تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

آنگن آنگن رات

ہمارے نام ہی موسم کی ہر پھٹکار ہو جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
ہماراتن بدن ہی جھاڑ ہو، جھنکار ہو جیسے
ہمارے نام ہی موسم کی ہر پھٹکار ہو جیسے
ذرا سا بھی جو بالا دست ہو، ہم زیر دستوں کے
سِدھانے کو وُہی سب سے بڑی سرکار ہو جیسے
یہاں مخصوص ہے ہر دم جو چڑیوں فاختاؤں سے
اُنہی سا کچھ ہماری جاں کو بھی آزار ہو جیسے
پتہ جس کا صحیفوں میں دیا جاتا ہے خلقت کو
نفس میں اِک ہمارے ہی، وُہ ساری نار ہو جیسے
ہمیں ہی در بہ در جیسے لئے پھرتا ہے ہر جھونکا
وجود اپنا ہی ماجدؔ اِس زمیں پر بار ہو جیسے
ماجد صدیقی

خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے
اظہارِ غم جاں کو، قرطاس ہو یہ چہرہ
ہو حرف رقم جو بھی، اشکوں سے لکھا جائے
ہونے کو ستم جو بھی ہو جائے، پہ عدل اُس کا
آئے گا جو وقت اُس پر، بس چھوڑ دیا جائے
خدشہ ہے نہ کٹ جائے، شعلے کی زباں تک بھی
ہر رنج پہ رسی سا، چپ چاپ جلا جائے
بالجبر ملے رُتبہ جس بات کو بھی، حق کا
ماجدؔ نہ سخن ایسا، کوئی بھی سُنا جائے
ماجد صدیقی

وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
ہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہم
وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم
وُہ کون حقیقت ہو جس کو، ایقان کی منزل ٹھہرائیں
تکفیر ہو کس کس منظر کی اور کس پر ایماں لائیں ہم
نسلوں تک گروی رکھ کر ہم، کیا ٹھاٹھ سنبھالے بیٹھے ہیں
کچھ کم تو نہیں یہ کاج اپنا کیونکر نہ بھلا اِترائیں ہم
اغراض کا عرفاں ہونے پر مُنہ نوچیں ہر سچّائی کا
دھجّی دھّجّی ہر قول کریں، گر عہد کریں، پھر جائیں ہم
جو عیش ہمارا ہے چاہے بن جائے سزا اوروں کے لئے
جس حرص نے یہ اعزاز دیا، اُس حرص سے باز نہ آئیں ہم
یہ بات کہی جگنو نے ہمیں، تھک ہار کے تیرگیٔ شب میں
ہے حرفِ منّور جو بھی کوئی ماجدؔ نہ زباں پر لائیں ہم
ماجد صدیقی

کہ اِس جنگل میں جو بھی آنکھ ہے ہشیار، غالب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 89
ہمارے عہد میں کب دیدۂ بیدار غالب ہے
کہ اِس جنگل میں جو بھی آنکھ ہے ہشیار، غالب ہے
بچے بھی گر بھنور سے تو اُسے ساحل نہ اپنائے
یہاں ہر ناتواں پر ایک سا آزار، غالب ہے
پہنچ کر عمر کو بھی یوں ہوا محصورِ نااہلاں
کہ جیسے شیرِ نر بھی دشت پر، ناچار غالب ہے
وُہی جو سانپ کی یورش سے اُٹھے آشیانوں میں
سماعت در سماعت، بس وُہی چہکار غالب ہے
بنو ماجد نہ غالبؔ، ذوق بن جاؤ جو ممکن ہو
کہ دُنیائے ہُنر میں قربتِ دربار غالب ہے
ماجد صدیقی

آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ہو چلی ہے اَن دیکھی بات، میرے آنگن میں
آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں
اوٹ سے منڈیروں کی، ڈور چھوڑ کر مجھ کو
دے گیا ہے پھر کوئی مات، میرے آنگن میں
نام پر مرے کس نے، کاٹ کاٹ کر چِّلے
دفن کی ہے آسیبی دھات، میرے آنگن میں
بس اِسی بنا پر مَیں، آسماں سے رُوٹھا ہوں
چاند کیوں نہیں اُترا رات، میرے آنگن میں
جب سے کُھل چلی ماجدؔ، بے بضاعتی دل کی
کرب نے لگائی ہے گھات، میرے آنگن میں
ماجد صدیقی

لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
ہم بھی کہتے ہیں یہی، ہاں کھیتیاں اُگنے لگیں
لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں
ناخلف لوگوں پہ جب سے، پھول برسائے گئے
شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اُگنے لگیں
ان گنت خدشوں میں کیا کیا کچھ، منافق بولیاں
دیکھا دیکھی ہی، سرِ نوکِ زباں اُگنے لگیں
آنکھ تو تر تھی مگرمچھ کی، مگر کیا جانیئے
درمیاں ہونٹوں کے تھیں، کیوں پپڑیاں اُگنے لگیں
یُوں ہُوا، پہلے جبنیوں سے پسینہ تھا رواں
فرطِ آبِ شور سے، پھر کائیاں اگنے لگیں
اک ذرا سا ہم سے ماجدؔ، بدگماں ٹھہرا وُہ اور
بستیوں میں جا بہ جا، رُسوائیاں اُگنے لگیں
ماجد صدیقی

اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ہمارے آپ کے، ہونے لگے ہر شب، زیاں کیا کیا
اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا
غلامانِ غرض سے، حال اِس پونجی کا، مت پُوچھو
بسا رکھے ہیں ماتھوں میں، نجانے آستاں کیا کیا
صدی کے نصف تک پر تو، اُنہی کا راج دیکھا ہے
نجانے اِس سے آگے ہیں ابھی محرومیاں کیا کیا
کبھی اشکوں کبھی حرفوں میں، از خود ڈھلنے لگتے ہیں
لئے پھرتی ہے ماجدؔ آبلے، اپنی زباں کیا کیا
ماجد صدیقی

ہر شخص سے پوچھیں ہمیں آزار ہے کیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
ہونٹوں پہ نہ لائیں یہ سخن ’’یار ہے کیسا‘‘
ہر شخص سے پوچھیں ہمیں آزار ہے کیسا
نیلام تو اُٹھ لے ابھی کھل جائے گا سب کچھ
ہم کون ہیں اور مصر کا بازار ہے کیسا
بھّٹی میں شراروں کی چمن سینچ رہا ہے
اس دور کا انسان بھی بیدار ہے کیسا
انصاف کی میزان کا بَل خود یہ بتائے
عشّاق کا احوال سرِ دار ہے کیسا
ایقان ہی جب اُن پہ تمہارا نہیں ماجدؔ
پھر کرب و الم کا تمہیں اقرار ہے کیسا
ماجد صدیقی

کھنچ کر لبوں پہ آنے لگی جان دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
ہم پر طبیبِ وقت کا احسان دیکھنا
کھنچ کر لبوں پہ آنے لگی جان دیکھنا
ہنگامِ صبح شاخ پہ کھِلنے لگے ہیں کیوں
غنچوں پہ اِس طرح کے بھی بہتان دیکھنا
سینوں کو ہے جو سانس بہم، اِس فتور پر
لب دوختوں پہ اور بھی تاوان دیکھنا
لے کر خُدا سے مہلتِ فکر و عمل ہمیں
مروا ہی دے نہ پھر کہیں شیطان دیکھنا
فرہاد کو تو قربتِ شیریں دلا چکا
کرتا ہے اور کیا دلِ نادان، دیکھنا
تنکوں کو زورِ موج سے کیا فرصتِ گریز
اَب بھی یہی ہے وقت کا، فرمان دیکھنا
ماجدؔ کہو سخن، مگر اپنی بساط کا
ہونے لگو نہ خود ہی پشیمان دیکھنا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑