میری اس تحریر کا موضوع وہ شخص ہے جو شاعر ہے اور اردو و پنجابی دونوں زبانوں میں خوبصورت غزلیں اور نظمیں کہتا ہے، نثر نگار بھی ہے۔، سپاہ طنز و مزاح کا کماندار، افسانہ نگار بھی، اور ہو سکتا ہے کہ اس کی زیر طبع تصانیف میں کوئی ناول اور ڈرامے بھی شامل ہوں۔میں کہ فن تنقید اور فن مقالہ نگاری سے بالکل ناواقف تھا ماجد کو ان مختلف فیلڈز میں تلاش کرتا رہا اور یہ سرگزشت بھی اسی تلاش پر مشتمل ہے۔

ایک صبح میری نظر نوائے وقت راولپنڈی کی اس خبر پر پڑی جس میں 1977-1978ء کے ادبی انعام یافتگان کے نام دیئے گئے تھے، ماجد صدیقی کے نام کے سامنے کتاب کا نام ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ درج تھا مجھے خیال گزرا یہ نام یہاں یقیناً سہواً چھپ گیا ہو گا کیونکہ جس ماجد صدیقی کو میں نے دیکھا تھا اس کے وطن مالوف پر تو لکھنؤ یا دلی کا شبہ ہوتا تھا کیونکہ اس کے چہرہ سے اس زائد شے کو نکال دیا جائے جسے مونچھیں کہا جاتا ہے تو باقی کوئی شے اسے جہلم کا باشندہ سمجھنے میں قطعاً ممد و معاون ثابت نہیں ہوتی۔۔۔ دوسرا دھوکہ اس شخص کا نام دیتا ہے۔ کرنل محمد خان کے علاوہ عبد اللہ حسین لاکھ قلمی نام کے پردے میں ’’محمد خان‘‘ کو چھپانا چاہے وہ ایسا نہیں کر سکے گا کہ اس کا قد کاٹھ اس کا بھانڈا پھوڑ دے گا۔۔۔ پھر خیال گزرا ماجد صدیقی کے لباس میں ضرور کوئی ’’فتح خان‘‘ یا ’’ملک پائندہ خان‘‘ چھپا ہو گا جس نے شعر و ادب کے میدان میں اترتے ہی اس لطیف اور ادبی نام کی تختی کے پیچھے اپنے اصل نام کی پلیٹ چھپا دی ہو گی لیکن ہمارا یہ اندازہ بھی غلط نکلا۔۔۔ اب ہم اس شخص کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے جو کہیں تو ’’مجموعہ غزل آغاز‘‘ کے ہلے بکھیرتا ’’سر و نور‘‘ کی تجلیات میں چھپ گیا اور ہم تاجدار حرم کے حضور نعتیہ نذرانہ عقیدت کے گلہائے خوش رنگ نچھاور کرنے والے ماجد پر کسی درویش و صوفی کا گمان کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔۔۔ تھوڑی ہی دور ہم نے اسے جب ’’شاد باد منزل مراد‘‘ کے قومی نغمے الاپتے پکڑنا چاہا تو یہ اک جست میں ’’ہوا کے تخت‘‘ پر سوار تھا اور جانب افلاک مائل بہ پرواز نظر آیا۔۔۔ ہم تو اب تک اپنے ذہنی مرشد کو ہی بادلوں میں سے گزرتے نیلگوں آسمان کی پہنائیوں میں اڑتا دیکھتے رہے تھے بھلا کس طرح اس کا تعاقب کرتے۔۔۔ لیکن دوسرے لمحے ایک شخص بغل میں ایک کتاب دبائے ہمارے پاس سے گزرا، کتاب کے ٹائٹل پر نظر پڑی تو ’’صورت احوال آنکہ‘‘ پڑھ کر ہم چونکے کہ یہ تو ماجد صدیقی ہے جو کس سادگی و پرکاری سے ہمیں جُل پہ جُل دیئے جا رہا ہے۔۔۔ صاحب کتاب تو ہاتھ نہیں آیا کتاب ہمارے ہاتھ لگ گئی۔۔۔ راز یہ کھلا کہ ان تمام تلخیوں کو مزاح کی شکر میں لپیٹے یہ شخص کھٹی مٹھی گولیاں بانٹتا پھرتا ہے جو اسے محکمہ تعلیم کے شعبہ ثانوی مدارس اور افسران ثانوی مدارس از قسم اے ڈی آئی سے ملی تھیں۔ لیکن ان سنتریوں کا ذائقہ انور مسعود کی ان ثافیوں سے بالکل مختلف تھا جنہیں جہلم کے پل پر رکی ہوئی بس میں کوئی ہاکر گا گا کر بیچ رہا تھا۔۔۔ بظاہر ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کا شمار طنز و مزاح پر مشتمل کتابوں میں ہوتا ہے لیکن ان سب کے درمیان بھی یہ کتاب ایک منفرد حیثیت منوا لینے پر مصر ہے جس میں یہ حق بجانب ہے۔ باوا ضمیر جعفری کی ’’ولائتی زعفران‘‘ سونگھتے ہی عالم ہوش و حواس میں قاری کے مدھم سے قہقہے سے فضا گونجتی ہے۔۔۔ انور مسعود نے جو ’’میلہ اکھیاں دا‘‘ لگایا ہے اس کی سیر کے دوران انسان خود بھی ہنستا ہے اور دوسروں کو گدگدی کر کے ہنسانے کی خواہش بھی محسوس کرتا ہے۔۔۔ مشتاق یوسفی نے ’’خاکم بدہن‘‘ میں زیر لب مسکراہٹیں بکھیرنے پر اکتفا کیا ہے۔۔۔ کرنل محمد خان جنہیں دیکھتے ہی حفیظ جالندھری کا اعلان کانوں سے ٹکراتا ہے ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ نے جب ’’بجنگ آمد‘‘ سے ’’بہ سلامت روی‘‘ تک کا سفر طے کر لیا تو پہلے سے کہیں زیادہ مزاح کی پھلجڑیاں بکھیرنے کے فن میں Specialisedنظر آئے اور انہیں خوش ہونا چاہئے کہ ابھی بڑھاپا واقعی ان سے دور ہے جس کا ثبوت اس تازہ تصنیف سے ملتا ہے لیکن ماجد صدیقی مزاح کی اوٹ سے طنز کے ایسے نشتر پھینکتے ہیں جو قارئین کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کی بجلیوں کی ہلکی سی لکیر چھوڑ جاتے ہیں اور اس سے پہلے کہ یہ لکیر ختم ہو نشتر اپنا کام کر چکا ہوتا ہے۔ زبا ن و بیان کی خوبصورتی کو ماجد نے مقامی قصے کہانیوں کے میل سے خوبصورت تر بنا دیا ہے۔

Advertisements