دھنک کے رنگ اس کے آسمان شعر پر رقصاں 

شفق کی تازگی، سورج، ستارے، چاند، ضو افشاں 

انہی میں کہکشاں کا نور بھی آئے نظر خنداں 

زمیں کے گیت جب اس کے لبوں پر جھلملاتے ہیں 

ہوا، دریا، پرندے، پیڑ، پربت، پھول اور جنگل

سسکتے شہر سارے اس سے مل کر گنگناتے ہیں 

اسے دریا جہاں بھی بہتے اشکوں کے نظر آئیں 

ان اشکوں میں خود اس کے اشک پیہم ٹمٹماتے ہیں 

برستی ہی رہیں گی اس کی آنکھیں جب کبھی خاور

زمیں کے لوگ فرعونی ستم کی زد میں آتے ہیں