لائل پور سے بذریعہ ڈاک موصول ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پنجابی کے معروف شاعر اور جدید پنجابی غزل کی منفرد کتاب ’’وتھاں ناپدے ہتھ‘‘ کے مصنف ماجد صدیقی گورنمنٹ ڈگری کالج لائل پور میں اردو کے لیکچرار ہو گئے ہیں۔

اس خبر کو پڑھ کر افسوس بھی ہوا اور خوشی بھی۔ افسوس اس لئے ہوا کہ حبر کا عنوان ’’شاعر پروفیسر بن گیا‘‘ ہے گویا شاعری ختم ہو گئی اور پروفیسری شروع ہو گئی۔ ایک اچھا خاصا شاعر اگر شاعری چھوڑ کر پروفیسر شروع کر دے تو افسوس تو ہوتا ہی ہے ویسے یہ کوئی ضروری نہیں کہ پروفیسری اور شاعری بیک وقت جاری نہ رہ سکیں کیونکہ شاعر نے تو مشق سخن کے ساتھ ساتھ چکی کی مشقت بھی جاری رکھی ہے مگر چونکہ ہر طبیعت طرفہ تماشا نہیں ہوتی اس لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں کی اطلاع کے لئے جو ماجد صدیقی کو نہیں جانتے یہ بھی لکھ دیا جاتا کہ ’’اور انہوں نے اردو کی پروفیسری کے ساتھ پنجابی شاعری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔

اس فقرے کی عدم موجودگی میں یہ بھی ممکن تھا کہ ماجد صدیقی کو احباب کے اس قسم کے خطوط موصول ہونا شروع ہو جاتے کہ ’’ہمیں یہ پڑھ کر دکھ ہوا ہے کہ آپ شاعر سے پروفیسر بن گئے۔ آخر شاعری نے آپ کو شہرت دینے کے علاوہ اور آپ کا کیا بگاڑا۔ اور ہم جو ایک مدت سے شاعر چلے آتے ہیں اور روزگار حیات کی فکر سے لاپرواہ ہو کر شاعری کرتے ہیں۔ اب اپنے سامعین کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے ہمارے سامعین اور قارئین بھی اب ہماری شاعری کا اعتبار نہیں کریں گے۔ اور کہیں گے کیا پتہ تم بھی کل پروفیسر بن جاؤ‘‘

پھر ماجد صدیقی کو اس نوعیت کا ایک بیان جاری کرنا پڑتا کہ ’’میں ان تمام احباب کا جنہوں نے میرے لیکچرار ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے فرداً فرداً جواب دینے سے قاصر ہوں اور بذریعہ اخبار ہذا ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں پروفیسری کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری بھی جاری رکھوں گا اور میں ملازمت کو جسمانی غذا کے حصول کا ذریعہ اور شاعری کو روحانی غذا سمجھتا ہوں مجھے جسم کے علاوہ روح کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

خوشی اس بات سے ہوئی کہ ماجد صدیقی اپنایا رہے ایک عرصہ کی با مشقت بیکاری کے دور سے گزر کر ملازمت پر بحال ہوا ہے اور اب سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ تعلیم و تدریس اور شعر و فن کی طرف توجہ دے گا خوشی اس بات کی بھی ہے کہ تعلیم کے میدان میں ماجد صدیقی جیسے سمجھدار اور ذہین استادوں کی ضرورت کا احساس پیدا ہونے کی امید ہو چلی ہے۔

شاعروں کو کسی بھی معاشرے کا حساس ترین طبقہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ حساس طبقہ محض شعر و شاعری سے اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا اس لئے کہیں نہ کہیں ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہے ایک ملازمت افسری کی بھی ہے اور افسری ان شاعروں کے مقدر میں ہوتی ہے جو محض شاعر ہی نہیں ہوتے کچھ اور بھی ہوتے ہیں اور افسری حاصل کرنے کے بعد شاعری نہیں رہتے کچھ اور بن جاتے ہیں مگر شاعروں کی صف اوّل میں جگہ پاتے ہیں شاعروں کے لئے دوسری ملازمت ریڈیو کی ہوتی ہے مگر ریڈیو میں انہیں شاعری کے علاوہ ’’نثاری‘‘ بھی کرنی پڑتی ہے اور اکثر ریڈیو شعراء نثر میں قطعہ اور نظم میں نثر لکھنے لگ جاتے ہیں فکر پالیسی کی تابع ہو کر رہ جاتی ہے اور شاعر ریڈیو سیٹ بن جاتا ہے جو سٹیشن چاہئے لگا لیجئے۔ اخبار نویسی بھی شاعری کو راس نہیں آئی اور خبروں اور کالموں کو شاعری کا رُوپ دیا جانے لگا جس طرح آج کا اخبار کل ردی کا ٹکڑا بن جاتا ہے اسی طرح صحافت کی شاعری بھی ایک دن سے زیادہ نہیں چل سکتی۔ ایک شعبہ تعلیم و تدریس کا رہ گیا ہے جس میں شاعر کی کچھ گنجائش رہ جاتی ہے مگر یہاں بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ استاد اگر شاعری کا استاد بن گیا تو ادب تخلیق کرنے کی بجائے شعراء تخلیق کرنے شروع کر دے گا۔ اور شعراء بھی افسری ریڈیو نگاری اخبار نویسی اور پروفیسری کے چکر میں پھنس جائیں گے۔ مگر ماجد صدیقی سے ہمیں یہ توقع بہرحال ہے کہ ان کے ہاتھ پروفیسری میں بھی وہ ’’وتھاں‘‘ ناپتے رہیں گے جو ذہن اور شعور، فکر اور عمل، روشنی اور تاریکی میں واقع  ہیں اور یہی عنوانات ماجد صدیقی کا موضوع ہیں۔

1964ء

دید شنید از منّو بھائی

Advertisements