ہماری موجودہ نسل کے نوجوان دانشور اور پرانی نسل کے ادیب ایک عرصہ سے ایسا ادب منظر عام پر لاتے رہے ہیں جس سے ہمارے ہاں کی بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا کا موثر ترین ذریعہ ابلاغ ٹی وی ان دانشوروں کی کاوشوں کو منظر عام پر لا چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے میں مروجہ اخلاقی قدروں اور مذہب کی بنا پر تبدیلی ممکن ہو وہاں تبدیلی کا عمل آسان ترین عمل ہوتا ہے اور جب ہمارے ادیب کسی کرب کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں مذہب کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ دراصل یہ عمل شام سے پہلے بھولے ہوئے شخص کے گھر لوٹ آنے کا عمل ہے۔

ماجد صدیقی کی شاعری ان ہی تلخ حقائق کا اظہار ہے جن سے ایک معاشرہ دوچار ہو سکتا ہے۔ ماجد صدیقی جو باپ ہے، استاد ہے، بھائی ہے، بیٹا ہے انہی رشتوں سے معاشرے میں استعارے تلاش کرتا ہے۔ اس کی شاعری ایک معاشرتی بیان ہے ایک سوالیہ نشان اور ایک پکار ہے اگرچہ بہت تلخ ہے لیکن اس منہ کا سوچیں جس میں تلخی ہوتی ہے اس جسم کا خیال کریں جو ان اذیتوں سے دوچار ہوتا ہے۔ اور ہمیں اپنی ہر سوچ میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہر شخص بنیادی طور پر انسان ہے۔

شاعر، مصور موسیقار، ادیب سب ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں جن کے پیش نظر منظر کشی ہوتی ہے۔ یہ با مقصد منظر کشی جن حقائق کو اجاگر کرنے کے لئے کی جاتی ہے اس کا دارومدار فنکار کی انفرادی سوچ اور فنکارانہ اہلیت پر ہوتا ہے۔ ایک فنکار لفظوں اور رنگوں میں تصویر کشی اس طرح سے کرتا ہے کہ انسانی جذبات کو کسی خاص سمت میں مائل کیا جائے۔ مثلاً چارلس ڈکسن جب کسی اونچے طبقہ کی زندگی کی عکاسی کرتا تھا تو اس ماحول کی دوسری طرف غریب اور نادار لوگوں کی زندگی کی عکاسی بھی کرتا اور قارئین پر ذمہ داری چھوڑ دیتا کہ وہ خود نتائج اخذ کریں۔

آج کا پاکستان انہی معاشی اور معاشرتی حالات سے گزر رہا ہے جن سے یورپ گزر چکا ہے۔ وہ یورپ جہاں بچوں سے فیکٹریوں میں کام لیا جاتا تھا۔ جہاں کام کنرے کے اوقات اور حالات صحت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے تھے آج وہ یہاں کی منظر کشی کا موضوع ہے۔ معاشرے کی تصویر کشی وہیں کی جاتی ہے جہاں تبدیلی ناگزیر ہو فنکار کا کام اپنی فنکارانہ صلاحیت سے کام لیتے ہوئے ایسی تصویر کشی کرنا ہے جو حکومت وقت کو ایسے حالات کی نشاندہی کرے جو فطری طور پر غلط ہیں۔ ان لوگوں میں شعور پیدا کرے جن سے کوتاہی سرزد ہو رہی ہے اور ان لوگوں میں ایک جماعتی یا گروہی سوچ کو بیدار کر کے جن سے کوتاہی برتی جا رہی ہے اور وہ مل جل کر صرف اپنے اندر قوت مدافعت ہی پیدا نہ کریں بلکہ اپنے حقوق کی نگہداشت بھی کریں۔

حکومت وقت قوانین کے ذریعے معاشرے میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے سازگار حالات پیدا کرتی ہے اور قانون کی بالا دستی کے ذریعے مظلوم شخص میں معاشرے سے وفاداری کے جذبات بیدار کرتی ہے اسے معاشرے کا ایک ضروری فرد تسلیم کیا جاتا ہے اور اسی طرح سے معاشرے کو تحفظ ملتا ہے۔

اس وقت یورپ میں کوئی دو افراد جو اکٹھے ایک محلے میں رہتے ہیں اور ایک ہی سکول میں پڑھتے ہیں اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ ان میں سے ایک سکول کے بعد پولی ٹکنیک سے ویلڈنگ کا کورس کرے اور دوسرا پی ایچ ڈی کے لئے اپنا کام جاری رکھے۔ مگر کسی مقام پر بھی معاشرے میں ان دونوں کے حقوق ایک جیسے ہیں۔ معاشرے میں معاوضہ کام کا ہے نہ کہ ذاتی مقام کا۔ البتہ عزت ضرور ہے اس سبب سے کہ آپ کی معاشرے میں کسی قسم کی Contributionہے یعنی اگر آپ کسی قسم کی دوائی ایجاد کریں۔ کسی قسم کا ایسا معرکہ سرانجام دیں جس سے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے۔ لہذا ایک ویلڈنگ کرنے والا شخص اپنی ذاتی اہلیت کے باعث تاریخ میں نام تو پیدا نہیں کر سکتا لیکن وہ اپنے بچوں کو ان کی اہلیت کے مطابق تعلیم بھی دلواتا ہے اور معاشرے میں کسی کے ظلم کا نشانہ بھی نہیں بنتا خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ فطری عمل شروع ہو چکا ہے۔ ماجد صدیقی کی زیر مطالعہ کتاب میں ہمیں ایسے اشعار ملتے ہیں جو اس قدر تلخ ہیں کہ ہمیں ایک ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہم ان کے اظہار سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ اگر ہم ایک دلدل کی طرف چلتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں تو ہماری منزل کیا ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس تلخ تصویر کو ضرور دیکھنا چاہئے اور اپنے عقائد مذہبی کا سہارے لیتے ہوئے معاشرے میں اس گندگی کو سمیٹنا چاہئے بیشتر اس کے کہ یہ دلدل خدا نخواستہ ہمیں ہڑپ کر جائے۔

ماجد صدیقی آپ کا بلکہ ہم سب کا دوست ہے کہ وہ دوسروں کی حسرتوں کو زبان دیتا ہے وہ دوسروں کے درد پر کراہتا ہے۔ اس کی شاعری طبیب کے در پر ایک نا آسودہ مریض کی درمان کے لئے پکار ہے وہ مریض جسے ماجد کوچے کوچے گلی گلی سے اٹھائے چلا آ رہا ہے۔

ماجد اب جنگل کی آواز نہیں جہاں اسے کوئی سننے والا نہ ہو۔ ماجد کو تاریک سرنگ کا روشن سرا نظر آ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ادراک سے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ چیخ چیخ کر درد کی پکار کرے کہ درماں قریب ہے۔ اس کے اشعار کا مطالعہ ان سارے حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔

منحصر ہے طبیب پر درماں

گو مریضوں کا کچھ شمار نہیں

ماجد اب جنگل کی آواز نہیں جہاں اسے کوئی سننے والا نہ ہو۔ ماجد کو تاریک سرنگ کا روشن سرا نظر آ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ادراک سے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ چیخ چیخ کر درد کی پکار کرے کہ درماں قریب ہے۔ اس کے اشعار کا مطالعہ ان سارے حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔

جو بھی زور آور ہے ماجد اس کا خاصہ ہے یہی

دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا

سر بسجدہ پیڑ تھے طوفان ابرو باد میں

اور دریا محو اپنا زور دکھلانے میں تھا

دھار تلوار کی نگاہ میں ہے

شور سر پر ہے تازیانے کا

ڈوبنے والوں نے جو ہاتھ ہلائے سرِ آب

ظلم کے حق میں ٹھہرتی ہے وہ تائید کہاں

جبر نے دکھایا ہے پھر کہیں کمال اپنا

لوتھڑے فضا میں ہیں پھر نحیف جانوں کے

ایسی دلخراش تصویریں جو آس پاس کے ماحول سے آنکھوں میں اتر جاتی ہیں۔

جانے کس کی سنگدلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں میں

شام تلک کشکول بنی اک بڑھیا بھولی بھالی سی

شیشے پر کچھ حرف لہو کے چھوڑ گئی

مشت پروں کی ٹکرا کر اک لاری سے

آنگنوں سے چاند پھر آگے نکل جانے لگا

دیکھ سارے شہر کا نقشہ بدل جانے لگا

چہک رہا تھا کہ شاخوں میں سرسراہٹ سے

مرے سرور کا یکبارگی جمال گیا

کٹی جو ڈور تو پھر حرص اوج کیا معنی

کہاں سے ڈھونڈتے پہلو کوئی سنبھلنے کا،

ایسے اشعار جو ستم کشی کی تصویریں ترتیب دیتے ہیں۔

جسم پہ جمتی گرد ہی شاید بتلائے

وقت ہمیں کس طاق میں رکھ کر بھول گیا

جھڑ کے بھی شاخ سے جانے کس حرص میں

خشک پتے ہوا سے لپٹنے لگے

میں تو ہوا تھا تیر کے لگتے ہی غرق آب

تالاب بھر میں خون مرا پھیلتا گیا

جوان جن سے دعاؤں کے طشت میں نکلے

ان آنگنوں میں انہی کی کمائیاں نہ گئیں

پھوڑوں جیسا حال ہے جن کے اندر کا

کھلتے ہیں کچھ ایسے بھی در آنکھوں میں

جہیز جن کی شفاعت کو ہو سکے نہ بہم

سکوں کی آس ہے اب ان ہی بیٹیوں جیسی

جب کبھی اندوہ رفتہ بھولنے پر آگیا

میری تشنہ خواہشیں بچہ مرا دہرا گیا

کیا جانئے بڑھ جائے کب خرچ رہائش کا

اور گھر میں نظر آئیں سب نقش سراؤں کے

Advertisements