ماجد صدیقی کا نثر نامہ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ میرے سامنے ہے کتاب کو دیکھ کر۔۔۔ گویا دلبستاں کھل گیا۔۔۔ مجھے چوبیس سال ادھر کا وہ زمانہ یاد آ رہا ہے جب عاشق محمد خاں نے بقائمی ہوش و حوا س ماجد صدیقی بننے کا ارتکاب کیا تھا۔

عصری لحاظ سے اس لالہ صحرائی کا ابتدائی جغرافیہ دھندلکے میں ہے۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عاشق محمد خاں قسم کی کسی چیز سے کم از کم ہمارا رشتہ کبھی نہیں رہا تکلف برطرف، ذوقی اعتبار سے ایسی سنگلاح زمین کے ناموں سے ہم کچھ محتاط ہی رہے ہیں البتہ ماجد صدیقی سے اپنی آشنائی اس وقت سے ہے جب وہ نہ کسی اخبار کا کالم نویس تھا نہ ریڈیو ٹی وی پر چہکنے والا شاعر اور نہ کسی کالج کا معلم، البتہ معصوم، خوش ادا اور پر بہار طبیعت کا نوجوان جو اساتذہ کو اس لئے عزیز کہ شرافت اس کا جوہر تھا یا لوگوں میں اس لئے مقبول کہ مرنجان مرنج، خوش وضع و خوش گفتار ہیئت ترکیبی میں دھان پان قسم کا نستعلیق نوجوان جو۔۔۔ تصویر کے پردے میں بھی عریاں۔۔۔ لیکن اپنے کھنکتے لہجے اور متحیر آنکھوں کی بنا پر سب سے مختلف اور منفرد یعنی وہی ماجد صدیقی جو کالج مشاعروں کی راہ سے مقبولیت کے ایوان میں داخل ہوا اور جلد ہی اہلِ دل نے اس کے اضطراب کو بھانپتے ہوئے یہ فتویٰ دے دیا۔

زندگی کے بیکراں سمندر میں جو تموج و تلاطم ہے۔ اس سے لڑنے، ٹکرانے اور سر پھوڑنے والے عام روش سے ہٹ کر چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی عمر اور شعور کا سفر توازن و تربیت کا پابند نہیں ہوتا۔ مشکلات و مسائل کی مہیب اور محکم چٹانیں ان کے عزم و حوصلہ کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ راہوں کے خوفناک پتھر ان کی آبلہ پائی کو ذوقِ سفر سے محروم نہیں کر سکتے۔۔۔ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے حوالے سے ماجد صدیقی کا حسب نسب کچھ ایسے ہی لوگوں سے ملتا جلتا ہے یوں تو۔

چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں لیکن ماجد صدیقی کی بے قرار طبیعت چونکہ صراطِ مستقیم پر چلنے سے الرجک تھی، لہذا انکشافِ ذات اور انکشافِ حیات کے جنون میں وہ ہم سے دور نکل گیا یعنی 

اوبہ صحرا رفت و مادر کوچہ ہا رسوا شدیم

یادش بخیر ہمیں یہ اطلاعات ملتی رہیں کہ اس شخص کو اپنی طَرفہ طبیعت کی بنا پر کسی مڈل سکول میں معلمی کی سزا بھی سنائی گئی۔ لیکن نالہ پابند نے نہ ہو سکا، اس شخص کے تیور نہ بدلے، ہر چند احباب اس کی اصلاح احوال کے لئے اپنی سی کوشش کرتے رہے اور محکمہ اپنی رایات کے مطابق اسے راہ پر لانے کے لئے حد سے گزرتا رہا۔ بعض جہاں دیدہ بزرگوں نے بھی مشورہ دیا کہ میاں جس راہ پر چل رہے ہو وہ مکے کو نہیں ترکستان کو جاتی ہے کیرئر کے تقاضے اور سودوزیاں کی نزاکتوں پر بھی چند عاقبت اندیش دوستوں نے عالمانہ لیکچر دیا اس شخص کو شوقِ فضول سے محفوظ رکھنے کے لئے یارانِ نکتہ دان نے غالب کا حکیمنہ مشورہ بھی دیا کہ:

کام اچھا ہے وہی جس کا مآل اچھا ہے

پس منظر کی یہ گفتگو آؤٹ لائنز کے طور پر اس لئے ضروری تھی کہ ماجد صدیقی کی تازہ نثری تصنیف صورت احوال آنکہ کے مطالعہ سے سرمستی و سربشاری کی جو کیفیت مجھ پر طاری ہوئی اس کے اسباب و محرکات واضح ہو سکیں اور یوں بھی کہ یہ کتاب میرے خیال میں مصنف کی تسبیح روز و شب کا بائیو ڈاٹا ٹائپ چیز ہے جسے علامتی اعتبار سے حیاتیہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مصنف نے اسے زندگی کی گرمر کہہ کر تسلیم کیا ہے کہ یہ اس کے احساسات و جذبات کا نگار خانہ ہے۔

اس کتاب میں ہر مرحلے اور ہر موڑ پر مصنف کی ذات نمایاں ہے احوال و واقعات کا خمیر جس فضا اور ماحول کا پیدا کردہ ہے وہ ہمارے لئے اجنبی نہیں ہمارے مروجہ نظامِ تعلیم میں تمام تر توجہ انسان کو محض عالم بنانے کی ضرورت پر مرکوز رہتی ہے تعلیم کے اس یکطرفہ عمل کے نتیجہ میں روحانیت اور مادیت میں خلا پیدا ہو چلا ہے تہذیب کا صورت گر یعنی معلم احساس محرومی اور شکست خوردگی کا شکار ہے معلم کے ساتھ معاشرتی سطح پر جو نا انصافیاں روا رکھی جا رہی ہیں ان کی سنگینی بالائے زخم ہائے دگرہے یہی کچھ نہیں بلکہ :

ہر کوئی چاک گریباں کا تماشائی ہے

ماجد صدیقی (جو کہ خداوند ان مکتب کا محرم راز اور نبض شناس ہے۔) کی نگاہ ان نفرتوں اور کدورتوں پر بہت گہری ہے جو اس طبقے کے بعض برخود غلط افراد کی وجہ سے علم و حکمت کے ایوانوں کو دھواں دھار کر رہی ہے۔

’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے معلم کا المیہ یہی ہے کہ وہ اس گھٹن اور تلخی کو محبت و ذہانت کی زمردیں وادی میں بدلنا چاہتا ہے اسی مقصد کے پیش نظر اس نے اپنے زخم ہائے پنہاں کو بھی نمایاں کیا ہے اور ان فتنوں کی یاد بھی تازہ کی ہے جو اہلِ مدرسہ کے طفیل بپا ہوئے۔

ہر کس ازدستِ غیر نالہ کند

سعدی ازدستِ خویشتن فریاد

صورت احوال آنکہ مصنف کے تجربات وہ مشاہدات ا ایکس رہے ہے جس میں حق و صداقت کی جھلکیاں بھی ہیں اور حالات کی سازشوں کے خلاف احتجاج بھی خوبصورت پہلو یہ ہے کہ مصنف کی شخصیت کا ارتقائی عمل ہیجان اور بحران کے شدید لمحوں میں بھی جاری ہی رہتا ہے کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں معاشی الجھنوں اور شعور و لاشعور کی کشمکش سے پیدا ہونے والی بد خوابی (Night Mare)کا احساس موجود ہے لیکن غم و الم کی فراوانی حوصلے کو کمزور اور مضمحل نہیں کر پاتی مصنف مسرت کو ہی نہیں، غم و ام کی فراوانی حوصلے کو کمزور اور مضمحل نہیں کر پاتی مصنف مسرک کو ہی نہیں، غم کو بھی گلے لگاتا ہے وہ سکون کو ہی نہیں تغیر کو بھی زندگی سمجھتا ہے غموں اور محرومیوں سے بھری ہوئی یہ زندگی اس کے لئے ایک نشاطیہ تجربہ ہے وہ جانتا ہے کہ غم کی پہچان ہو تو وہ بھی نشاط بن جاتا ہے۔

یہ کتاب ماجد صدیقی کا نیا سائیڈ پوز ہے اس سے پہلے پنجابی شاعری اور اردو غزل کے حوالے سے یہ شخص جانا پہچانا جاتا رہا نثر کے کوچے میں ماجد صدیقی کا یہ پہلا قدم ہے لیکن وہ اس کوچے کے آداب سے پوری طرح واقف ہی نہیں پورے رکھ رکھاؤ اور ایٹی کیٹ کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے جن لوگوں کو ماجد صدیقی سے کسی طور رابطہ و تعلق ہے وہ جانتے ہیں کہ شعر و ادب کی وادی میں اس نے بغیر کسی سہارے اور سرپرستی کے ایک طویل سفر تنہا طے کیا ہے زندگی اور ذہن کے اس سفر میں وجدان، علم اور مہارت کے جو چراغ جلے، خیال احساس اور تجربے کے جو پھول کھلے یہ کتاب ان کا گلشن صدرنگ یا مصنف کے جمالیاتی رُوپ کا دوسرا نام ہے۔

صورت احوال آنکہ۔۔۔ اردو ادب میں مزاج اور معنویت کے اعتبار سے ایک ایسا تجربہ اور اضافہ ہے جو اسلوب کی دلاویزی اور پنجابی ذائقے کی وجہ سے منفرد بھی ہے، اور شگفتہ و شاداب بھی۔۔۔ واقعات کی بوقلمونی اور بیان کی دلکشی نے کتاب کو کیف آور اور خیال انگیز مزاج کا ایسا کیپسول بنا دیا ہے جس کے استعمال سے مردنی و بے کیفی، اعصابی کشیدگی و افسردہ خاطری جیسے ذہنی اور نفسیاتی عوارض سے نجات مل سکتی ہے۔

مزاحیہ ادب کی سپلائی لائن اگرچہ بڑی مضبوط ہے اور نئے مال کی آمد آمد کا ہر سو چرچا ہے۔ لیکن گرمیٔ بازار کے باوجود صورت احوال آنکہ اپنے گوناگوں محاسن اور مخصوص ڈکش ن کے پیش نظر بلاشبہ چیزدے دیگر ہے۔

صورت احوال آنکہ۔۔۔ میں ماجد صدیقی کی تخلیقی زرخیزی جہاں جہاں بھی ہے وہ ہنوز سفر میں ہے اس کے فنی شعور کو دیکھ کر اس کے مستقبل سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں

Advertisements