کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے اور جب اس مقولے کے دونوں اجزا ماجد صدیقی کی ذات مجسم ہو کر سامنے آ جائیں تو اس کی حقانیت کا قائل ہونا ہی پڑتا ہے۔ ماجد نے زندگی اور کائنات سے بھرپور عشق کیا ہے اس نے اوج ناز سے اترنے والے کئی ماہتاب دیکھے ہیں۔ اس نے سہمی ہوئی حیات کے لمحوں میں جھانک کر اس کی بے کرانیوں کو دیکھا اور رُتوں کی مر و بے مہری کا خلش آمیز عرفان حاصل کیا ہے۔ جب یہ تمام اجزا اپنی تمام تر جانگدازی کے ساتھ اس کے رگ بے میں سریت کر گئے تو اس کے تخلیقی شخصیت شاعری کی صورت میں ایک ادائے کافرانہ کے ساتھ جلوہ گر ہوئی اور خوشبو بن کر قریہ قریہ پھیل گئی اس کے اپنے قول کے مطابق:

پیار خوشبو ہے چھپائے نہ بنے

بات نکلی تو بِکھر جائے گی

اردو کے جغادری قسم کے نقاروں کے نزدیک اس دور کا مزاج آزاد نظم کے مزاج سے زیادہ ہم آہنگ ہے اور شاید یہ اسی گمراہ کن رائے کی کرشمہ سازی ہے کہ بعض شعراء شاعری ترک کر کے نثری نظمیں تک لکھنے لگے ہیں۔ شاعرانہ نثر اور نثری مم کے چکر میں پڑے بغیر بھی یہ بات بہ صد اعتماد کہی جا سکتی ہے کہ فکر و خیال کا کوئی بھی دور ہو اس کے مزاج میں تلون و تنوع کی فراوانی ہوتی ہے۔ فکری رنگا رنگی مختلف تخلیقی سانچوں میں ڈھلتی رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی دور میں بہت سی اصناف میں طرح طرح کے شاہکار تخلیق ہوئے ہیں۔ میر و سودا غالب و ذوق کے ادوار مین غزل قصیدہ مثنوی اور شہر آشوب وغیرہ دائمی اقدار کے ساتھ ظاہر ہوئے لہذا کہا جا سکتا ہے کہ روح عصر کی باز آفرینی کے لئے کسی بھی صنف کی قید نہیں ہے۔ بلکہ کسی بھی دور کے تہذیبی و تاریخی اور سیاسی و سماجی تقاضوں کی ترجمانی و عکاسی کے لئے اگر ضرورت ہوتی ہے تو صرف اور صرف تخلیقی شخصیت کی اور ماجد صدیقی کا کمال یہ ہے کہ اس کی شخصیت تخلیقی ہے۔ اس کے تخلیقی احساس نے اردو اور پنجابی کے مختلف شعری رُوپ اختیار کئے ہیں یہاں تک کہ اس نے نثری نظم تک کو بھی بخشا نہیں ہے۔ مگر میرے خیال میں اس کی فنکارانہ شخصیت کا کامل اظہار اس کے مجموعہ ہائے غزل ’’وتھاں ناپدے ہتھ‘‘ اور ’’آغاز‘‘ میں ہوا ہے۔

اس کے یہ دونوں مجموعے جدید تر غزل سے ہم آہنگ ہیں۔ غزل نے ہمیشہ اپنے دور کے تقاضوں کا ساتھ دیا ہے اور رُوح عصر کی ترجمانی فرض کماحقہ ادا کیا ہے۔ جدید غزل کا خاصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے تمام تر خارجی روائتی رُوپ کو برقرار رکھتے ہوئے باطنی وسعت اور لچک کا ثبوت فراہم کیا۔ نئی غزل جدید زندگی کی نئی نئی حقیقتوں کی جمالیاتی باز آفرینی کے لئے ایک موثر وسیلہ ثابت ہوئی ہے۔ نئی غزل نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ روائتی شاعرانہ قیود کے باوصف حیات و کائنات کی خوبصورت فنی عکاسی اختیار سے باہر نہیں ہے۔ نئی غزل کی داخلی شخصیت میں صرف فکری حیرت ہی نہیں طرزِ احساس کی قدرت بھی موجود ہے اور بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ماجد صدیقی کی غزل کی تشکیل بھی انہی عناصر سے ہوئی ہے۔ ماجد کی غزل کے سرسری مطالعہ سے تاثر یہ ابھرتا ہے کہ شاعر ذاتی حرماں نصیبوں اور تلخ کامیوں کو رجائی انداز میں پیش کر رہا ہے۔ مگر بہ نظرِ عمیق دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے حوالے سے وہ کا بناتی درد اور عصری کرب کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے۔ اس کی غزلوں میں جنون و حکمت کا حسین امتزاج ہے۔ وہ نئی زندگی کا کورانہ ساتھ نہیں دیتا بلکہ انتہائی فکری ٹھہراؤ سے کام لیتا ہے۔ سائنسی علوم کی پیش رفت ترقی اور تباہی کے جو تضادات اُبھرے ہیں اس کی نرول مصوری ماجد صدیقی کی غزلوں میں بڑی فنکارانہ صناعی سے ملتی ہے ان میلانات و رحجانات کی عکاسی کرتے وقت ماجد نے انفرادی راہ تراشی ہے۔ اس کا تخلیقی سفر معاصرین سے بہت حد تک مختلف ہے لہجے میں اشتعال آمیز بلند آہنگی کی بجائے کرب آفریں ملائمت ہے مثالیں دیکھئے۔

کانٹوں کے درمیاں گُل تر کا نشاں بھی دیکھ

کافر نہ بن رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

اسی غزل کا یہ شعر بطور خاص ملاحظہ ہو۔

تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل

اس بحر میں تموجِ گردِ خزاں بھی دیکھ

جدید دور کی سائنسی آسائشوں نے انسان کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے اور انہی باطنی فاصلوں سے ایک لاعلاج احساس تنہائی نے جنم لیا ہے جس کے اظہار نے نئے شعرا کے یہاں نئی نئی صورتیں اختیار کی ہیں۔ ماجد نے بھی اس عصری احساس سے روگردانی نہیں کی وہ کہتا ہے۔

سہمی ہوئی حیات کو یوں مختصر نہ جان

لمحے میں جھانک اور اسے بے کراں بھی دیکھ

ان تمام کرب سامانیوں کے باوصف ماجد اپنے کلام میں کہیں بھی قنوطیت کا شکار نہیں۔ اس کے فنکارانہ باطن میں زندگی کے جمال کا مشاہدہ تمام تر رعنائیوں سے جلوہ گر ہے اور کی نظر زندگی کی تلاش میں ہر کہیں سرگرداں رہتی ہے۔

ڈھونڈا ہے ہم نے جس کو دل کے سکوں کی خاطر

طے ہو سکے نہ شاید جنگل یہ خامشی کا

کرچیاں اتری ہیں آنکھوں میں اندھیری رات کی

اور ادھر مثردہ کہ لو کیجو سحر کا سامنا

جھڑتا ہے کوئی پھول تو رو دیتے ہو ماجد

جینا ہے تو کھلتی ہوئی کلیوں کو بھی دیکھو

Advertisements