ماجد صدیقی کا تازہ مجموعہ کلام ’’سخناب‘‘ میرے ہاتھ میں ہے اور سوچ رہی ہوں بات کہاں سے شروع کروں؟ ماں کے لئے اس جذبہ احسان مندی سے کہ جو کتاب کا عنوان بن گیا ہے۔

دمبدم ہوں ضوفشاں اس روز سے

جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا

یا انتساب سے؟ کہ جہاں محسوسات کا رشتہ شاعر کو محمد طفیل (نقوش) کے آس باس رکھتا ہے انتساب بڑا منفرد ہے۔ آپ بھی دیکھئے۔

’’محنت کش اور عہد ساز شخصیت جناب محمد طفیل المعروف محمد نقوش کے نام جن سے ظاہراً میرا تعلق بس اتنا ہے کہ پچھلی عید پر انہوں نے پہلی بار مجھے بھی ایک نہایت اجلا عید کارڈ بھیجا، جس پر یہ تحریر تھا، ’’مجھے آہٹ محسوس ہوتی ہے کہ آپ ہر وقت میرے آس پاس ہیں‘‘ اور میں نے یہ جانا کہ غالباً طفیل صاحب نے لفافے پر اپنے کسی اور محبوب کی بجائے بے خیالی میں میرا پتہ لک دیا ہے لیکن نہیں محمد طفیل کسی روایتی شاعرانہ بے خیالی کا شکار ہرگز نہیں ہوتے۔ شائد سارا کچھ میرے اس شعر کے جواب میں ہو۔

کوئی آذر تو ہو گا ہمارے لئے

ہم کہ ٹھہرے ہیں پتھر، بھرے شہر میں

یہی چند حروف کتاب کا انتساب بھی ہیں اور دیباچہ بھی اس کے بعد تقریباً دو سو غزلوں کا مجموعہ فکر و فن اور حسن و لطافت کے دلکش گلستان کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ اور قاری کے سامنے میزان سخن فہمی رکھ کر پوچھتا ہے کہیے ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے۔

ماجد صدیقی کا یہ پہلا مجموعہ کلام نہیں کہ اسے کسی داد گر کی ضرورت ہو جو بقائے دوام کے دربار میں اس کے مقام کے تعین کے لئے رطب اللساں ہو بلکہ وہ اس میدان کا پرانی پاپی ہے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتا ہے اور اب تک اس کے نو مجموعہ ہائے کلام اردو کے اور 9ہی پنجابی کے شائع ہو چکے ہیں۔ منظوم اردو ترجمے اور پنجابی ترجمے اس کے علاوہ ہیں جن کی تعداد بالترتیب تین اور چار ہے۔

ماجد صدیقی نے تصنیف و تالیف کے میدان میں اپنے قلیل عرصہ سخن میں جو کشتوں کے پشتے لگائے ہیں اس کو دیکھ کر کوئی سوچ سکتا ہے کہ شاید بھرتی کا مال ہو گا مگر نہیں زیر نظر مجموعہ ہی کو لیجئے اس کے ایک سو بانوے صفحات پر ایک سو نوے غزلیں شائع ہوئی ہیں مگر کوئی ایک شعر یا مصرعہ بھی سوز دروں سے یا معنی و تاثر سے خالی نہیں حسن اختر جلیل نے خوب کہا ہے ’’ماجد صدیقی نے کسی شخصی یا گروہی پشت پناہی کے بغیر محض‘‘ سوزِ دروں کے زور پر اپنی شاعری کا لوہا منوایا ہے۔‘‘

ماجد صدیقی کی شاعری چاہے وہ اردو ہو یا پنجابی اس میں لوک رس ہے تازگی ہے اور ایک میٹھے میٹھے درد کی کیفیت پڑھنے والے کو سرشار کر دیتی ہے۔

ماجد کی بات دل سے نکلتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہے اس لئے کہ وہ لفظوں کی بازی گری میں نہیں الجھتا۔ سیدھے سبھاؤ دل کش انداز میں دل کی بات دل کی زبان میں کہہ دیتا ہے۔ ایک محمد طفیل تو کیا ہر صاحب درد کو اپنے پاس اس کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔

جان لبوں تک لاؤں

روٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی کی شاعری میں ترنم اور موسیقی اس کی فصاحت کا نکھار ہے انداز میں وہ میر کے مکتبۂ فکر کا شاعر ہے۔ شاید میر صاحب سے محبت اور جوش عقیدت کا اظہار شاعری میں ان کی روش پر چلنے سے پوری طرح نہ ہو سکا تھا کہ حلقہ ارباب میر کی بنیاد ڈالی اور اس کے بانی رکن قرار پائے۔ میر کے انداز کا دھیما پن اور سوز و گداز جب اپنے عہد کی سچائیوں سے ملتا ہے تو ماجد کی شاعری ایک نئے انداز سے سامنے آتی ہے۔؎

خاک وطن پہ گود میں بچہ تھا ماں کی اور

بیروت کی زمیں پہ برستا جلال تھا

ہم بھلا تصویر کیا کھینچیں گرفتِ وقت کی

سانپ چڑیا کو سلامت ہی نگل جائے گا

الغرض سخناب ایسی ہی سچائیوں، فکری گہرائیوں اور سوز و گداز سے مملو اشعار کا مجموعہ ہے اپنے عہد کی سچائیوں سے قدم ملا کر چلتے ہوئے ماجد کے احساس نے کہیں ٹھوکر نہیں کھائی بظاہر مرنجاں مرنج اپنے آپ میں گم رہنے والا شخص گُنوں کا اتنا پورا ہے اس کا احساس ہمیں سخناب پڑھ کر ہوا مشاعروں میں ماجد کو سنا تھا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ اس کے پاس اتنے درد و غم جمع ہو چکے ہیں کہ کتابوں کا پورا پشتارہ لئے پھرتا ہے گزشتہ برس ماجد صدیقی زندگی کے ایک بھیانک موڑ پر آ کر اس وقت بکھر سا گیا جب اس کے جواں سال بیٹے کو شہر کی اندھی ٹریفک نے نگل لیا۔ ماجد نے اس سانحے پر بزبان شاعر اتنے بین کئے کہ پوری ایک کتاب بیٹے کے لئے لکھ کر بظاہر سنبھل سا گیا، مگر تازہ مجموعے میں بھی کئی اشعار صاحب اولاد کے دل پر تازیانہ بن کر لگے ہیں۔

اُجڑے کھیت کا مالک ہوں میں اپنا درد بتاؤں کیا
دونوں ہاتھ مرے خالی ہیں میں اِن کو پھیلاؤں کیا

(واضح رہے کہ ماجد صدیقی کے بیٹے کو چاند رات حادثہ پیش آیا تھا) ماجد صدیقی کی شاعری میں لوک رس کے لاگ کا سبب شاید یہ ہے کہ خود ایک گاؤں کا رہنے والا بقول ماجد ’’گاؤں میں چوپال سسٹم ہوا کرتا تھا رات کو سب یار دوست کام کاج سے فارغ ہو کر بیٹھتے اور پنجابی کے منظوم قصے ہیر وارث شاہ اور قصہ یوسف زلیخا گایا کرتے پھر میرے بڑے بھائی صاحب کو موسیقی سے بڑا لگاؤ تھا۔ اس زمانے میں لوک گیت والوں کے ٹولے ہوا کرتے تھے جو مزاروں پر عُرس کے موقعہ پر میلوں میں لوک گیت گایا کرتے تھے میرے بھائی صاحب کو جہاں کہیں ایسی کسی محفل کا پتہ چلتا مجھے ساتھ لے کر پہنچ جاتے۔ شاید یہی سب چیزیں مل کر میری شاعری کا پس منظر بنتی رہیں۔‘‘ یقیناً یہی سب چیزیں مل کر ماجد صدیقی کا شاعرانہ پس منظر بناتی ہیں مگر اس سے بھی توانا عنصر یہ ہے کہ ماجد صدیقی کی والدہ ’’اللہ رکھی‘‘ پنجابی کی زود گو شاعرہ تھیں۔ یہ خاتون جو بالکل ان پڑھ تھیں۔ عشقِ رسولؐ میں ڈوبی ہوئی نعتیں کہا کرتیں جنہیں ماجد صدیقی یا بڑا بھائی لکھ لیا کرتا، مگر شائع کروانے کی وہ اجازت نہیں دیتی تھیں البتہ مرنے سے پہلے انہوں نے اجازت دے دی اور اب ماجد صدیقی اپنی والدہ کی نعتوں کا مجموعہ ترتیب دے رہے ہیں تو گویا یہ بات طے ہے کہ شاعری ماجد کی رگ و پے میں دودھ کے ساتھ اتری مگر عجیب بات ہے کہ پنجابی شاعرہ کا بیٹا ضلع جہلم کے ایک گاؤں کا پنجابی سپوت جب خود حرف شعر کا آغاز کرتا ہے تو اردو لکھتا ہے۔ ماجد صدیقی نے زمانہ طالب علمی میں شعر کہنا شروع کیا پہلی چیز ایک نعت تھی، جو عید میلاد النبیؐ کے موقع پر ایک مقام اخبار کے سرورق پر شائع ہوئی بقول ماجد یہ ایسا اعزاز تھا کہ کئی دن اڑتے پھرے۔

ماجد صدیقی کا اصل نام عاشق حسین ہے۔ ابتدا میں عاشق حسین صدف کے نام سے لکھتے رہے۔ بعد میں ماجد صدیقی لکھنا شروع کر دیا۔ پنجابی میں شاعری شروع کرنے کا عجیب واقعہ ہے۔ ماجد صدیقی سناتے ہیں ’’ایک مرتبہ ایک آدمی میرے پاس آیا جو گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ان ہی دنوں اس کے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔ وہ کہنے لگا ماجد صاحب دکھ سے جگر پھٹ رہا ہے۔ رونا چاہتا ہوں رویا نہیں جاتا مجھے کوئی نوحہ لکھ دیں میں نے اسے اردو میں چند اشعار لکھ دیے۔ دوسرے دن پھر آیا اور کہنے لگا۔ جناب میں ان پڑھ آدمی ہوں۔ اردو کے شعر یاد نہیں ہوتے آپ مجھے پنجابی میں لکھ دیں میں کسی سے پڑھوا کر یاد کر لوں گا اس کی فرمائش پر پہلی مرتبہ پنجابی میں اشعار کہے اس کا مطلع تھا۔

ول کے نہ آیا ماہی مینوں سوچاں پیاں

کت ول ہو گیا راہی مینوں سوچاں پیاں

(میرا ساجن لوٹ کر نہیں آیا میں سوچوں میں گم ہوں نہ جانے کن راستوں میں کھو گیا)

ماجد صدیقی ایک مقامی کالج میں اردو کے پروفیسر ہیں آج کل کل قرآن شریف کا منظوم اردو ترجمہ کر رہے ہیں اور چار پانچ پارے ترجمہ کر چکے ہیں۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ یہ ترجمہ نظم معریٰ میں اتنا رواں ہو کہ آسانی سے زبانی یاد ہو جائے۔ ماجد صدیقی نے صورت احوال آنکہ کے عنوان سے اپنی سوانح تحریر کر رکھی ہے جو ان کی واحد نثری کتاب ہے۔ دوسری کتاب ’’دیگر احوال آنکہ‘‘ زیر طبع تھی کہ پتہ چلا مختار زمن اس نام سے لکھ چکے ہیں۔ اب نئے نام کی تلاش کا مرحلہ طے ہو جائے تو کتاب بھی منظر عام پر آ جائے گی۔

Advertisements