ایک تخلیقی ذہن اور دل میں آگے بڑھنے کی تڑپ رکھنے والا انسان اپنی منزل کی نشاندہی اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے راہوں کا تعین خود ہی کرتا ہے اس کی مثال ماجد صدیقی نے قائم کی ہے انہوں نے اپنی انتھک محنت، جدوجہد اور سعی و کوشش سے ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے مشاعروں و ادبی حلقوں میں ان کا بہت احترام ہے ماجد صاحب نے اپنے مشاہدات و تجربات زندگی اور درد دل کو اپنی ذہنی صلاحیتوں سے شاعری کے رُوپ میں ڈھالا ہے۔ ان کی شاعری صداقت بے باکی، سادگی اور تلخی حیات کا پرتو ہے اپنی پنجابی اور اردو شاعری میں زبان سادہ، رواں مگر الفاظ پر معنی استعمال کئے ہیں اور ان کے ہر قاری کے لئے اشعار قابل فہم اور آسان ہوتے ہیں۔

ماجد صاحب سے میری ملاقات اپنے بیٹے کے پروفیسر ہونے کے ناطے سے ہوئی پھر ملاقاتیں بڑھتی ہی گئیں اور دوستی کے رُوپ میں بدل گئیں ان سے قریب ہو کر میں نے محسوس کیا کہ ماجد صاحب کے اندر کا انسان انتہائی پر خلوص، بے لوث اور ہمدرد ہے جہاں بھر کا غم سمیٹے ہوئے ہے میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس دوست عزیز کو زندگی میں خوشیوں کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کرے اور ان کی کشت زار زیست سدا خرم و شاداب رہا آمین ثم آمین۔

Advertisements