سخناب ہمارے مخصوص معاشرے کی زندگی کا عکس ہے جس کا فن ماضی کی جڑوں سے بندھا ہوا ہے۔

ماجد صدیقی نے زندگی کی ہمہ سمتی اور دور تک پھیلے ہوئے معاشرے کو اپنے تصور کی آماجگاہ بنایا ہے بلکہ تہذیبی ارتقاء کے عہد میں مجموعی طور پر انسان کی جو تصویر بنتی ہے اسے ماجد صدیقی نے بڑی بلندی سے دیکھا اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے تاریخی بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔

ماجد صدیقی کی نگاہ انسانی فطری محرکات کی ادنیٰ اور اعلیٰ حرکتوں کو دیکھنے میں مستعد ہے چنانچہ اس نے انسانی زندگی کے لئے بے قرینہ سماج اور معیار کو شعری تنقید کے ترازو میں تولا ہے۔ اس طرح اس نے قبول عام صنفِ سخن غزل کو خوبصورت الفاظ کے لمس سے آشنا کیا ہے۔

لفظ سازی اور ایک فطری لہجہ شاعری کی بے ساختہ زبان کے لئے بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ماجد صدیقی تربیت اور لطافت دونوں سے واقف ہے۔ لہذا قدیم شاعری کی ایک ہیئت غزل مسلسل کو اس عہد میں برت کراس نے اپنی اندرونی لگن اور آہنگ کو ایک روایت بنا دیا ہے میری مراد سخناب کی پہلی غزل سے ہے جو ننانوے شعروں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس غزل کی اصل روح عصر کی بلاغت ہے جس نے غزل کے ظاہری حسن اور باطنی کیفیت کو ہم آہنگ کر دیا ہے چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماجد صدیقی نے سو شعروں کی طویل غزل لکھ کر نہ صرف قلم کے زور کی فراوانی دکھائی ہے۔ بلکہ ذاتی تاثرات کے بے ساختہ اظہار سے یہ ثابت کیا ہے کہ غزل اس کی رفیقِ ازلی اور ہمزاد معنوی ہے۔

ماجد صدیقی نے انسانی فطرت کا مطالعہ ایک معصوم انسان بن کر کیا ہے۔ اس نے معاشرے میں گھرے ہوئے مجبور انسان کو جس پہلو سے دیکھا ہے اس نے انسان کے تمام اکتسابات کا گریباں چاک کر دیا ہے اور اب انسان جس طرح عریاں ہوا ہے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے عیاں ہے۔

نرخ نہیں گو ایک سے لیکن

ہر انسان یہاں بکتا ہے

دشت طلب میں بن کتوں کے

کے کے ہاتھ شکار لگا ہے

جانے کیا کیا زہر نہ پی کی

انساں نے جینا سیکھا ہے

اونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے

ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے

فرق ہے کیوں انسانوں میں جب

سانس کا رشتہ اک جیسا ہے

شاہی بھی قربان ہو اس پر

ماجد کو جو فقر ملا ہے

انسان کو جن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا تعاقب کرتا ہے یا فقیر اس اعتبار سے وقت اور فقیر دونوں ایک دوسرے کے تلازمے بنتے ہیں اور اسی رخ پر زندگی کی تصویر کشی کرنے کے لئے ماجد صدیقی نے فقر کا رُوپ دار کر اپنے زمانے کا عہد نامہ تحریر کیا ہے۔ اور اس کا نام اس نے سخناب رکھا ہے۔ یہ نام اس کے سعی و عمل، جمالیاتی شعور اور احساس کے قرینے کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ آج ہمارا فنکار تجریدیت کی کائنات میں گم سم حیران الفاظ کی بازی گرمی میں مصروف ہے۔

لیکن ماجد صدیقی نے ننانوے شعروں پر مشتمل غزل کہہ کر خود کو متحمل، جفا کش اور نئے تجربے سے آشنا ثابت کیا ہے۔ بلکہ ایک صوفی بن کر اس نے اپنی تخلیق کو درویشانہ لہجے کے ساتھ سنوارا ہے۔ درویش حسن ازل اور آہنگ آفرینش کا عاشق ہوتا ہے اس جہد حیات میں وہ مسلسل ریاضتوں کے بعد اس حسن کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ جو قدرت کی تخلیقات میں پوشیدہ اور خود انسانی کائنات میں گم ہوتا ہے۔ اس طرح صوفی تہذیب و تحسین کے ذریعے انسانی کائنات کو جمالیاتی شعور بخش دیتا ہے۔

سخناب کے منصہ شہود پر آنے سے پیشتر ماجد صدیقی قدرت کی شدت کا شا کی ضرور تھا۔ بلکہ سکون کی تلاش میں اس نے دشت و صحرا چھان مارے تھے مگر سخناب کے بعد اس کے باطن میں چھپا ہوا صوفی تخلیقی جذبے اور قوت کو لے کر پیش منظر پر آگیا ہے۔ جسے دیکھ کر اچنبھا اور مسرت ہوتی ہے کہ ماجد نے جس انداز سے معاشرے کو دیکھا ہے اس کی روایت نظیر اکبر آبادی اور میر سے جا کر ملتی ہے۔ میر نے اپنے عہد کے آشوب کو تمدنی تاریخ بنا دیا تھا۔ نظیر نے زمانے کے سانحات کو اپنی زندگی پروا رد کر کے بحران سے نبرد آزما ہونے کا ڈھنگ سیکھ لیا تھا۔ ماجد صدیقی نے بھی انقلابات دیکھنے کے بعد انسانی ارتقاء کا تماشا دیکھا ہے۔ اور اب وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بنی نوع انسان کو تحفظ فقر کے مسلمات ہی میں مل سکتا ہے اور اسی سے فکر کی بلوغت اور شعور کی بصیرت پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ ’’فقر‘‘ غالب اقبال اور مختار صدیقی کے پاس بھی تھا اقبال نے فقر کو بادشاہی کے مقابل لا کھڑا کیا تھا اور نئی اقدار کو تسلیم و اجتہاد کی روح بنا دیا تھا عدم نے میر کے فقر کی طرح خود کو مناظر اور مقامات سے اوجھل رکھ کر لا متناہی زندگی کی عکس ریزی کی تھی اور شاعرانہ تمسخر کے ذریعے پر فریب ماحول پر قہقہے برسائے تھے۔ مختار صدیقی نے درویشی کا روپ اس وقت دھارا تھا جب یار زمانہ ساز ہو گئے تھے مگر ماجد صدیقی نے اپنے فقر میں پورے عصر کو شامل کر لیا ہے۔ اور اب اس کے شعور اور بصیرت میں سارے زمانے بولتے دکھائی دیتے ہیں۔

جس سے واضح ہو وحشت انساں

کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا

ڈھانپنے کو برق پھر عُریانیاں

ناپ لینے آ گئی اشجار کا

ہاتھ لتھڑے تھے لہو سے جن کے

مرنے والوں کے عزا دار بنے

مرحلے پر مری صفائی کے

لکنتیں آ گئیں زبانوں میں

ہو کچھ بھی جو اختیار حاصل

خود وقت ہوں خود ہی میں خدا ہوں

عکس ریزی ہمارے آج کے عہد میں صرف علامتوں کی نشاندہی تک محدود ہے لیکن ماجد صدیقی نے ایک ایسے نظام زندگی کے لئے جس میں خیر کی حکمرانی ہو اور وہاں متمدن انسان بستے ہوں اپنی شاعری کو جمالیاتی عمل بنا دیا ہے اور تصادم و پیکار میں ایک آرزو لے کر زندہ ہے۔ اور منظم انداز میں سوچ کر ایک دانشمند کا کردار ادا کر رہا ہے اس کی سوچ کے انداز دیکھئے۔

مری بھی روح کا ساگر ہوا کرم فرما

مری بھی آنکھ میں دیکھو تو ہیں گہر اترے

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نجانے گھوڑا یہ کس لٹے شہسوار کا ہے

کچھ بتانے سے اگر بادِصبا عاری ہے

باد صر صر ہی سماعت کو جلانے آئے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا

تمام عمر اسی آس پر بِتا دی ہے

کہ تنگ آ کے ترے منہ پہ تھوک دوں میں بھی

مجھے نہ اتنی اذیت بھی اے زمانے دے

سخناب ہمیں اسباب و حالات کا منظر نامہ دکھاتی ہے اس عہد میں ہمارے چھوٹے بڑے شعراء اپنے دور کی نمائندگی کرتے ہوئے طنز کے نشتر بھی چلا رہے ہیں۔ اور بیزاری کے تیر بھی مگر ان شعراء کے افکار میں کچھ زیر لب اور کچھ شکایتی اظہار میں یکسانیت آ گئی ہے (یہاں نا آسودگیوں میں گھرے ہوئے شعراء کا تقابلی مطالعہ مقصود نہیں) لیکن شکست، افسردگی، طنز اور تمسخر کے بے پایاں عہد میں ماجد صدیقی نے واقعی فقر کا رُوپ دھار کر شاعری کو دردمندی کے ساتھ جھنجھلاہٹ، غصے اور برہمی سے آشنا کیا ہے۔ میں ماجد صدیقی کے اضطراب اور زندگی کے مستقل کرب سے ناواقف ہوں لیکن سخناب کے مطالعے سے یہ راز مجھ پر منکشف ہوا ہے کہ ماجد صدیقی ذاتی اور خانگی حوادث کا شکار رہا ہے اس نے جس شائستگی کا خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر بڑی کرب انگیز نکلی ہے لہذا ایک مسلسل اضطراب اس کی شاعری کا آدرش بن کر لہو کی طرح گردش کر رہا ہے۔ ماجد صدیقی کی منفرد لے ہے اور اس کی جھنجھلاہٹ درویشانہ دھن ہے جس کی گت پر و تمکنت کے ساتھ رقصاں ہے۔

نہاں بھی ہے تو کہاں تک رہے گا پوشیدہ

جو حرف وقت کی تعزیتی کتاب میں ہے

ہر ایک سر کا تقاضا ہے یہ کہ تن پہ اگر

لگے تو اس کو بہرحال خم کیا جائے

نشیبِ خاک سے کیا اس کی پیروی کرتے

مقدمہ ہی ہمارا جب آسماں پر تھا

آنگن میں سب تاریکی چیخیں ہیں یہ کیسی

ہے کون پرندہ جسے آرام نہ آئے

حق بجانب بھی ٹھہرتا ہے وہی بعد ستم

وصف طرفہ یہ مرے عہد کے سفاک میں ہے

اسے یہ رنگ سلاخوں نے دے دیا ورنہ

چمن میں تو مرا لہجہ کبھی کرخت نہ تھا

سخناب میں اس قسم کے شعری تنقیدی خاصے جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ہر غزل میں ایک تامل موجود ہے۔ اور کہیں کہیں عبرت انگیز معاشرتی تمثیلیں بھی لیکن سخناب ایک ایسی کتاب ہے جو اپنا ایک مخصوص لہجہ بناتی ہے اور زندگی کا چلن واضح کرتی ہے بلکہ زندگی کی پیچیدگیوں کے ادراک میں اضافہ بھی ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ماجد صدیقی نئی مشکلات کے مقابلے پر ایک نیا احساس پیدا کرتا ہے وہ ہر مسئلے پر منطقی طور پر اپنی بے لاگ رائے کا اظہار کرتے ہوئے بعض باتیں کنائے سے اور زیادہ حوصلے اور جوانمردی سے بیان کرتا ہے۔

ماجد صدیقی نے غزل کو مرتب پیغام کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس کے جذباتی میلان نے مستقل فکری جھکاؤ کے ساتھ اس انسان کا ہیولہ تراشا ہے۔ جو میر کے عہد میں مجبور محض تھا۔ آج بھی مجبور محض ہے اس وقت بھی انسان غیر محفوظ تھا۔ اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ بلکہ اب اس کے ساتھ حیلے بہانے بھی روا رکھے جا رہے ہیں اسے اب بھی کھلونے دے کر بہلایا جا سکتا ہے چنانچہ لامتناہی آزمائشوں اور مصائب سے گزرنے کے بعد انسان نے جس ارتقاء کی منزل حاصل کی ہے۔ اس کے تجربے کے بعد یہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کے لئے جو نا موافق قوتیں ہمارے ’’مورث اعلیٰ‘‘ کے عہد میں پائی جاتی ہیں وہ اب بھی موجود ہیں لہذا ماجد صدیقی اگر بہیمت سے خوفزدہ ہے تو اس کا جواز بھی وہ خود مہیا کرتا ہے۔

سگانِ پابند دشت میں جب کبھی کھلے ہیں

فضا میں آندھی سا ایک اٹھتا غبار دیکھا

ہوا تھا برق کی مانند سامنا جس سے

جدا نہ ذہن سے ہوتا ہوا وہ ڈر دیکھا

یہ جو سامنے ہے سفر عجیب ہے دشت کا

کہ بدن ہی کھرنے لگا ہے فکر مال میں

انت ملے کب جانے سکھ کے سپنوں کو

جو پل آئے دے جائے اک جھانسہ سا

انسانی فطرت کا ایک پہلو غارت گری ہے۔ انسان نے غارت گری کے جتنے سامان پیدا کئے ہیں۔ اس نے بقائے انسانی کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے لہذا اب وہ اپنی ہی نفسیات کے آئینے میں دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ اس رویے کے خلاف ماجد صدیقی قوتِ مدافعت کے ساتھ فقیرانہ کوشش کر رہا ہے مثلاً وہ ہیبت ناک قوتوں کے خلاف ان عناصر کو زندگی کی قوت بخش رہا ہے جن کی زندگی، محنت، محبت اور لطیف تر احساسات سے عبارت ہے۔ اس طرح ماجد صدیقی اندھیرے کے مقابلے میں روشنی پیدا کر رہا ہے۔ بڑے بڑے سمندروں کی طرف تنکوں کے طوفان انڈیل رہا ہے اور چٹیل میدانوں میں تخلیق کے پھول کھلا رہا ہے۔ یہ غیر معمولی تخلیقی قوت انسان کو زیادہ مقدس بنانے اور ناقابل تسخیر قوتوں کے مقابلے پر ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

ماجد صدیقی انسان کو اس ترقی یافتہ دور میں بھی نیم وحشی تصور کرتا ہے۔ شاید اسے علم، اخلاق اور معاشرت کی فکری اور عملی زندگی ایسا کہنے پر اُکساتی ہے مگر انسان نے جو ہیئت کذائی اختیار کر لی ہے اسے دیکھ کر وہ ان تمثیلات کی طرف رجو ع کرنے لگتا ہے جن کے ذریعے ہماری داستانیں اور لوک ادب بھرا پڑا ہے اس اعتبار سے ماجد صدیقی، غزل کے انگ میں لوک ادب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ لوک ادب ہر عہد میں اجتماعی اور تمدنی معاملات کی عکاسی کرتا رہا ہے اس ادب نے انسان کو گرد و پیش کی دنیا سے با خبر رکھا ہے لہذا انسانی اقدار کی تشکیل میں لوک ادب نے موثر کردار ادا کیا ہے۔ اور ماجد صدیقی نے موجودہ انسانی صورتحال میں لوک ادب کے وسیلے سے ہی جدید ترین شاعری کا جامع تصور پیش کیا ہے میرے نزدیک شاعری حسن اور حقیقت کے مابین ایک پل کا درجہ رکھتی ہے س پر سے ہر کوئی آسانی سے گزر نہیں سکتا اس کے لئے اکتسابِ علمی اور محرکاتِ ذہنی کا حصول بے حد لازمی ہے چنانچہ ماجد صدیقی نے اپنا لہجہ دکھی رکھ کر عام انسانوں کو افکار اور نظریے کی شاعری میں شریک کیا ہے بلکہ اس نے غارت گری کے منظر دکھا کر انسان کو باخبر رکھنے کے لئے کچھ بشارتیں بھی دی ہیں تاکہ متفقہ سعی و پیکار میں انسان جہد للبقا میں حصہ لیتا رہے اور زندہ رہے۔

ماجد صدیقی نے لوک شعور کے حوالے سے غیر انسانی مخلوق کو مثال بنا کر درندگی اور بہیمیت کے بہت سے رُوپ دکھائے ہیں اس طرح انسان ایک بے بس مخلوق بن کر کائنات کے وسیع تناظر میں بے چین اور مضطرب دکھائی دیتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے وحشی اسلاف اب تک موجود ہیں۔ چنانچہ اژدہے، سانپ اور شیر مہلک قوتوں کے ساتھ انسانی صعوبتوں میں اضافہ کرنے کے درپے ہیں ماجد صدیقی نے اسی تناظر میں خوف اور مایوسی کی تمثیلی داستاں سنائی ہے بلکہ خود غرضی اور شدید تنہائی نے انسان کو نفس پروری کا دیوانہ بنا دیا ہے اس کے برعکس انسان کی کی بقاء اور مردم آزار قوتوں کے خلاف ایک مشن کے طور پر واضح شعور کی نشاندہی ماجد صدیقی کا بنیادی تنازعہ بنتی ہے۔ چنانچہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ شعر کے پیرائے میں اجتماعی زندگی اور مشترکہ محنت کا پیغام دے کر ماجد صدیقی نے نہ صرف فن لطیف میں نئے تجربات کئے ہیں۔ بلکہ ایک ہمدردانہ رویہ پیدا کر کے وہ مطالعہ انسانی میں بالیدگی اور تدبر کی کائنات بھی تشکیل دے رہا ہے ماجد صدیقی کی فنی بالیدگی اور نئے تجربات کی مثالیں دیکھئے۔

اور تاثر دے کر جس نے میرا خون غلاف کیا

وقت کے ہاتھوں دھل کر چمکی آخر وہ تلوار بہت

لپک تھی جس کو دکھانے کی چال کا جادو

ہرن وہ آج ادھڑوا کے اپنی کھال گیا

رہا ہے ایک سا موسم نہ باد و باراں کا

چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اترا ہے

ہے منانا اسی خدا کو ہمیں

جس کو آدم پہ اعتبار نہ تھا

سخناب کے لہجے میں ایک ٹھہراؤ ہے (لیکن موضوعات بڑے گرم اور لہو رلا دینے والے ہیں) اس کے باوصف ماجد صدیقی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنے عہد کی فریاد کو آباد کر دیا ہے۔ لہذا اذیتوں، بے بسی اور تلملاہٹ کے عہد میں سخناب ایک تیور کے ساتھ زندہ رہنے کا جرات ت مندانہ میلان بھی عطا کرتی ہے۔

ماجد صدیقی نے قومی اور سماجی ناموس کو قائم رکھنے کے لئے اردو کے قاری کو اپنی منتخب شاعری پیش کر کے نہ صرف تاریخ کے آشوب کو دہرایا ہے بلکہ وہ سلامتی اور آبرو مندانہ فطرت کو ادب عالیہ کی تہذیب بنا کر جبر و تصادم کے خلاف عدم تشدد کی ایک نئی دنیا تعمیر کر رہا ہے اور یاد رہا خالی ہاتھ خونخوار معاشرے کے سامنے جانا بدھ، عیسیٰ اور حسین کا مشن تھا اور آج یہ مشن ماجد صدیقی بڑے حوصلے سے پورا کر رہا ہے۔

Advertisements