ماجد صدیقی کی نظموں کا مجموعہ ’’یہ انسان‘‘ 35 نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں میں طویل بی ہیں، مختصر بھی اور طویل ترین بھی۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے نظموں کا موضوع بیشتر انسان اور انسانیت ہے۔ متعدد نظمیں شاعر کی اس درد مندی اور گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں جو اسے اپنی مادر وطن سے ہے۔ اور جس کی بہترین اور بسیط مثال ایک طویل نظم ’’یاور کے نام‘‘ ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اپنے ننھے بچے سے تخاطب کے رنگ میں وطنِ عزیز کو موضوع سخن بنایا ہے اور بیک وقت تاریخی حوالوں اور خوش آئند ذائقوں کو یک جا کر دیا ہے۔ اس نظم کے خالق کا اندرونی کرب پڑھنے والے پر بھی بخوبی منکشف ہو سکتا ہے۔

زیر نظر مجموعے کی دوسری بلکہ پہلی بڑی نظم ’’یہ انسان‘‘ ہے جس سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔ اس نظم کو بھی بلاشبہ اردو کی طویل ترین نظموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس نظم کا تناظر، موضوع کے اعتبار سے بے حد وسیع نظر آتا ہے اور قوموں کی بقاء کے تقاضوں کی روشنی میں شاعر ہمیں عالمی امن کا شیدائی دکھائی دیتا ہے۔

طویل نظموں میں بالعموم یہ نقص رہ جاتا ہے کہ و ہ قاری کو ساتھ لے کر چلنے سے بعض حالات میں قاصر نظر آتی ہیں لیکن زیر تبصرہ مجموعے ’’یہ انسان‘‘ کی نظموں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ماجد صدیقی نے کیونکہ پنجابی زبان میں بھی اسی طرح کی طویل نظمیں کہی ہیں اور انہیں تنوع کا ایک ایسا پیکر عطا کیا ہے کہ قاری اکتاتا نہیں چنانچہ ماجد نے اپنی پنجابی نظموں کا وہی انداز ان اردو نظموں میں بھی برقرار رکھا ہے۔

’’یہ انسان‘‘ کی نظموں کا جو لہجہ ہمارے سامنے آیا ہے۔ وہ خاصا توانا ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ماجد صدیقی نے اپنی آواز کی اس گمبھیرتا کو اردو میں بھی سلامت رکھا ہے جو اس کی پنجابی نظموں کا خاصہ ہے۔ ماجد صدیقی چونکہ پنجابی شاعری کے راستے اردو میں در آیا ہے لہذا اس کے زیادہ تر موضوعات بھی اس کی پنجابی شاعری کی طرح اس کے نہایت قریبی ماحول سے ابھرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’خدا کرے‘‘ ایک ایسی نظم ہے جو شہید خدمت ڈاکٹر متین صدیقی مرحوم کی ادائیگی فرض سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے جو مشہور پنڈی وائرس کا شکار ہو گئے تھے۔ نظم ان مصرعوں پر ختم ہوتی ہے۔

خدا تری اس مثالِ یکتا کو

اور ذہنوں میں بھی بسائے

ہمارے چاروں طرف جو عیاریوں کا ایک جال سا بچھا ہے

وہی کہ آکاس بیل بن کر پنپتی شاحوں کے درمیاں ہے

کی کا دستِ شفیق

تیری شہادتِ بے مثال کو منتہائے صدق و صفا سمجھ کر

خدا کرے

ان رگوں تلک بھی پہنچنے پائے

کہ جن میں کتنے طویل برسوں سے

ناتواں اور علیل و فاسد لہو رواں ہے

Advertisements