ماجد صدیقی زود نویس بھی ہے اور خوب نویس بھی۔

اس کی شاعری میں اوصاف فن کی شوریدگی بھی ہے اور نئی دانشورانہ روایت کی سنجیدگی بھی۔ وہ اپنے اظہار میں پختہ کار اور ہنر مند بھی ہے اور لہجے میں معاشرہ آگاہ شخص بھی۔

اس حوالے سے ماجد صدیقی میرے عہد کا ایک ایسا شاعر ہے۔ جس کی شاعری کا زمانی تناظر تین دہائیوں پر محیط ہونے کے باوصف تین دہائیوں کی سماجی تاریخ کا گواہ ہے۔ اس نے اپنی زندگی کی طرح شعری سفر بھی کسی جست کے بغیر قدم قدم طے کیا ہے۔ چنانچہ ایک ٹھہراؤ دھیمی دھیمی آنچ، رک رک کر سانس لینے کا حساس، ایک قدم آگے بڑھ کر پیچھے دیکھنے اور وقت کے ساتھ ساتھ چلنے اور رکنے کا تاثر قاری کو اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیتا۔ رکنے اور چلنے کا یہ عمل اس کی شاعری میں معاشرے کے چلنے اور رکنے کے عمل سے مستنبط ہے۔ کہ معاشرہ بار بار جس طرح آمریتوں کے عہد میں جمود کا شکار ہوتا، مختلف زمانوں سے گزرتا رہا۔ شاعرانہ احساس بھی اسی کی کتھا ہے۔ ماجد کی شاعری کے منظر نامے میں اس انسانی وجود کو صاف دیکھا جا سکتا ہے جو وقت کے جوا ر بھاٹے میں متلاطم و لرزاں، شکست و ریخت نصیب، اور جہد للبقا میں پیہم مصروف ہے۔

وہ دیکھو جبر کی شدت جتانے

کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے

جہاں جانیں ہیں کچھ اک گھونسلے میں

وہیں اک ناگ بھی پھنکارتا ہے

نیا شعری عہد بنیادی طور پر زندگی کے حقیقی تحرک کی گمشدہ کڑیوں کی تلاش کا عہد ہے۔ ایک دور تھا جب شاعر تخیل کے شہپر پر محو پرواز ہوا کرتا تھا لیکن اب اس کے سامنے کی انسانی بے توقیری نے اسے زندگی سے قریب تر کر دیا ہے اب اس کے مشاہدے میں جو وسعت اور فکر و نظر میں جو گہرائی ہے۔ وہ جہد حیات سے معمور اور اس کے معاشرتی تجربات سے عبارت ہے۔ وہ اپنی دنیا کا ترجمان اور متعلقات زیست کا نمائندہ ہے۔ اس لئے وہ جس شعور و آگہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ زندگی سے اس کی جذباتی وابستگی سے کماحقہ لبریز ہونے کے سبب اس کی شاعری کو عہد کی سچائیوں کے قریب کر دیتا ہے۔ ماجد بھی ان شعراء میں سرخیل ہے۔ جو عصری سچائیوں سے گہری کمٹمنٹ رکھتے ہیں اور یہی کمٹمنٹ ان سے کہلواتی ہے۔

وہ دیکھو جبر کی شدت جتانے

کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے

ماجد صدیقی کے ہاں جس فکری لہر کی روشنیاں نمایاں ہیں۔ وہ معاشرتی اور فکری زاویوں سے پھوٹتی نظر آتی ہیں۔ اس کا فن تجربہ و مشاہدہ کے زیر اثر گہرے فکر و شعور کا فن ہے۔ حالات کے دوش پر لرزاں زندگی اور متعلقات زندگی اور استبداد زمانہ کے مابین مضبوط رشتے کا فن ہے۔ اس لئے میں اسے معاشرہ آگاہ شاعر کہتا ہوں۔ اور اس لئے بھی کہ اس کی شاعری میں جذبوں کا اظہار شدت کے ساتھ اور پورے فنی رچاؤ کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ اس آویزش کو جو معاشرے میں خیر و شر کے مابین جاری ہے اور ان حقائق کو جو پوری سنگینی کے ساتھ وارد ہوتے ہیں۔ پورے شاعرانہ آہنگ میں اظہار کی سطح پر لاتا ہے۔

ماجد صدیقی حقیقی معنوں میں محبت کا شاعر ہے۔ محبت ہی اس کی شاعری کا ایک بنیادی استعارہ بھی ہے۔ یہ استعارہ مختلف سطحوں پر اپنا ظہور کرتا ہے۔ کبھی انسان دوستی کی صورت اور کبھی یہ استعارہ رومان پرور سبک اور لطیف ہوتا ہے، کہ روح میں تازگی محسوس ہونے لگتی ہے۔

تکمیل کروں کبھی تو اپنی

تجھ کو سر جسم و جاں سجاؤں

مانگتے گر کبھی خدا سے تمہیں

لطف آتا ہمیں دعا کرتے

سج کے اک دوسرے کے ہونٹوں پر

ہم بھی غنچہ صفت کھلا کرتے

اب بھی اک حد سے پرے شوق کے پر جلتے ہیں

عجز سائل ہے وہی شوکت دربار وہی

ماجد صدیقی ایک زندہ شاعر ہے۔ اس کا لہجہ، اس کا اظہار، اس کا فکری توازن، اس کا تخلیقی تجربہ اپنے اندر متنوع معنوی جہتوں کے ساتھ ساتھ جمالیاتی سطح بھی رکھتا ہے۔ جو اسے ہم عصروں میں قد آور ٹھہراتا اور اپنے عصر میں ا س کی الگ شناخت کراتا ہے۔

Advertisements