چاہت نے اسباب نہ دیکھے تھے ماجدؔ
کھُرتی خاک لئے اُتری جب دریا میں
ماجد صدیقی

آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
وحشتِ انسان کیا کیا رنگ دکھلانے لگی
آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی
دیکھئے اگلی رُتوں میں سرخروئی کو ہوا
کس طرح بے پیرہن شاخوں کو سہلانے لگی
کتنی چیزوں سے ہٹا کر، جانے ماں کی مامتا
دھیان بچّے کا، اُسے باتوں سے بہلانے لگی
لو بحقِ امن اپنی نغمگی کے زعم میں
فاختہ بھی دشتِ وحشت میں ہے اِترانے لگی
ظلمتِ شب کچھ بتا اُٹھی ہے کیسی چیخ سی
جبر کی ڈائن کِسے کّچا چبا جانے لگی
جھینپنا کیا، سچ اگر نکلی ہے، پّلے باندھ کر
وقت کی مریم، بھلا کاہے کو شرمانے لگی
دم بخود اتنا بھی ہو ماجدؔ نہ جلتی دُھوپ سے
آسماں پر دیکھ وُہ بدلی سی اک چھانے لگی
ماجد صدیقی

ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 83
وُہ رُوئے روشن، وُہ حسن کا انتخاب آئے
ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے
سوال جو بھی کرو گے اس گنبدِ فلک میں
تمہارا اپنا کہا ہی بن کر جواب آئے
وُہ گل بہ شاخِ نظر ہو یا آس کا ثمر ہو
جِسے بھی آنا ہے پاس اپنے شتاب آئے
کھِنچا کھنچا سا لگے وُہ سانسوں میں بسنے والا
برس ہوئے ہیں ہمِیں پہ اِک یہ عتاب آئے
جھُلانے آئیں نہ رات کی رانیوں سی نیندیں
نہ لوریوں کو کہیں کوئی ماہتاب آئے
فلک سے اُتری ہے برق کب بُوند بُوند ماجدؔ
زدستِ انساں ہی خاک پر ہر عذاب آئے
ماجد صدیقی

ہر ایک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
وہاں فلک پہ ستاروں نے کیا ابُھرنا ہے
ہر ایک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے
نجانے کتنے درندوں کی ہیں کمیں گاہیں
وُہ گھاٹیاں کہ جنہیں ہم نے پار کرنا ہے
کسی نگاہ میں آئے کب اُس کی پامالی
وُہ حسن عید کے دن ہی جِسے نکھرنا ہے
یہ دور وُہ ہے کہ ہر شب کسی خبر نے ہمیں
ہوا کے دوش پہ آ کر اداس کرنا ہے
سکھا دئیے ہیں جو کرتب کسی مداری نے
اَب اُن سے بڑھ کے بھی بندر نے کیا سُدھرنا ہے
ہمیں ہے اُس سے تقاضائے لُطفِ جاں ماجدؔ
وُہ جس کی خُوہی ہر اک بات سے مُکرنا ہے
ماجد صدیقی

کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
وُہ مرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکھ کر
کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر
حرفِ حق پر ہے گماں کُچھ اور ہی
ہاتھ میں بچّوں کے پتھر دیکھ کر
کیا کہوں کھٹکا تھا کس اِنکار کا
کیوں پلٹ آیا ہُوں وُہ در دیکھ کر
آنکھ میں رقصاں ہے کیا سیندھور سا
آ رہا ہوں کس کا پیکر دیکھ کر
بال آنے پر جُڑے شیشہ کہاں
کہہ رہا ہے آئنہ گر، دیکھ کر
یاد آتا ہے وُہ کم آمیز کیوں
جیب میں مزدور کی زر دیکھ کر
دیکھنا ماجدؔ، دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
ماجد صدیقی

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

تنِ عریاں پہ قبا لاگے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
مہرباں جب وُہ ذرا لاگے ہے
تنِ عریاں پہ قبا لاگے ہے
ساتھ لے آئے قفس تک خوشبُو
سنگدل کیا یہ ہوا لاگے ہے
عجز نے دن وُہ دکھائے کہ ہمیں
اَب تو انساں بھی خدا لاگے ہے
آنکھ کھلتے سرِ اخبار سحر
حرف در حرف چِتا لاگے ہے
جو بھی لاتا ہوں زباں پر اکثر
کیوں وُہ پہلے سے کہا لاگے ہے
جُز کسی سادہ منش کے ماجدؔ
کون پابندِ وفا لاگے ہے
ماجد صدیقی

کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
محتاج کو جب سے ٹال آئے
کیا کیا نہ ہمیں خیال آئے
کیا یہ بھی اثر ہے بددُعا کا
سُورج کو جو نت زوال آئے
ہے نام کا بھی جو شیرِ بیشہ
گیدڑ کی اُسے نہ چال آئے
ہے جس کے قلم میں عدلِ دوراں
کیونکر نہ اُسے جلال آئے
اُس شخص سے خیر کی طلب کیا
ماجدؔ، جِسے دیکھ بھال آئے
ماجد صدیقی

اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
منصور حقیقت کا سرِ دار نہ دیکھا
اچّھا ہے یہی آج کا اخبار نہ دیکھا
ہر فرد کو اِس عہد میں آزارِ بقا ہے
ہے کون جِسے مرگ سے دوچار نہ دیکھا
اِس دورِ منّور میں سرِ ارض ہے جیسا
انسان کو ایسا کبھی خونخوار نہ دیکھا
خدشوں نے جہاں دی نہ مری آنکھ بھی لگنے
اُس شہر کا اِک شخص بھی بیدار نہ دیکھا
ہوتا ہے ہر اِک پھُول مہک بانٹ کے جیسا
انسان کو ایسا کبھی سرشار نہ دیکھا
اک بار جو لاحق ہو دل و جان کو ماجدؔ
جاتا ہوا وُہ روگ، وُہ آزار نہ دیکھا
ماجد صدیقی

کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
ملا ہے فیضان یہ خداؤں کی برتری کا
کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا
بدستِ انساں عَلَم جہاں امن کا گڑا ہے
لٹک رہا ہے وہیں پرندہ بھی آشتی کا
کُھلی فضاؤں کی راہ جو بھی کوئی سجھائے
اُسی پہ آنے لگا ہے الزام گمُرہی کا
پڑے نہ زد جس پہ بات ساری مفاد کی ہے
جواز سیدھا سا ایک ہی تو ہے دشمنی کا
دلوں کے اندر ہی پائے جاتے ہیں نقش ایسے
نشان ماتھوں پہ کب ملا ہے درندگی کا
نہ تا ابد غرقِ نیل ہو کر بھی باز آئے
ہُوا ہے لپکا جسے خدا سے برابری کا
نظر کا آشوب جب تلک ہے نہ جا سکے گا
ہمیں لگا ہے جو روگ ماجدؔ سخنوری کا
ماجد صدیقی

موسم پیار کی وادی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
مظہر ہے بربادی کا
موسم پیار کی وادی کا
تھامیں پیٹ کی پوجا کو
دامن ہم کس ہادی کا
لو پھر بستی سہم گئی
سُن کر ڈھول منادی کا
اِک اِک سُوکھا پیڑ لگے
ہاتھ کسی فریادی کا
حرفِ دُعا کب ہوتا ہے
بول کسی شہزادی کا
ماجدؔ اک اک لفظ تِرا
پرچم ہے آزادی کا
ماجد صدیقی

نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
مجھے ہی ضبطِ تمنّائے دل کی لاج سی
نہیں رقیب تو رہ میں مری سماج سہی
زبان سے بھی کہو بات جو نگاہ میں ہے
جو حشر دل پہ گزرنا ہے کل وُہ آج سہی
کسی کے نام تو ہونا ہے اِس ریاست کو
خُدا کے بعد تمہارا ہی دل پہ راج سہی
ستم کا نام نہ دیں ہم کسی ستم کو بھی
یہ اہتمام بھی اَب شہر کا رواج سہی
کرو نہ شاخِ بدن سے سروں کے پھُول جُدا
سدا بہار تمہارے ہی سر کا تاج سہی
ہلا نہ لب بھی ستم گرکے سامنے ماجدؔ
جہاں ہیں اور وہاں یہ بھی ایک باج سہی
ماجد صدیقی

سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
’’مان مجھے‘‘ کی ہانک لگاؤں وقت کا شہ کہلاؤں
سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں
قطرہ ہوں اور دل میں دیکھو دُھن ہے کیا البیلی
بادل بن کر اِک اِک پیاسے کھیت پہ میں لہراؤں
مَیں تیرا ممنون ہوں سُن اے درد رسان زمانے!
گھڑیالوں سا گنگ رہوں گر میں بھی چوٹ نہ کھاؤں
ریت اور کنکر تو ہر رُت میں گرم ہوا برسائے
رات کی رانی عام کہاں میں جس سے تن سہلاؤں
عرش سے اُترا کون فرشتہ میری سُننے آئے
مَیں جو عادل تک کو بھی اکثر مجرم ٹھہراؤں
جان بھی جاتی ہے تو جائے پر یہ کب ممکن ہے
مَیں اور وقت کے پِیروں کے پس خوردے کو للچاؤں
جانے کس کے قرب سے ماجدؔ لاگا روگ یہ مجھ کو
ہر دم ایک ہی خبط ہے میں جھُوٹے کے گھر تک جاؤں
ماجد صدیقی

وُہ ماجرا سرِ دیوار ہے رقم دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
لب و زباں پہ اُترتے جسے ہے کم دیکھا
وُہ ماجرا سرِ دیوار ہے رقم دیکھا
وُہ دل بھی سنگ سے کمتر ہے کب کہ جس نے کبھی
کوئی خُدا، نہ پسِ آرزو، صنم دیکھا
شبِ الم کے تصّور سے یوں لگے جیسے
اِسی حیات میں اِک اور ہو جنم دیکھا
ستم کو نام دیا اَب کے جو ستمگر نے
کسی بھی جھُوٹ کا کھُلتے نہ یوں بھرم دیکھا
ملا فروغ جہاں بھی سکوں کے نغموں کو
وُہ شاخ راکھ ہوئی، آشیاں بھسم دیکھا
کبھی بہ حسنِ سلامت ہمیں نہ یاد آیا
وُہ شخص جس کو بچھڑتے بہ چشمِ نم دیکھا
ہوا کی چھیڑ بھی ماجدؔ تھی شاخِ بالا سے
نہ جھُک سکا جو کہیں سر وُہی قلم دیکھا
ماجد صدیقی

جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
گُماں بہار پہ دیپک کی تان جیسا تھا
جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا
وُہ دن بھی تھے کہ نظر سے نظر کے ملنے پر
کسی کا سامنا جب امتحان جیسا تھا
یہ کیا ہُوا کہ سہارے تلاش کرتا ہے
وُہ پیڑ بھی کہ چمن میں چٹان جیسا تھا
کسی پہ کھولتے کیا حالِ آرزو، جس کا
کمال بِکھرے پروں کی اُڑان جیسا تھا
تنی تھی گرچہ سرِ ناؤ سائباں جیسی
سلوک موج کا لیکن کمان جیسا تھا
کہاں گیا ہے وُہ سرچشمۂ دُعا اپنا
کہ خاک پر تھا مگر آسمان جیسا تھا
نظر میں تھا ہُنرِ ناخُدا، جبھی ماجدؔ
یقین جو بھی تھا دل کو گمان جیسا تھا
ماجد صدیقی

میرا تو سب شہر سے اِک جیسا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
کون نہیں اور کون، کہوں، مجھ کو بھاتا ہے
میرا تو سب شہر سے اِک جیسا ناتا ہے
وقت ہمیں بھی اَب وہ لاڈ دلائے جیسے
نوکر مالک کے بچّے کو بہلاتا ہے
جس کے مُنہ پر جھُوٹ ہے سچّا اُس کو جانو
سچ کہتا ہے جو بھی شخص وُہی جھُوٹا ہے
رُت، جو پھُول لُٹے ہیں شاید پھر لوٹا دے
دل میں باقی ہے تو ایک یہی آشا ہے
ہونٹ ہی حرف و صوت سے کچھ محروم نہیں ہیں
آنکھوں تک میں بھی اِک جیسا سناٹا ہے
کشتی کے پتوار نہ جل ہی سے جل جائیں
ہر راہرو کے ذہن میں ایک یہی چِنتا ہے
کانوں میں پھنکار سی اِک پہنچی ہے، کہیں سے
چڑیوں پر پھر شاید سانپ کہیں جھپٹا ہے
ماجد صدیقی

جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
کُنجِ قفس تک بھی خوشبو سی لاتا ہے
جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے
پِٹوا کر سہلائے یُوں ہر پنیچ ہمیں
بالغ جیسے بچّے کو بہلاتا ہے
ظالم کے ہتھے جو بھی اِک بار چڑھے
جیون بھرُوہ اُس کے ہی گُن گاتا ہے
پنچھی سوچیں اَب وُہ ایکا کرنے کی
جو ایکا مرگِ انبوہ دکھاتا ہے
سینت کے رکھے صید نہ اپنا زورآور
شیر کے من کو تازہ خون ہی بھاتا ہے
جس کے سر تھا خون کسی کا شخص وُہی
اَب قبروں پر پھول چڑھانے آتا ہے
ماجدؔ بھی کیا سادہ ہے اخلاص پہ جو
رہ رہ کر اِس دَور میں بھی اِتراتا ہے
ماجد صدیقی

ڈنک چبھو کر جیسے اژدر بھُول گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
کرنی کر کے ہے یوں آمر بھُول گیا
ڈنک چبھو کر جیسے اژدر بھُول گیا
جان پہ سچ مچ کی بن آتی دیکھی تو
جتنی شجاعت تھی شیرِ نر بھُول گیا
خلق سے خالق کٹ سا گیا ہے یُوں جیسے
اپنے تراشیدہ بُت آذر بھُول گیا
دُھوپ سے جھُلسے ننگے سر جب دیکھے تو
خوف کے مارے شاہ بھی افسر بھُول گیا
گزرے دنوں کی سنُدر یاد کی آمد کو
چھوڑ کے جیسے دل یہ، کھُلے در بھُول گیا
جسم پہ جمتی گرد ہی شاید بتلائے
وقت ہمیں کس طاق میں رکھ کر بھُول گیا
اُس کی سرونُما قامت ہے یا ماجدؔ
چھیڑ کے تان کوئی نغمہ گر بھُول گیا
ماجد صدیقی

جھُوٹ کی کھاد سے ہر فصل اُگائی جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
کیوں نہ تدبیر کوئی ایسی لڑائی جائے
جھُوٹ کی کھاد سے ہر فصل اُگائی جائے
ایک سے طور ہیں اِس شہر کے تیور اِک سے
عمر بیتے کہ یہاں رات بتائی جائے
بات سیدھی ہے حدِ سنگ دلی سے آگے
ساتھ یوسف کے کہاں تک کوئی بھائی جائے
دید کو جس کی فلک تک سے فرشتے اُتریں
ایسی بستی بھی کہیں کوئی بسائی جائے
جو بھی قیمت ہے کسی کی وہ جبیں پر لِکھ لے
یہ منادی بھی سرِ شہر کرائی جائے
راہ ایسی کوئی بتلا مرے واعظ! جس میں
رائیگاں عمر کی پچھلی نہ کمائی جائے
شور کٹیاؤں میں کیسا ہی مچا لے ماجدؔ
قصر تک شاہ کے، تیری نہ دُہائی جائے
ماجد صدیقی

کس کے ہاتھوں آ لگا مجھ کو یہ پتّھر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
کون سا الزام آیا ہے مرے سر، دیکھنا
کس کے ہاتھوں آ لگا مجھ کو یہ پتّھر دیکھنا
خستوں نے کس قدر قامت تمہاری پست کی
رازقو! یہ فرق بھی دل میں اُتر کر دیکھنا
کرچیوں کی شکل میں پلکوں تلک جو آ گیا
یہ مرا دل ہے اسے بھی آئنہ گر! دیکھنا
پھُول سا ہر صبح رکھ لینا اُسے پیشِ نظر
چاند سا ہر دم اُسے اپنے برابر دیکھنا
گھونسلوں میں پھیلتی اِک آبشارِ نغمگی
اور پھر زیرِ شجر بکھرے ہوئے پر دیکھنا
حفظِ جاں کے عُذر کے ہوتے نجانے کس طرف
لے گئی انساں کو ماجدؔ، قوتِ شر دیکھنا
ماجد صدیقی

جینے کا ہر لمحہ شب آثار لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
قلب و نظر کو جانے کیا آزار لگا ہے
جینے کا ہر لمحہ شب آثار لگا ہے
انساں بھی آواز نہ یُوں لوٹائے، جیسے
پتّھر پتّھر جنگل کا غم خوار لگا ہے
اُس کو جانے رات گئے کیا فکر لگی تھی
بستی بھر میں چور ہی اِک بیدار لگا ہے
صَرف ہوا ہے جو بھی بحقِ پست مقاماں
حرف وُہی اپنا دُرِّ شہوار لگا ہے
اِک اِک ذہن تھا ایک ہی روگ کی زد میں جیسے
شہر کا شہر ہی اِک جیسا بیمار لگا ہے
ماجدؔ شہر میں ہر سُو جیسے سب اچّھا تھا
جس کو دیکھا سرکاری اخبار لگا ہے
ماجد صدیقی

دلوائے بارود ہمیں بیگانوں سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
فصل اُٹھے جو بھی اپنے کھلیانوں سے
دلوائے بارود ہمیں بیگانوں سے
سچ مچ کا سچ جس نے سرِ دربار کہا
تیر نہ کیا کیا اُس پر چلے کمانوں سے
ہم وُہ لوگ ہیں آج کے دور میں بھی جن کا
رشتہ ہے پتّھر کے گئے زمانوں سے
جھونپڑیوں سے اُٹھ کر آنے والوں کے
طَور بدلتے ہیں کب نئے مکانوں سے
آجر سوچے، دیکھ کے تن مزدوروں کے
کتنا سونا نکلے گا اِن کانوں سے
باغ پہ اِک وُہ رُت بھی آئی تھی جس میں
پنچھی تک چمٹے دیکھے کاشانوں سے
جائے گا کب حبس کا موسم یُوں ماجدؔ
جب تک آگ نہ پھُوٹے گی شریانوں سے
ماجد صدیقی

سدا رہیں گے نہ ایک جیسے رُتوں کے انداز دیکھ لینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
فضائے دوراں کبھی تو ہو گی دلوں کی دمساز دیکھ لینا
سدا رہیں گے نہ ایک جیسے رُتوں کے انداز دیکھ لینا
یہ بات سورج کے ایک دوبار پھر کے آنے پہ منحصر ہے
کلی چھپائے جِسے، ہوا کے لبوں پہ وُہ راز دیکھ لینا
چمن میں تُندی ذرا سی بھی جسکے زمزموں میں درآئی اُس پر
کھُلے نہیں گر تو کُچھ دنوں میں قفس کے درباز دیکھ لینا
پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سِدھانے کی سوچتے ہو
بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وُہ اپنے انداز دیکھ لینا
فقط دبکنے سے فاختاؤں کو کیاضمانت ملے اماں کی
ہنر دکھائے گا اِس طرح تو کچھ اور شہباز دیکھ لینا
رواں دواں ہے نمِ زمیں سا، نمو کا پیغام جس میں ماجدؔ
صدا بصحرا کبھی نہ ہو گی مری یہ آواز دیکھ لینا
ماجد صدیقی

کم نہیں کسبِ خسارہ میں مگر انسان بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
عرش تک سے اِس پہ ارزانی ہیں گو احسان بھی
کم نہیں کسبِ خسارہ میں مگر انسان بھی
ہے ہمیں کیوں اُس بدن پر حکمرانی کا یقیں
جس کے ملنے کا نہیں باقی کوئی امکان بھی
سرو کا تو کیا جو لرزاں بھی ہو شورِ سیل سے
خاک پر دِبکے ملے ہیں سنبل و ریحان بھی
آبجو میں اور ہے پودا سرِ ساحل کچھ اور
سانس لینا دہر میں مشکل بھی ہے آسان بھی
باپ روزی کے لئے نکلا وطن سے دُور تو
مڑ کے بچّوں کی نہ اُس سے ہو سکی پہچان بھی
سحرِ سے فرصت مِلے دل کے تو ماجدؔ دیکھنا
کچھ تقاضے تجھ سے رکھتی ہے بدن میں جان بھی
ماجد صدیقی

دیکھنے سے جن کے مائیں مر گئیں اِس شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
عصمتوں کی دھجّیاں کیا کیا اُڑیں اِس شہر میں
دیکھنے سے جن کے مائیں مر گئیں اِس شہر میں
کون کہہ سکتا ہے کس کی استراحت کے سبب
جاگتے جسموں میں جانیں تک جلیں اِس شہر میں
اوٹ میں نامنصفی کی جانے کیا کیا چاہتیں
موت کی آغوش میں سوئی ملیں اِس شہر میں
اِس قدر ارزاں تو یہ جنسِ گراں دیکھی نہیں
سنگ کے بھاؤ تُلے جتنے نگیں اِس شہر میں
ضرب سے حرفِ گراں کی جابجا بکھری ملیں
دل کے آئینوں کی کیا کیا کرچیاں اِس شہر میں
دیکھنے میں تو نظر آتی ہیں سب پلکیں کھُلی
جاگتی اِک آنکھ بھی لیکن نہیں اِس شہر میں
وحشتوں کے جانے کن کن ناخنوں سے کُو بہ کُو
مینڈھیاں ماجدؔ حیاؤں کی کھُلیں اِس شہر میں
ماجد صدیقی

کاغذی پھُول ہی پودوں پہ سجائے جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
عیب موسم کے اب اِس طرح چھپائے جائیں
کاغذی پھُول ہی پودوں پہ سجائے جائیں
کھُل کے رہ جائے بھرم اہلِ ستم کا جن سے
لفظ ایسے کبھی ہونٹوں پہ نہ لائے جائیں
ہاتھ اِک خلق کے جیبوں کی طرف جن سے بڑھیں
سارے کرتب وُہ بندریا کو سکھائے جائیں
کیا خبر ذلّتِ پیہم ہی جگا دے اِن کو
شہر کے لوگ نہ کیوں اور ستائے جائیں
جرمِ غفلت کی یہی ایک سزا ہے اَب تو
اپنے پُتلے ہی سرِ عام جلائے جائیں
سادگی اوڑھ کے چہروں پہ بظاہر ماجدؔ
کھوٹ جن جن میں ہے سِکّے وُہ چلائے جائیں
ماجد صدیقی

خاک میں اشک بھلے مِل جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
صدیوں اپنی جوت جگائے
خاک میں اشک بھلے مِل جائے
ساون، کُوڑے کرکٹ میں بھی
اپنے ڈھب کے پھُول کھلائے
دید خُدا کی، چودھویں جس کی
وُہ چندا کب مُکھ دکھلائے
اِک پل پھُول سا کِھلنے والا
چہرہ، دُوجی پل کملائے
پیڑ وُہ تازہ دم کیا ہو گا
اُڑتی گرد جِسے سہلائے
ماجدؔ ہر اُمید کا پیکر
چاند کی صورت گھٹتا جائے
ماجد صدیقی

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

دل میں تھے جذبوں کے جو انبار جلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
شہر جلے چاہت کے سب بازار جلے
دل میں تھے جذبوں کے جو انبار جلے
لُو جس جانب سے آئی ہے پرافشاں
کون کہے یہ، کتنے نگر اُس پار جلے
رُت بدلی تو آگ میں سُرخ گلابوں کی
کیا کیا بھنورے ہیں پروانہ وار جلے
کوئی ستارہ، کوئی شرر کہتا ہے جنہیں
آنکھوں میں لَو دیتے وُہ آزار جلے
بعدِ فنا بھی وُہ جو کسی کی زیر ہوئیں
صدیوں تک اُن نسلوں کے آثار جلے
ماجدؔ جی جب آنچ بھنور کی پہنچی تو
پانی میں بھی کشتی کے پتوار جلے
ماجد صدیقی

پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
شجر سے گرتا ہر ایک پتّا شمار کرنا
پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا
قفس سے جاتی ہوئی ہواؤ، ستمگروں پر
ہماری حالت کُچھ اور بھی آشکار کرنا
یہی تأمّل کا درس ہے اُس کی کامرانی
عقاب سیکھے فضا میں رُک رُک کے وار کرنا
بنامِ خوبی جو ہم سے منسوب ہے، وفا کا
یہ دشت بھی ہے ہمیں اکیلے ہی پار کرنا
ہیں اِس پہ پہلے ہی کتنے احسان مُحسنوں کے
نظر کو ایسے میں اور کیا زیر بار کرنا
طلب اِسی زندگی میں جنّت کی ہے تو ماجدؔ
نہ خبط اعصاب پر کوئی بھی سوار کرنا
ماجد صدیقی

شور سُورج سے بچھڑ کر دن بھی کچھ ایسا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
گر کے پتّا شاخ سے جس طرح واویلا کرے
شور سُورج سے بچھڑ کر دن بھی کچھ ایسا کرے
تھے ہمِیں وُہ گُل جو گلدانوں میں بھی مہکا کئے
کون ہے ورنہ جو نُچ کر بھی سلوک اچّھا کرے
خواب تک میں بھی یہی رہتی ہے جانے آس کیوں
چاند جیسے ابر سے، کھڑکی سے وُہ جھانکا کرے
التفات ہم پر ہے یُوں اہلِ کرم کا جس طرح
دشت پر بھٹکا ہُوا بادل کوئی سایا کرے
فکر ہو بھی تو رعایا کو خود اپنی فکر ہو
شاہ کو کیا ہے پڑی ایسی کہ وہ سوچا کرے
کیا کہیں کتنی اپھل ہے نوکری اِس دَور کی
آدمی اِس سے تو دانے بھُون کر بیچا کرے
مُکھ دمک اُٹھیں سبھی تو رقص پر موقوف کیا
ہو گیا ایسا تو ماجدؔ جانے کیا سے کیا کرے
ماجد صدیقی

وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
سچ کہنے پر شہر بدر ہوتے، بُوذرؓ دکھلائے گا
وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا
اِک اِک گوشۂ شہر سے تو ہم خاک جبیں پر مَل لائے
خواہش کا عفریت ہمیں اَب کون سا در دکھلائے گا
سُورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دمکتے اِک جیسے
کون مُبارک دن ایسا، جو سارے نگر دکھلائے گا
راہبروں کی سنگ دلی سے بچ نہ سکا جو دبنے سے
کون سا ایسا عزم ہمیں مائل بہ سفر دکھلائے گا
ہم بھاڑے کے وُہ مزدور ہیں پیٹ کا یہ تنّور جنہیں
دریاؤں کی تہہ میں چھپُا اِک ایک گہر دکھلائے گا
دُور لگے وُہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا
ہاں وُہ شہر کہ جس کا اِک اِک باسی اُونچا سُنتا ہو
ماجدؔ ایسے شہر میں تو کیا رنگِ ہُنر دکھلائے گا
ماجد صدیقی

خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
زورآور اُس فن کو اپنی ڈھال کہے
خلق جِسے کمزور کا استحصال کہے
دیکھ رہی ہے ہاتھ دُعا کا بن بن کر
بادل سے کیا اور چمن کی آل کہے
رُخصت ہوتے اُس سے وُہی کُچھ مَیں نے کہا
پیڑ سے جو کچھ ٹوُٹ کے گرتی ڈال کہے
اور بھی کیوں لوٹے جا کر انگاروں پر
کون کسی سے اپنے دل کا حال کہے
یہ بھی کسی کے دل کا نقشہ ہو شاید
تُو جس کو شیشے میں آیا بال کہے
آپ کے حق میں اگلے دن اچّھے ہوں گے
بات یہی ہم سے ہر گزرا سال کہے
دل کی بات تجھی سے جیسا کہتا ہو
فیض کہے ماجدؔ یا وُہ اقبال کہے
ماجد صدیقی

درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
رکھتا ہے کرم پر بھی گماں اور طرح کے
درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے
اس دشتِ طلب میں کہ بگولے ہی جہاں ہیں
آتے ہیں نظر سروِ رواں اور طرح کے
تھا پیڑ جہاں قبر سی کھائی ہے وہاں اَب
سیلاب نے چھوڑے ہیں نشاں اور طرح کے
دل کا بھی کہا، خوف سے کٹنے کے نہ مانے
کرتی ہے ادا لفظ، زباں اور طرح کے
لگتا ہے کہ جس ہاتھ میں اَب کے یہ تنی ہے
دکھلائے کمالات کماں اور طرح کے
ہم لوگ فقط آہ بہ لب اور ہیں ماجدؔ
دربار میں آدابِ شہاں اور طرح کے
ماجد صدیقی

کند ہو چکے جو بھی وُہ مراد بر آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
راحتوں کی صورت بھی بس یہی نظر آئے
کند ہو چکے جو بھی وُہ مراد بر آئے
ہے یہی بساط اپنی نام پر خداؤں کے
معبدوں میں جا نکلے، جا کے آہ بھر آئے
یہ بھی دن دکھا ڈالے حُسن کی اداؤں نے
پھوُل تک سے وحشت ہو چاند تک سے ڈر آئے
ہم سے بھی کوئی پوچھے کُچھ دلوں کی ویرانی
گھوم پھر کے ہم بھی تو ہیں نگر نگر آئے
یوں تو آٹھ پہروں میں نت ہی دن چڑھے ماجدؔ
جس طرح کی ہم چاہیں جانے کب سحر آئے
ماجد صدیقی

اُسی کا تِیر آخر کو لگا ہے جا نشانے پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
رہا تیّار جو جاں تک پہ اپنی کھیل جانے پر
اُسی کا تِیر آخر کو لگا ہے جا نشانے پر
سکوں کی نیند سو سو کر گنوا کر وقت ہاتھوں سے
نہ جب کُچھ بن پڑے تو لعنتیں بھیجو زمانے پر
شجر کا عجز کیا تھا، رسّیاں تھیں ناتواں کتنی
کھُلے اسرار سارے پِینگ کو خود ہی جھُلانے پر
سرِ شاخِ تمّنا کونپلیں دیکھی ہیں جس دم بھی
گھرے چیلوں کے جھُرمٹ جانے کیا کیا آشیانے پر
نمائش کو سہی پر حسن بھی کب چین سے بیٹھے
کوئی تتلی نہ دیکھی پُر سکوں اپنے ٹھکانے پر
بدلتی ہے نظر، دل کس طرح بے زار ہوتے ہیں
پتہ چلتا ہے ماجدؔ یہ کسی کو آزمانے پر
ماجد صدیقی

مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ڈھنگ جِسے آئے سب کو بہلانے کا
مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا
ویسا ہی، کنکر ہو جیسے کھانے میں
بزم میں تھا احساس کسی بیگانے کا
کام نہ کیونکر ہم بھی یہی اَب اپنا لیں
ساری اچّھی قدریں بیچ کے کھانے کا
وُہ چنچل جب بات کرے تو، گُر سیکھے
بادِصبا بھی اُس سے پھُول کھِلانے کا
پُوچھتے کیا ہو پیڑ تلک جب ٹُوٹ گرے
حال کہیں کیا ہم اپنے کاشانے کا
آیا ہے وُہ دَور کہ باغ میں پھُولوں کو
گرد بھی کرتب دِکھلائے سہلانے کا
جوڑتے ہو کیوں سُوکھے پتّے شاخوں سے
حاصل کیا؟ پچھلی باتیں دہرانے کا
ماجدؔ ہر کردار ہی جس کا شاطر ہے
جانے کیا عنوان ہو اُس افسانے کا
ماجد صدیقی

مختصر یہی جانو، جانگسل ہے جو منظر وہ مرے ہُنر میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
درد جاں بہ جاں اُترا، کرب کُو بہ کُو پھیلا، سب مری نظر میں ہے
مختصر یہی جانو، جانگسل ہے جو منظر وہ مرے ہُنر میں ہے
آنچ ہے جو سانسوں میں آخرش وُہ پُھونکے گی ہر سلاخ زنداں کی
کشت میں تمّنا کے پھول ہی اُگائے گی نم جو چشم تر میں ہے
کب تلک چھپائے گی بھینچ کر ورق اپنے وقت کی لغت آخر
فرق کیوں نہ آئے گا سامنے نگاہوں کے، وُہ جو اسپ وخر میں ہے
روک لو گے دریا کو پر جو نم سمائے گی خاک میں وہ کیا ہو گی
اُس کا کیا کرو گے تم زور جو کرن ایسا فکر کے سفر میں ہے
جو خبر بھی آتی ہے ساتھ اپنے لاتی ہے بات اِس قدریعنی
قافلہ اُمیدوں کا اب تلک یونہی لپٹا گردِ رہگزر میں ہے
طشتِ وقت میں ماجدؔ رکھکے جب بھی دیکھوں تو دل یہی کہے مجھ سے
اِک عجیب سی رفعت دُور دُور تک پھیلی اپنے بام و در میں ہے
ماجد صدیقی

اوج کو اپنے چھُو کر مہ آرزو، ماہِ کامل کی مانند گھٹنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
دیکھنا اَب کے پھر دیکھتے دیکھتے سائباں چاندنی کا سمٹنے لگا
اوج کو اپنے چھُو کر مہ آرزو، ماہِ کامل کی مانند گھٹنے لگا
تُو بھی اُمید کو دے نیا پیرہن جان لے تو بھی کچھ موسموں کا سخن
دیکھ لے اے دلِ زار! تیرے لئے وقت تازہ ورق ہے اُلٹنے لگا
دوستی دشمنی کے لبادوں میں پھر، کر دکھانے پہ ہے اور ہی کچھ مُصر
وقت آکاس بیلوں کے بہروپ میں سبز اشجار سے پھر لپٹنے لگا
پھر فضاؤں میں اُبھرے گی اِک چیخ سی کان جس پر دھرے گا نہ ہرگز کوئی
حرص کازاغ بالک پہ اُمید کے ہے نئی آن سے پھر جھپٹنے لگا
چھین لے گا بالآخر بہ فکرِمتیں، دیکھنا اُن کے پیروں تلے کی زمیں
ناتوانوں سے گرچہ ستمگار کی چپقلش کا ہے پانسہ پلٹنے لگا
دیکھ ماجدؔ سکوں کی نئی صورتیں پل کی پل میں نظر میں جھلکنے لگیں
زخم آہوں میں کافور ہونے لگے دردِ دل آنسوؤں میں ہے بٹنے لگا
ماجد صدیقی

جو برگ ہے پہلو میں لئے خوفِ خزاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
پیڑوں میں بھی پہلی سی طراوت وُہ کہاں ہے
جو برگ ہے پہلو میں لئے خوفِ خزاں ہے
مت پوچھ کہ ہے کیسے ستاروں سے مرتّب
آنکھوں کے اُفق پر جو سجی کاہکشاں ہے
سیلاب سا منظر ہے نظر جائے جدھر بھی
گھیراؤ میں موجوں کے ہے جو شخص جہاں ہے
اُس برگ سی تازہ ہے تمّنائے بقا بھی
جو ٹُوٹ کے ٹہنی سے سرِآب، رواں ہے
رنگین ہے صدیوں سے جو انساں کے لہو سے
ہر ہاتھ میں کیسا یہ تصادم کا نشاں ہے
ماجد صدیقی

پپڑی سا ہر اک لب پہ جما شورِ فغاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
وُہ خوف کہ ہر جسم میں دبکی ہوئی جاں ہے
پپڑی سا ہر اک لب پہ جما شورِ فغاں ہے
برتر ہے ہر اِک بزم میں مختار ہے جو بھی
ہونٹوں پہ سجا اُس کے عجب زورِ بیاں ہے
کیا جانئے کچھ بھی تو معانی نہیں رکھتی
وُہ خامشی پھیلی جو کراں تا بہ کراں ہے
اِک ایک نگہ تیر، ہمیں دیکھنے والی
جو طاق بھی ابرو کا نظر آئے کماں ہے
ہر عہد کے آنگن میں بہلنے کو ہمارے
جس سمت نظر جائے کھلونوں کا سماں ہے
ماجد صدیقی

جس سے مرے پیکر پہ بھی سائل کا گماں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دیکھو تو یہ کیا لفظ مرے زیبِ زباں ہے
جس سے مرے پیکر پہ بھی سائل کا گماں ہے
رکھنے کو مرے کاسۂ اُمید کو خالی
جس سمت بھی جاتا ہوں وہیں شورِ سگاں ہے
یہ کیسا غضب ہے کہ جو خوشبو سا سبک تھا
وُہ خون بھی رگ رگ میں رُکا سنگِ گراں ہے
چھینی مرے قدموں سے یہ کس رُت نے روانی
قامت پہ یہ کیوں برف کے تودے سا گُماں ہے
کیا بزم میں مَیں حالِ دلِ زار چھپاؤں
ہونٹوں میں دباؤں بھی تو آنکھوں سے عیاں ہے
ماجد صدیقی

سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
دوسروں کے دروازے جا کے کھٹکھٹانے میں
سُبکیاں ہی ہاتھ آئیں حالِ دل سُنانے میں
سو تو مَیں گیا لیکن دشت کی عطا کردہ
سب تھکن اُتر آئی ہاتھ کے سرہانے میں
اِک لُغت نگل بیٹھا ناقبول لفظوں کی
میں جِسے تعّرض تھا کنکری چبانے میں
صَرف ہو گئیں کیا کیا سِیٹیوں کی آوازیں
سعد کو سُلانے میں چور کو جگانے میں
قربتوں کی لذّت تھی جو بھی، پر نکلنے پر
کھیت کھیت جا بکھری روزیاں کمانے میں
تیر پر قضا کے بھی دشت میں نظر رکھنا
ندّیاں لگا لیں گی اپنے گنگنانے میں
تذکرے وفاؤں کے کر کے، یار لوگوں کو
لے چلا ہے تُو ماجدؔ کون سے زمانے میں
ماجد صدیقی

یہ ڈر ہے ڈوب نہ جائے صدائے انسانی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
دُھوئیں کی دُھول کی ہر سمت ہے وُہ طغیانی
یہ ڈر ہے ڈوب نہ جائے صدائے انسانی
بہ دوشِ ابر بھی کب اِس قدر فراواں ہے
رُکا ہوا پسِ مژگاں ہے جس قدر پانی
وفا و قرض کے مکر و ریا کے پتّوں سے
چھپائے آج بھی انسان تن کی عُریانی
یہاں ہے جو بھی شہِ وقت، سوچتا ہے یہی
نہیں ہے اُس کا تہِ آسماں کوئی ثانی
غزل سرا ہوں کہ ماجدؔ طوالتِ شب میں
ادا کرے ہے یہی فرض رات کی رانی
ماجد صدیقی

کس نے اتنی رات گئے بیدار کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
خدشوں نے پھر ذہن پہ جیسے وار کیا
کس نے اتنی رات گئے بیدار کیا
وسعتِ شب کو بڑھتا دیکھ کے ہم نے بھی
اپنا اک اک حرف سحر آثار کیا
موسم گل میں گلشن سے جو آئے تھے
اُن جھونکوں نے اور بھی کچھ بے زار کیا
آخر اک دن ناز عجائب گھر کا بنے
ہم نے جن تختوں پر دریا پار کیا
کچھ بھی نہیں جس گھر میں اُس کے تحفّظ نے
گھر والوں کو اور بھی ہے نادار کیا
ماتھے پر مزدور کے دیکھ، مشقّت نے
کن شفاف نگینوں سے سنگھار کیا
ماجدؔ سمت سفر کی ٹیڑھی تھی ورنہ
چلنے سے کب ہم نے تھا انکار کیا
ماجد صدیقی

اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
خوشبُو بھی صبا اُس کی لئے سات نہ آئے
اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے
جو لہر بھی اُٹھتی ہو بھلے دل میں اُٹھے وُہ
ہونٹوں پہ مگر تُندیٔ جذبات نہ آئے
اک بار جھنجھوڑا ہو جِسے ابر و ہوا نے
اُس پیڑ پہ پھر لوٹ کے پھل پات نہ آئے
دیکھی تھی نشیمن کے اُجڑنے سے جو پہلے
ایسی بھی گلستاں میں کوئی رات نہ آئے
جو یاد بھی آئے، تو لرزتا ہے بدن تک
آنکھوں میں کہیں پھر وُہی برسات نہ آئے
ہر کوہ یہ کہتا ہے کہ آگے کبھی اُس کے
تیشے میں ہے جو لطفِ کرامات نہ آئے
کرنے کو شفاعت بھی یہ اچّھا ہے کہ ماجدؔ
نیّت ہے بُری جس کی وُہ بد ذات نہ آئے
ماجد صدیقی

اُس کو پاگل ہی کہو رات کو جو رات کہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
خلقتِ شہر سے کیوں ایسی بُری بات کہے
اُس کو پاگل ہی کہو رات کو جو رات کہے
جاننا چاہو جو گلشن کی حقیقت تو سُنو
بات وُہ شاخ سے نُچ کر جو جھڑا پات کہے
اِس سے بڑھ کر بھی ہو کیا غیر کی بالادستی
جیت جانے کو بھی جب اپنی نظرمات کہے
کون روکے گا بھلا وقتِ مقرّر پہ اُسے
بات ہر صبح یہی جاتی ہوئی رات کہے
بس میں انساں کے کہاں آئے ترفّع اس سا
وقت ہر آن جو اپنی سی مناجات کہے
منحرف حرف سے کاغذ بھی لگے جب ماجدؔ
کس سے جا کر یہ قلم شّدتِ صدمات کہے
ماجد صدیقی

ہر قدم پر ہیں کیا کیا نئی تتلیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
خواہش لمس میں جن کے جاتی ہے جاں
ہر قدم پر ہیں کیا کیا نئی تتلیاں
اے ہوا! بارآور ہوئی ہٹ تِری
لے اُڑا لے گلِ زرد کی پتیاں
صحنِ گلشن میں گرداں ہیں جو چار سُو
جانے کِن عہد ناموں کی ہیں دھجیاں
پُوچھتے کیا ہو تم بس میں انسان کے
کِن درندوں کی ہیں خون آشامیاں
آئنہ، روز دکھلائے ماجدؔ ہمیں
سیلِ آلام کے جانے، کیا کیا نشاں
ماجد صدیقی

مُجھ کو ٹھہرائے وُہ، آشنا کس لئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خاک سے ربط رکھے ہوا کس لئے
مُجھ کو ٹھہرائے وُہ، آشنا کس لئے
اِک ہی مسلک کے باوصف اُلجھے ہیں جو
درمیاں اُن کے آئے خُدا کس لئے
لو ہمِیں آپ سے حق نہیں مانگے
آپ کرتے ہیں محشر بپا کس لئے
جب چھُپائے نہ چھپتی ہوں عریانیاں
کوئی تن پر سجائے قبا کس لئے
جاں چھڑکتے تھے جن پر کبھی، کچھ کہو
اُن سے ٹھہرے ہو ماجدؔ خفا کس لئے
ماجد صدیقی

پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
جگنو جگنو حرف نِکھارے روشن پھر بھی نام نہیں
پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں
پانی کی پھنکار یہی ہے تو کب خیر کناروں کی
دریا زور دکھائے گا یہ محض خیالِ خام نہیں
کس کسکے ہونٹوں پر پرکھیں روشن حرف دکھاوے کے
شہر میں ایسا کون ہے جس کی بغلوں میں اصنام نہیں
خوشوں ہی میں سحر ہے وُہ جو پر نہ مکّرر کُھلنے دے
فصلوں پر پھیلانے کو اب ہاتھ کسی کے دام نہیں
ایک سی چُپ ہر سمت ہے چاہے سانپ نگل لے چڑیا کو
کچھ ہو جائے ہونے کو برپا ہی کہیں کہرام نہیں
اَب وُہ دَور ہے برسوں جس میں اسکے سِکے چلتے ہیں
آج کے مشکیزوں میں ماجدؔپہلے جیسا چام نہیں
ماجد صدیقی

بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
جگنو سے سرِمژگاں دہکا کے سحر کرنا
بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا
کوندا سا دلا دینا آنکھوں کی چمک جیسا
ہونٹوں کو تبّسم سے ہمرنگِ شرر کرنا
جاں ہو کہ خیالوں کی بے نام سی بستی وُہ
تم زیرِ نگیں اپنے اِک ایک نگر کرنا
کر ڈالیں تمنّا کو دل ہی سے الگ، لیکن
شاہوں سا ہمیں آئے کب شہر بدر کرنا
ہیں جتنی خراشیں بھی دی ہیں یہ اِسے کس نے
اِس شیشۂ دل پر بھی بھولے سے نظر کرنا
ہم لوگ ہیں وُہ ماجدؔ بالائے زمیں جِن کے
لِکھا ہے نصیبوں میں کولہو کا سفر کرنا
ماجد صدیقی

کون کہے یہ رنج نظر کا کب جا کر کم ہونا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
جب تک گرد گُلوں پر ہے اِن آنکھوں کو نم ہونا ہے
کون کہے یہ رنج نظر کا کب جا کر کم ہونا ہے
رفتہ رفتہ اندر سے دیمک سا اُنہیں جو چاٹ سکے
ایمانوں میں زہر ریا کا اور ابھی ضم ہونا ہے
جانے کب تک ٹوہ لگانے اِک اِک جابر موسم کی
دل کو ساغر میں ڈھلنا ہے اور ہمیں جم ہونا ہے
ایک خُدا سے ہٹ کر بھی کچھ قادر راہ میں پڑتے ہیں
جن کی اُونچی دہلیزوں پر اِس سر کو خم ہونا ہے
آگے کی یہ بات کہاں بتلائے لُغت اُمیدوں کی
کان میں پڑنے والے کن کن لفظوں کو سم ہونا ہے
اور طرح سے بدلے دیکھے اَبکے گھاٹ مچانوں میں
تیروں پر تحریر جہاں ہر آہو کا رَم ہونا ہے
دل کو جو بھی آس لگی وُہ خوابِ جِناں بن جائے گی
دریاؤں کو جیسے ماجدؔ بحر میں مدغم ہونا ہے
ماجد صدیقی

زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
جتنے رستے ہیں آسان اُسی کے ہیں
زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں
اِک اِک سانس بندھا ہے اُس کی ڈوری میں
یہ پیکر یہ دل اور جان اُسی کے ہیں
وہ چاہے جو صورت اِن کو دے ڈالے
دل میں ہیں جتنے ارمان اُسی کے ہیں
پہنچا ہے جو تتلی تتلی پھُولوں تک
راحت کے سارے سامان اُسی کے ہیں
چھاپ ہے اُس کی ہر اُمید کے خوشے پر
ہر موسم کے دسترخوان اُسی کے ہیں
ہم جیسوں سے آنکھ ملائیں کب ماجدؔ
شہر میں ہیں جو جو ذی شان اُسی کے ہیں
ماجد صدیقی

آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
جانے کیسا واہمہ ہر دل کو دہلانے لگا
آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا
اپنی اپنی سی فراغت ہر کسی کی ہے یہاں
مکھیوں کو پھانس کر مکڑا بھی سستانے لگا
دیکھنے میں فاختہ بھی تو کُچھ ایسی کم نہ تھی
باز ہی کیوں معتبر، جنگل میں کہلانے لگا
لا کے وڈیو سے کھلونے، کھیل یہ بھی دیکھئے
آج کا بچّہ ہے دادی جی کو بہلانے لگا
گھس گیا ابلیس سا اِک شخص ہر اِک شخص میں
کون ہے جو اَب کئے پر اپنے پچتانے لگا
جو بھی زور آور ہے ماجدؔ اُس کا خاصہ ہے یہی
دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا
ماجد صدیقی

فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
جِسے پسند جہاں بھر کے شہر یار کریں
فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں
ہوئے ہیں پھول بھی آمادۂ شرارت کیا
ہمِیں سے ذکر تمہارا جو بار بار کریں
جو مصلحت کو پسِ حرف دَب کے رہ جائے
وُہ بات کیوں نہ زمانے پہ آشکار کریں
ہمیں یہ کرب کہ کیوں اُن سے ربط ہے اپنا
اُنہیں یہ آس کہ ہم جان و دل نثار کریں
لبوں پہ عکس ہے جو آئنہ اِنہی کا ہے
زباں کے زخم بھلا اور کیا شمار کریں
یہ رات کوہ نہیں کٹ سکے جو تیشوں سے
سحر کی دُھن ہے تو کُچھ اور انتظار کریں
کھُلا ہے ہم پہ تمّنا کا حال جب ماجدؔ
تو ایسے کانچ سے کیا انگلیاں فگار کریں
ماجد صدیقی

کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
جو مِلے تو والیٔ شہر کو یہی بات ہم بھی بتا سکے
کہ جو گفتنی ہے، زبان پر نہ کوئی بھی شہر میں لا سکے
جو ٹلا عقاب تو برق نے ہیں چڑھائے تیر سرِکماں
ہے کوئی کہ جور سے فاختہ کو جو آسماں کے بچا سکے
ہے یہی تو اُس کا کمالِ فن، کہ ہے راستی میں وُہ پُرفتن
نہ بچا کوئی سرِانجمن، جو فریب اُس کا نہ کھا سکے
سبھی کشتیاں سرِ آب ہیں کہ جو مبتلائے عذاب ہیں
جو بُکا کسی کی سُنے بھی تو کوئی کیا کرشمہ دکھا سکے
جو نہیں ہے ابرِ کرم کہیں تو فلک سے بھیج وُہ آگ ہی
کہ جو کشتِ جاں میں بسی ہوئی نمِ آرزو ہی جلا سکے
ہوئے شل جو وار سے غیر کے اُنہی بازوؤں کی کمان پر
یہ ہمِیں تھے تیرِ سخن تلک کسی طَور جو نہ چڑھا سکے
سبھی مصلحت کے اسیر تھے کوئی تھا نہ ہم ساخسارہ جُو
ہمِیں ایکِماجدؔ سادہ دل‘ نہ ابال دل کا دبا سکے
ماجد صدیقی

ہم میں ہے جو اِس قدر بھی سادگی اچّھی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جنگلوں میں میش کی سی بے بسی اچّھی نہیں
ہم میں ہے جو اِس قدر بھی سادگی اچّھی نہیں
دل میں تُو اہلِ ریا کے بیج چاہت کے نہ بو
اِس غرض کو یہ زمیں ہے بُھربھُری،اچّھی نہیں
ہر سفر ہے آن کا بَیری اور اُس کے سامنے
اور جو کچھ ہو سو ہو پہلو تہی اچّھی نہیں
ظرفِ انساں ہی کے سارے رنگ ہیں بخشے ہوئے
چیز اپنی ذات میں کوئی بُری، اچّھی نہیں
ہو کے رہ جاتی ہے اکثر یہ عذابِ جان بھی
ہوں جہاں اندھے سبھی، دیدہ وری اچّھی نہیں
کچھ دنوں سے تجھ کو لاحق ہے جو ماجدؔ دمبدم
جان لے مشکل میں ایسی بے دلی اچّھی نہیں
ماجد صدیقی

جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
جھڑکے شاخوں سے تہِ خاک سمانے والے
جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے
بارشِ سنگ سے دوچار تھا انساں کل بھی
کم نہیں آج بھی زندوں کو جلانے والے
آئے مشکیزۂ خالی سے ہوا دینے کو
تھے بظاہر جو لگی آگ بُجھانے والے
ضُعف کس کس نے نہیں خُلق ہمارا سمجھا
ہم کہ آنکھیں تھے بہ ہر راہ بچھانے والے
صدق جذبوں میں بھی پہلا سا نہیں ہے ماجدؔ
اب نہیں خضر بھی وُہ، راہ دکھانے والے
ماجد صدیقی

رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
جب بھی موسم ذرا سا نکھرنے لگا
رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا
آنکھ میں پھر کسی یاد کا عکس ہے
چاند ہے جھیل میں پھر اُترنے لگا
ہم اُسے کس طرح معتبر جان لیں
بات تک سے جو اپنی مُکرنے لگا
وحشتوں کی سکڑتی حدیں دیکھ کر
شیر پنجرے میں از خود سدھرنے لگا
آئنے پر جو دل کے لگے بال سا
زخم ماجدؔ کہاں ہے وُہ بھرنے لگا
ماجد صدیقی

محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
جس شخص سے بھی دل کا کوئی مدّعا کہو
محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو
مجذوب ہے طبیب ہی جب تو پئے شفا
گالی گلوچ کو بھی نہ کم از دوا کہو
کونپل ہے لفظ لفظ تمہارا سرِ شجر
جس اوج پر ہو جو بھی کہو تم بجا کہو
گٹھڑی میں خارکش کی جو اُترن ہے پیڑ کی
ہاں ہاں کہو اُسے بھی خُدا کا دیا کہو
گاؤں کے لوگ شہر میں کیوں منتقل ہوئے
حرص و ہوا نہیں اِسے فکرِ بقا کہو
ہم تُم ہیں اُس نگر میں جہاں پر بہ ظرفِ تنگ
ہر شخص چاہتا ہے اُسے تم خُدا کہو
ماجدؔ ہے فرق جو تہ و بالا میں وہ تو ہے
تسکیں کو شاہ کو بھی بھلے تم گدا کہو
ماجد صدیقی

پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
جو شخص بھی ہم سے کوئی اقرار کرے ہے
پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے
وُہ سُود بھی ذمّے ہے ہمارے کہ طلب جو
درباں تری دہلیز کا ہر بار کرے ہے
ممکن ہی کہاں بطن سے وُہ رات کے پھُوٹے
چہروں کو خبر جو سحرآثار کرے ہے
دیتے ہیں جِسے آپ فقط نام سخن کا
گولہ یہ بڑی دُور تلک مار کرے ہے
ہر چاپ پہ اٹُھ کر وُہ بدن اپنا سنبھالے
کیا خوف نہ جانے اُسے بیدار کرے ہے
پہنچائے نہ زک اور تو کوئی بھی کسی کو
رُسوا وُہ ذرا سا سرِ بازار کرے ہے
کس زعم میں ماجدؔ سرِ دربار ہمیں تُو
حق بات اگلوا کے گنہگار کرے ہے
ماجد صدیقی

کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ثبوتِ جرم کی صورت کوئی بنا دیجے
کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے
اُٹھے جو حرفِ حمایت کوئی مرے حق میں
دمِ نمود سے پہلے اُسے دبا دیجے
دراز قد ہوں تو پھر گاڑئیے زمیں میں مجھے
جو فرق اعلیٰ و ادنیٰ میں ہے مٹا دیجے
گرفت گر مری پرواز پر نہیں ہے تو کیا
نظر کی آگ سے ہی پر مرے جلا دیجے
کتابِ عدل میں کیا؟ جو تہہِ خیال میں ہے
وُہ حکمِ خاص بھی اَب خیر سے سُنا دیجے
کھنچو نہ میرے نشیمن کے ہم نشیں پتّو!
یہ جل اٹُھا ہے تو تُم بھی اِسے ہوا دیجے
میانِ دیدہ و لب، شعلۂ بیاں ماجدؔ!
کہو اُنہیں کہ جہاں بھی اُٹھے،بُجھا دیجے
ماجد صدیقی

سُن تو لیتا وُہ مری گو بات بچگانہ سہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
ٹھیک ہے طرزِ کرم اُس بُت کی جانانہ سہی
سُن تو لیتا وُہ مری گو بات بچگانہ سہی
گوہرِ مقصود کی دُھن ہے تو پھر کیا دیکھنا
جو کہے کہہ لے، چلن اپنا گدایانہ سہی
اُس نے کرنا تھا کسی کو تو نظر انداز بھی
بزم میں اُس شوخ کی میں ہی وُہ بیگانہ سہی
جانتے ہیں کچھ ہمِیں، ہے حالِ دل اندر سے کیا
دیکھنے میں ٹھاٹھ اِس بستی کے شاہانہ سہی
سیج تھی شاید کوئی، نَے وصل کی شب تھی کوئی
تم سے تھی منسوب جو ہر بات افسانہ سہی
ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جنوں کی رفعتیں
زیست میں ماجدؔ اگرچہ لاکھ فرزانہ سہی
ماجد صدیقی

دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
تنے گی اُس کے ابرو کی کماں آہستہ آہستہ
دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ
جو کونپل سبز تھی دو چارہے اَب زردیوں سے بھی
مرتب ہو رہی ہے داستاں آہستہ آہستہ
لہو میں چھوڑنے پر آ گیا اَب تو شرارے سے
بدل کر خوف میں اک اک گماں آہستہ آہستہ
سجا رہتا تھا ہر دم آئنوں میں آنسوؤں کے جو
کنول وُہ بھی ہُوا اَب بے نشاں آہستہ آہستہ
اکھڑنا تھا زمیں سے اپنے قدموں کا کہ سر سے بھی
سرکنے لگ پڑا ہے آسماں آہستہ آہستہ
بکھر کر رہ گئیں بادِمخالفت کے تھپیڑوں سے
تمنّاؤں کی ساریاں تتلیاں آہستہ آہستہ
سخنور ہم بھی ماجدؔ رات بھر میں تو نہیں ٹھہرے
ملی ہے دل کے جذبوں کو زباں آہستہ آہستہ
ماجد صدیقی

مجھے نکال کبھی کرگسوں سے، چیلوں سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
تلاشِ رزق میں ہر دم پڑے قبیلوں سے
مجھے نکال کبھی کرگسوں سے، چیلوں سے
لگی ہے خِلقتِ آدم تلک خطائے خُدا
پڑا ہے واسطہ جب بھی کبھی رذیلوں سے
ہر عہد میں یہی عنواں حدِ ستم کا ہے
ہتھیلیوں کا تعلق سا ہے جو کِیلوں سے
کسی سے پُوچھئے، جانے اِسے وُہ مِلک اپنی
یہی فریب کرے چاند ساری جھیلوں سے
وُہ دبدبہ ہے ستمگر کا ہر کہیں جیسے
لگا کھڑا ہو وُہی شہر کی فصیلوں سے
نگاہ برق بھی ماجدؔ اُسی پہ پڑتی ہے
پکے جو فصل تو آئے نظر وُہ میلوں سے
ماجد صدیقی

ایسا بھی کبھی حشر گلستاں میں کہاں تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
تھا جو بھی شجر عرش نشاں، فرش نشاں تھا
ایسا بھی کبھی حشر گلستاں میں کہاں تھا
کانٹوں پہ لرزتی تھی تمنّاؤں کی شبنم
چھالا سا ہر اِک لفظ سرِ نوکِ زباں تھا
ہونٹوں نے بھی لو، زہرِ خموشی سے چٹخ کر
سیکھا وُہی انداز جو مرغوبِ شہاں تھا
باز آئے گھٹانے سے نہ جو رزقِ گدا کو
اَب کے بھی سرِ شہر وُہی شورِ سگاں تھا
توصیف کا ہر حرف مثالِ خس و خاشاک
دیکھا ہے جہاں بھی پسِ شہ زور رواں تھا
غافل نظر آیا نہ کبھی وار سے اپنے
وُہ خوف کا خنجر جو قریبِ رگ جاں تھا
مجروح پرندوں سی جو پیوندِ زمیں ہے
ماجدؔ نگہِ شوق پہ کب ایسا گماں تھا
ماجد صدیقی

کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
تھی غنچۂ دل میں جو وُہی بات رُکی ہے
کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے
کب ریت کی دیوار سے سیلاب ہے ٹھٹکا
فریاد سے کب یورشِ آفات رُکی ہے
ژالہ سا ہر اِک برگ لپکتا ہے زمیں کو
کیسی یہ بھلا باغ میں برسات رُکی ہے
کچھ اور بھی مچلے گی ابھی بُعدِ سحر سے
پلکوں پہ ستاروں کی جو بارات رُکی ہے
عجلت میں رواں، مالِ غنیمت کو سنبھالے
کب موجِ ہوا پاس لئے پات، رُکی ہے
بوندوں نے قفس میں بھی یہی دی ہے تسلی
صیّاد سے کب بارشِ نغمات رُکی ہے
ماجدؔ یہ کرم ہم پہ کہاں موسمِ گل کا
کب ہاتھ میں لینے کو صبا ہات رُکی ہے
ماجد صدیقی

وُہ مانے گا نہ اَب کوئی صفائی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
ترازُو ہاتھ جس منصف کے آئی
وُہ مانے گا نہ اَب کوئی صفائی
کھلائے گی کلی کو اور ہوا پھر
اُڑا لے جائے گی اُس کی کمائی
لگے، جیسے اندھیرے ہی میں بانٹے
وُہ جس کو بھی عطا کر دے خُدائی
بنے گا چھتر وُہ بیوہ کے سر کا
بڑوں نے جس کو اَب تختی تھمائی
ٹپکتی ہوں چھتیں جن کے سروں پر
لبوں پر کیوں نہ ہو اُن کے دُہائی
ہوئے بے اختیار ایسے کہ ہم سے
وُہ اِک اِک بات کی مانگے صفائی
نظر میں ٹُوٹتے تارے بسا کر
تِرا لہجہ ہوماجدؔ کیا رجائی
ماجد صدیقی

بیچ میں جس کے مایہ کی ہے سانپوں جیسی کاٹ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پہلی سے پہلی تک دیکھوں دریا کا وُہ پاٹ
بیچ میں جس کے مایہ کی ہے سانپوں جیسی کاٹ
فوم کے نرم گدیلوں پر بھی دل پر نقش ملے
سایہ دار دھریک کے نیچے بان کی سادہ کھاٹ
سامنے جن کے سچ کے ننگا لگتا تھا ہر جھُوٹ
رہ گئے دُور وُہ لوگ پُرانے سیدھے سادھے جاٹ
ہر اُمید کے دامن پر پیوست رہیں ہر آن
درس میں اپنے شامل تھے جو اسکولوں کے ٹاٹ
جس بازار میں جاؤں دُوں مَیں نرخ سے بالا دام
کم اپنے اوزان میں نکلیں ہر تکڑی کے باٹ
قول کے کچّے لوگوں سے نسبت پر کیسا ناز
دھوبی کے کُتّے کا کیا ہے جس کا گھر نہ گھاٹ
سانپ نکل جانے پر ؔ اُس کی پِیٹ لکیر
محرومی کے ہاتھوں لے، بیٹھا انگوٹھے چاٹ
ماجد صدیقی

شجر کونپلوں کے نکلتے ہی نذرِ خزاں ہو گیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
پرندوں سے تھا ہم سخن جو، وُہی بے زباں ہو گیا ہے
شجر کونپلوں کے نکلتے ہی نذرِ خزاں ہو گیا ہے
کسی برگ پر جیسے چیونٹی کوئی تیرتے ڈولتی ہو
ہواؤں کی زد پر کچھ ایسا ہی ہر آشیاں ہو گیا ہے
کسی ابر پارے کو بھی آسماں پر نہ اَب شرم آئے
بگولہ ہی جیسے سروں پر تنا سائباں ہو گیا ہے
سمٹتے ہوئے کور لمحوں کی بوچھاڑ برسا رہا ہے
مہِ نو بھی جیسے اُفق پر تنی اِک کماں ہو گیا ہے
لگے اِس طرح جیسے دل بھی شکم ہی کے زیرِنگیں ہو
کہ دربار بھی اَب تو، مُحبوب کا آستاں ہو گیا ہے
مسافت سے پہلے بھی کم تو نہ تھی کچھ گھُٹن ساحلوں کی
چلے ہیں تو اَب مشتِ کنجوس کی بادباں ہو گیا ہے
نجانے بھروسہ ہے کیوں اُس کی نیّت پہ ؔ دلوں کو
وہ حرفِ تسلی تلک جس کا سنگِ گراں ہو گیا ہے
ماجد صدیقی

یاد ستائے خوشبو کے مرغولوں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
پگ پگ دیکھ کے بڑھتی بِھیڑ بگولوں کی
یاد ستائے خوشبو کے مرغولوں کی
یادیں ہیں وُہ اشک بہ اشک کہ آنکھوں میں
اُتری دیکھوں رُت ساون کے جھُولوں کی
مرضی کا برتاؤ اندر والوں سے
باہر والوں سے ہے جنگ اُصولوں کی
شام ڈھلے قبروں کی گنتی لے بیٹھے
جس نے بھی دوکان بنائی پھُولوں کی
قافلہ سالاروں کے دھیان سے لہرائے
آنکھ میں جمعیت سی لنگڑوں لُولوں کی
درباروں میں حضرتِ ذوق کی سازش سے
ہم بھی صف میں ہے نامقبولوں کی
ماجد صدیقی

خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
پت جھڑ کی رُت میں پیڑوں پر پات کہاں
خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں
لفظوں میں جھنکار کہاں اَب جذبوں کی
ہونٹوں پر جھرنوں جیسے نغمات کہاں
جھُول رہے ہیں جسکے تُند بہاؤ پر
دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں
اپنی دُھن میں اُڑنے والا کیا جانے
کون کھڑا ہے اُس کی لگائے گھات کہاں
گُم سُم ہو جائیں مہمان کی دستک پر
گھر والوں کو لے آئے حالات کہاں
اُٹھے ہیں جو فرعونی دستاروں پر
کٹنے سے بچ سکتے ہیں وُہ ہات کہاں
ماجدؔ بنیاؤں سا حصّہ، جیون سے
لینے سے باز آتے ہیں صدمات کہاں
ماجد صدیقی

اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
پل پل بُجھتی جس میں اپنی ذات دکھائی دیتی ہے
اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے
صحن چمن میں پہلا ہی سا رقص و سرُود ہوا کا ہے
ہر سُو گرتے پتّوں کی برسات دکھائی دیتی ہے
جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں
ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے
شاخِ طرب سے جھڑنے والی، گردِ الم میں لپٹی سی
صُورت صُورت پیڑ سے بچھڑا پات دکھائی دیتی ہے
سودا ہے درپیش ہمیں جو آن کا ہے یا جان کا ہے
صُورت جینے مرنے کی اک سات دکھائی دیتی ہے
موسمِ دشت میں نم ہو ماجدؔ کب تک آبلہ پائی سے
اَب تو ہمیں اِس رن میں بھی کُچھ مات دکھائی دیتی ہے
ماجد صدیقی

مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
بات بظاہر جو بھی کھری دکھلائی دے
مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے
ماند کرے پل بھر میں گردِ ریا اُس کو
باغ میں کھِلتی جو بھی کلی دکھلائی دے
عُمر کی گاڑی جس کو پیچھے چھوڑ آئی
اُس جیسی اَب کون پری دکھلائی دے
دن کو بھی اَب یُوں ہے جیسے آنکھوں میں
سُرمے جیسی رات سجی دکھلائی دے
کینچلیوں سی برگ و شجر سے اُتری جو
آنے والی رُت بھی وُہی دکھلائی دے
آنکھ کا عالم پُوچھ نہ اُس کے بچھڑنے پر
کاسۂ گُل میں اوس بھری دکھلائی دے
تُو اُس مارِسیہ سے دُور ہی رہ
نیّت جس کی تجھ کو بُری دکھلائی دے
ماجد صدیقی

جانچ لیا جس نے گردن کی دھاری سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
بچتے کیا صّیاد کی ہم عّیاری سے
جانچ لیا جس نے گردن کی دھاری سے
ہم اپنے‘ وُہ اپنے جھنجھٹ لے بیٹھے
کام کی کوئی بات نہ ہو اُس ناری سے
پیڑ مسلسل زد پر آئے پانی کی
کب تک لیں گے کام بھلا جیداری سے
ہتھیا لیں گے رقبہ اپنی مرضی کا
پینچ نظر آتے ہیں ملے پٹواری سے
شیشے پر کچھ حرف لہو کے چھوڑ گئی
مشت پروں کی ٹکرا کر اِک لاری سے
ماجدؔ ہم میں کون چمک تھی سُورج سی
جو بھی ملا ہم سے وُہ ملا بے زاری سے
ماجد صدیقی

مجھ بچّے سے خاص دُعا کرواتا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
باپ مرا بھی، بے بس جب ہو جاتا تھا
مجھ بچّے سے خاص دُعا کرواتا تھا
دبتی دیکھ کے گھر میں چیخیں بچّوں کی
مہماں بھی کچھ کھانے سے گھبراتا تھا
میرے بھی بالک ہیں تمہارے جیسے ہی
ریڑھی والا نت یہ ہانک لگاتا تھا
مُنّا اپنی ماتا جی کی شفقت کا
غالب حصّہ نوکر ہی سے پاتا تھا
ٹھیکیدار نجانے کیوں ہر افسر کی
سالگرہ کی دیگیں خود پکواتا تھا
گھر پر ہی ملنے ہر اچّھے سائل سے
صاحب اکثر دیر سے دفتر جاتا تھا
اُس کو بھی اغراض نے گھیرا تھا شاید
سچ کہتے ماجدؔ بھی کچھ ہکلاتا تھا
ماجد صدیقی

یہی جُنوں ہے مِرا وُہ مجھے رہائی نہ دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
اسیرِ قرب کرے، وسعتِ خُدائی نہ دے
یہی جُنوں ہے مِرا وُہ مجھے رہائی نہ دے
وُہ مثلِ موج مِلے آ کے ریگِ ساحل سے
مگر اُسے بھی کبھی اذنِ آشنائی نہ دے
یہ عہدِ جیب تراشی ہے کیا کہ جس میں کہیں
کوئی بھی کھُل کے کسی اور کی صفائی نہ دے
یہی دُعا ہے کہ بے آب ہوں نہ حرف مِرے
سزا کوئی بھی وُہ دے، عجزِ بے نوائی نہ دے
امیرِ شہر کا کیا وُہ تو بس یہی چاہے
یہاں کوئی بھی کسی بات کی دُہائی نہ دے
یہ کیسا منبعِٔ ظلمت ہے دَورِ نو کہ جہاں
جز اپنی ذات کے ماجدؔ کوئی دکھائی نہ دے
ماجد صدیقی

میدان کی اِک ہار ہے پہچان ہماری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
اتنی سی سرِ ارض ہے اَب آن ہماری
میدان کی اِک ہار ہے پہچان ہماری
بتلائے کہ سر کون سی دہلیز پہ خم ہو
کر دے کوئی مشکل یہی آسان ہماری
ابجد سے بھی جو پیار کی واقف نظر آئے
سَو جان ہو اُس شخص پہ قربان ہماری
یہ ساغرِ جم بھی ہے اٹا گردِ زماں سے
کیا رہنمائی کرے وجدان ہماری
ہے اِس کی بقا بھی غمِ اولاد کے ناتے
ورنہ ہے کہاں جسم میں اب جان ہماری
نکلے ہی کہاں تخت کی زنجیر سے ماجدؔ
کب آ کے خبر لے کوئی خاقان ہماری
ماجد صدیقی

اور جنّت میں مجھ پر یہ بہتان لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اَن چکّھا، چکّھا تو میں شیطان لگا
اور جنّت میں مجھ پر یہ بہتان لگا
آیا ہے پھر کرب کوئی غُرّانے پر
جنگل جیسا پھر یہ دل سنسان لگا
چھُو کر دیکھا تو جل اُٹھیں پوریں بھی
کام بظاہر جو بھی کوئی آسان لگا
ماند پڑی جُوں جُوں اُمید رہائی کی
کنجِ قفس تُوں تُوں ہے جنم استھان لگا
ڈُوب کے مرنے والوں کی فہرست لئے
تختہ سا اِک جھیل کنارے آن لگا
آنکھ سے اوجھل رنگوں کا سیلاب لئے
غنچہ غنچہ ماجدؔ کا دیوان لگا
ماجد صدیقی

آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ابرِ گریزاں سی بیگانہ، لیکن دیکھی بھالی سی
آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی
آنکھ نہ کُھل چکنے سے پہلے کیا کیا سُندر لگتی تھی
وُہ لڑکی انجانی سی، پھولوں کے رُوپ میں ڈھالی سی
کس کس بات میں کس کس پر ہم کھولیں اِس کی بیتابی
نقش ہو کس کس نامے پراپنی یہ آنکھ، سوالی سی
اوروں کو بھی مجُھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو
فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی
جانے کس کی سنگ دلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں مَیں
شام تلک کشکول بنی اِک بُڑھیا بھولی بھالی سی
ماجدؔ وہ نادر ہستی بھی اَب تو خواب خیال ہوئی
از خود جھُک جانے والی جنّت کے پیڑ کی ڈالی سی
ماجد صدیقی

ہمیں بھی خبط سا لاحق ہے امیدِ سحر کب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
افق پر، مہر بننا تھا جسے اَب وُہ شرر، کب ہے
ہمیں بھی خبط سا لاحق ہے امیدِ سحر کب ہے
کبھی ایسا بھی تھا لیکن نہ تھے جب بخت برگشتہ
اِسے دریوزہ گر کہئے، یہ دل اَب تاجور کب ہے
اثر جس کا مرض کی ابتدا تک ہی مسلّم تھا
ملے بھی گر تو وُہ نسخہ بھلا اب کارگر کب ہے
چلے تو ہیں کہ انسانوں کو ہم، ہم مرتبت دیکھیں
مگر جو ختم ہو جائے بھلا یہ وہ سفر کب ہے
علی الاعلان حق میں بولتا ہو جو نحیفوں کے
اُسے مردود کہئیے شہر میں وُہ معتبر کب ہے
قفس کا در کہاں کھُلنے کا ہے لیکن اگر ماجدؔ
کھُلا بھی دیکھ لیں تو اعتبارِ بال و پر کب ہے
ماجد صدیقی

پات پہ جیسے چیونٹی دریا پار کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
آس ہمیں بھی کچھ ایسا ہی خوار کرے
پات پہ جیسے چیونٹی دریا پار کرے
جُگ بیتے ایسا ہی ہوتا آیا ہے
دل میں جس کے چور ہو پہلے وار کرے
دیکھ کے چابک راکب کا، چل پڑنے سے
مرکب میں کب تاب کہ وُہ انکار کرے
بادل جُھک کر اِک دو بوندیں برسا کر
اور بھی افزوں صحرا کا آزار کرے
ہم وُہ گھوڑے بیچ کے سونے والے ہیں
اَب کوئی بھونچال جنہیں بیدار کرے
عرضِ سخن پر ماجدؔ داد خسیسوں کی
کسب ہُنر تک سے جیسے بیزار کرے
ماجد صدیقی

وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
آنکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا
لو ہم سے چھُپے وُہ حسن بھی جو
ہے حفظ ہمیں کتاب جیسا
اُس شوخ سے آنکھ تک ملانا
ممنوع ہُوا شراب جیسا
بَنیا نہ خُدا کو بھی بنا دیں
ہم لوگ کریں حساب جیسا
ہر مرحلۂ مراد ماجدؔ
لگتا ہے ہمیں سراب جیسا
ماجد صدیقی

جانے کس بیوہ نے دیپک گایا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
آنکھ میں پھر اک شعلہ سا لہرایا ہے
جانے کس بیوہ نے دیپک گایا ہے
گوندھ کے آٹا، اُس سے بنے کھلونوں سے
ماں نے روتے بچّے کو بہلایا ہے
کس کس اور سے کیا کیا طوطے آ جھپٹے
باغ میں جب سے پیڑ پہ پھل گدرایا ہے
جھونپڑیاں تک محلوں کے گُن گاتی ہیں
گھر گھر جانے کس آسیب کا سایا ہے
صاحبِ ثروت پھر نادار کے جبڑے میں
اپنے کام کے لفظ نئے رکھ آیا ہے
ساتھ کے گھر میں دیکھ کے پکتا خربوزہ
ماجدؔ بھی وڈیو کیسٹ لے آیا ہے
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑