تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

دِل دِل کرب کمان

کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو
بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے
جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی
غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے
کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا
ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے
بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ
شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے
چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے
اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے
اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع
اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے
وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو
ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے
یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی
بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے
ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے
وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے
ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر
سنگ دلوں کو ماجد موم بنانے نکلے
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا
پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما
ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا
اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا
اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا
فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن
مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا
کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا
جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا
کچھ نہیں جن میں معانی منمناہٹ کے سوا
درس کیا سے کیا ہمیں ماجد ہیں ازبر دیکھنا
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے
جتنے ہم مسلک تھے اُس کے کیا کیا اُس سے دُور ہوئے
دنیا نے اک جسم کو یوں بھی ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے
زور آور نے جتنا بھی باروری بیج تھا نخوت کا
ساون رُت کی بارش جیسا اُس کی خاک میں بویا ہے
اور تو امّ الحرب کو ہم عنوان نہیں کچھ دے سکتے
ہاں خاشاک نے دریا کو چالیس دنوں تک روکا ہے
ماجد جھُکتے سروں سے آخر یہِاک بات بھی سب پہ کھلی
کھٹکا ہے تو نفقہ و نان کا ہم ایسوں کو کھٹکا ہے
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے
مان بھی لیں، ممکن ہے، قدم اپنے ہی غلط ہوں
دُور نکل آئے ہیں بہت، اب لوٹا جائے
کھوج میں شاید شرط یہی، بار آور ٹھہرے
اور ذرا گہرے پانی میں، اُترا جائے
دریا میں کھُر جائے گھڑا کھُر جانے والا
ٹھہرا ہو جو عہد وہ عہد نہ توڑا جائے
مژدۂ عید سنانے والا چاند، ہمیشہ
بعد برس کے، پھر چاہت سے دیکھا جائے
ماجد صدیقی

ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا
یہ ہم کہ گھونسلے جن کے ہیں زد پہ طوفاں کی
لٹے گا چین ہمِیں سے خراب حالوں کا
بہم پناہ ہمیشہ جنہیں ہے غاروں کی
پھرا ہے اُن کی طرف رخ کہاں اجالوں کا
دیا تو دینا پڑے گا ہمیں بھی لمحوں میں
ہمارے نام ہے جو جو حساب سالوں کا
کھُلا تو ہاتھ لگائیں گے سارے کانوں کو
چمن میں حال ہے ماجد جو با کمالوں کا
ماجد صدیقی

دل بالک، من جائے گا بہلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
دل بالک، من جائے گا بہلانے سے
ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے
اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے
راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے
روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے
چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے
بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے
اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں
ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے
ماجد صدیقی

نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی
نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی
شاخ سے کٹ کر کسی کالر پہ گل سج جائے گا
وُہ کہ جو ہونٹوں پہ آئے گی ہنسی، رُک جائے گی
ہوتے ہوتے خشک موسم، ہاتھ دِکھلا جائے گا
ہوتے ہوتے پیڑ کی، بالیدگی رُک جائے گی
ہم نے ماجدؔ کب یہ سوچا تھا کہ جسم و جان کو
سینچتی ہے جو وہ موجِ تازگی، رُک جائے گی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑