شاعری کی کوئی جامع و مانع تعریف آج تک نہیں کی جا سکی۔ شاعری کیا ہے ہر صدی نے اس سوال کا جواب اپنے مخصوص نقطہ نگاہ کی روشنی میں دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر جس ہونہار کے والدین کی تعریف ممکن نہیں اس کی اپنی تعریف کون کرے گا سیدھی سی بات یہ ہے کہ عمدہ شاعری حسن و محبت سے جنم لیتی ہے۔ حسن اور محبت دو ایسی تحریکات ہیں جن کو محسوس کرنے والے کے اعصاب کے لاکھوں نازک عضلات پر پل بھر میں اتنے تاثرات مرتب ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں ثانیہ بھر میں کلی طور پر ساکت کر کے ان کے خدوخال کو واضح طور پر پڑھ کے کوئی حتمی حکم نہیں لگا سکتا۔ دماغ مادی حیثیت رکھتا ہے جب کہ انسانی سوچ غیر مادی و غیر مرئی چیز ہے۔ بہرحال انسانی ذہنی قوتیں اپنی تمام تر فعالیت کے باوجود کچ خامیاں بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے کائنات کے سربستہ راز یکدم کھل کر سامنے نہیں آتے۔ آہستہ آہستہ صدیوں کی کاوشوں کے نتیجہ میں کچھ کچھ نمایاں ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن اپنے کینوس پر بیک وقت صرف ایک تصویر اتار سکتا ہے۔ دو نہیں۔ آپ کسی پارک کے بارے میں سوچ رہے ہوں تو بازار کے تجرباتی نقوش آپ کے دماغ سے یکسر محو ہو جائیں گے اور بازار کے کسی خاص واقعہ کو خیال رہے ہوں تو دوسری ہر طرح کی تمام صورتیں دھیان کی آنکھ سے اوجھل ہو جائیں گی۔ ایسا نہ ہوتا تو ہم کسی خیال واقعہ یا مسئلہ پر اپنی توجہ کبھی اس حد تک مرکوز نہ رکھ سکتے جتنی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پھر انسانی دماغ جبلی طور پر حرکت کرتی ہوئی اشیاء کے بارے میں ان کے اجزائے ترکیبی کو اپنے طور پر ساکن کئے بغیر نہیں سوچ سکتا شاعری بھی کوئی جامد حقیقت نہیں اس پر بھی ارتقائی تحریکات کی یلغار ہر لمحہ جاری رہتی ہے۔ اس کی موجودہ روایت میں ہر لحظہ قابل قدر اضافے جاری رہتے ہیں۔ اس لئے اس کی ہیئت اور اہمیت کا جائزہ صرف ان تخلیقات ہی کے حوالے سے لیا جا سکتا ہے جو کسی زمانے کے خاص حصے میں متعارف ہوئی ہوں۔ اور قبول عام کے معیار پر پہنچ کر خراج تحسین حاصل کر رہی ہوں۔ جس طرح ہم فطرت کو کُلّی طور پر ایک اکائی کی صورت میں دیکھنے کی بجائے اسے پھول، کلی، شبنم، دریا، سمندر، چاند، ستارے اور آنسوؤں جیسے انگنت جھروکوں ہی کی مدد سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ہم فطرت کی صرف اسی ظاہری شکل کو دیکھ سکتے ہیں جو اس نے کسی چیز کے وجودی آئینے میں اختیار کر رکھی ہو۔ ہم شاعری کو بھی اپنے فریم ورک میں ایک مخصوص پوز ہی میں دیکھ سکتے ہیں۔ جو کسی طرح بھی حتمی نہیں۔ ایک اور مجبوری یہ ہے کہ ماجد صدیقی نے اپنے جسم کا سونا ریت کے بہت سے ٹیلوں میں چھپا دیا ہے۔ جس کے لئے تجسس اور تلاش کی ضرورت ہے۔ بات جو میں ماجد صدیقی کے غزل کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں اسے پورے طریقے سے نمایاں کرنے کے لئے تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہو گی۔

(پرانا عہد نامہ) بائیبل کے پہلے باب کا تیسرا جملہ کچھ اس طرح ہے۔

"And God said let there be light and there was light”

اور خدا نے کہا روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی۔۔۔!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی انسان کے کہنے سے بھی اس طرح خالق کائنات کے ارشاد پر ہنگام آفرینش روشنی ہو گئی تھی۔۔۔؟ بظاہر بات دل کو لگتی نہیں مگر اس کا جواب نفی کی بجائے مثبت میں ہے۔ یقیناً انسان کے کہنے سے بھی روشنی ہو سکتی ہے مگر انسان کے ایسا کہنے پر روشنی صرف اسی حد تک ہو گی جتنی روشنی اس کی ذات میں رکھ دی گئی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو نیک ماؤں کی دعائیں بھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ وہ اپنا اثر ضرور دکھاتی ہیں۔ ماجد صدیقی کی والدہ کی دعائیں بھی اپنا اثر دکھائے بغیر ہوا میں تحلیل نہیں ہو گئیں۔ ورنہ ان کا ماجد آج یہ بات برملا کہنے میں کسی طرح بھی حق بجانب نہ ہوتا۔

دم بدم ہوں ضو فشاں اس روز سے

جب سے  ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا

ماجد صدیقی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ زندگی کا شاعر ہے ۔ اس کا ہر شعر زندگی کی کسی نہ کسی حالت کو پیش کرتا ہے جس میں اس کا قاری اپنے آ کو گھرا ہوا پاتا ہے۔ ماجد انسانی نفسیات کے نازک پہلوؤں کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ ہم اس کے اشعار کو دہرا کر بار بار لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔ دراصل بات کچھ اس طرح ہے کہ ہر اچھا شعر جن واردات و احساسات کو شاعرانہ مہارت کے ساتھ بیان کرتا ہے ان کا خمیر انسانی جبلت میں ہمیشہ سے کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ قاری کے وجدان میں ان کی ایسی جڑیں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ جو آخر کار شاعر کے جچے تلے لطیف الفاظ میں پھولوں کی طرح کھل اٹھتے ہیں۔

دکھی انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ہر نئی چوٹ کھا کر بولتا ہے اور اپنے دکھ کو بیان کر کے جی ہلکا کر لیتا ہے مگر یہ لمحہ گزر جانے کے بعد اس کا دکھ کسی دبی ہوئی چنگاری کی طرح سلگتا رہتا ہے۔ جس کے اوپر آہستہ آہستہ فراموشی کی راکھ جمنے لگتی ہے۔ گویا ایک ٹیس ہے جو شعور سے تحت الشعور تک موجود رہتی ہے مگر اس کی تمازت پر صبر اور استغناء کی اوس پڑ چکی ہوتی ہے۔

 ایسے میں اگر کوئی ازارہ ہمدردی پرسش کر لے تو جو کچھ دل پر لمحہ بھر میں بیت جاتی ہے۔ اس کا احساس کچھ اسی شخص کا حصہ ہے جو اس اذیت سے گزر رہا ہو۔ ماجد صدیقی نے کتنی خوبصورتی اور مہارت سے اس الاؤ کا ذکر کیا ہے جس کی طرف میں نے اوپر کی چند سطور میں اشارہ کر دیا ہے۔

اونچی کر دے لو زخموں کی

پرسش وہ بے رحم چتا ہے

اس خوبصورت شعر کے خدوخال سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ ماجد صدیقی نے موجودہ دور کے Ultra Modern  چیستانی اندازِ بیان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا ہے۔ ماجد سیدھی سوچ کا شاعر ہے۔ وہ الفاظ کے تاریک گوشوں کو کسی آزمائشی پروگرام کے تحت اجالنے میں تخلیقی صلاحیتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اسی وجہ سے اس کی غزل میں ایک پر وقار ٹھہراؤ کا احساس ملتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ماجد صدیقی کی اچھی غزل کا ہر شعر سنار کی جنتری کے باریک سوراخوں سے کھینچا ہوا خالص سونے کا باریک تار دکھائی دیتا ہے جس میں کہیں کوئی الجھاؤ نہیں ماجد صدیقی کو پڑھنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے شاعر کا وجود کسی معاشرے میں ایک ایسے میٹر کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنے عصری ماحول کے دکھ سکھ سے پیدا ہونے والے احساسات کو قاری کی تادیب و تربیت کے لئے ریکارڈ کرنے کا اہم فرض ادا کرتا ہے۔ میرے اس احساس کی بنیاد شاید اس حقیقت پر ہے کہ ماجد صدیقی نے اپنی غزل کے ذریعہ دورِ حاضر کی طبقاتی اُونچ نیچ کو بڑی دیانت کے ساتھ Guageکیا اور بلا کم و کاست اپنے تاثرات کو خوبصورت اشعار کے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔

ماجد صدیقی کی غزل قدیم و جدید لب و لہجے کے درمیان ایک پُر فضا جزیرہ ہے جہاں انسانی اعصاب کو سکون ملتا ہے۔ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اسے انوکھے مسائل کا سامنا ہے۔ بے حسی کا ایک خلا ہے جس میں ہم سب آہستہ آہستہ کچھ اس طرح اترتے جا رہے ہیں کہ ہمیں اپنے ہونے نہ ہونے کا احساس بھی نہیں رہتا۔ ہماری زندگیاں ہمارے وجود سے باہر کے شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ ہر طرف باہم آویزش کا ایک قیامت خیز منظر ہے جسے ہر شخص صرف انفرادی حیثیت سے محسوس کرتا ہے۔ قومی، علاقائی، خاندانی، سیاسی، مذہبی، مقامی یا بین الاقوامی کینوس میں رکھ کر کسی قریبی ہم عصر کو بھی سمجھا نہیں سکتا۔ خود دیکھتا ہے دکھا نہیں سکتا۔ ہر شخص اذیت ناک حد تک اپنے گرد و پیش سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ وہ تنہائی کے خوف سے چیختا ہے مگر اس کی آواز گلے سے نہیں نکلتی، بھاگتا ہے مگر اس کے پاؤں ساتھ نہیں دیتے۔ جبر اور محرومی کی فضا جیتے جاگتے جدید انسان کو کابوس کی طرح اپنے بازوؤں میں جکڑے ہوئے ہے۔ ماجد صدیقی جب تنہائی کے اس خلا میں اترتا ہے تو اپنے آپ کو ایک بے صوت و صدا جہنم میں پاتا ہے جہاں باہم انسانی رابطے کی نقیب پکاریں تو کجا اسے محرومیوں کی دل دوز سسکیاں بھی بے اثر لگتی ہیں۔

سنی پکار نہ آئی صدا سسکنے کی

نجانے کون سی گھاٹی میں ہمسفر اترے

ماجد صدیقی خود رحمی (self pity)کے نسوانی احساس کو اپنی غزل کے شعر کے نزدیک پھٹکنے بھی نہیں دیتا۔ اسے بے راہ روی کے الاؤ میں جلتے ہوئے انسانوں کے علاوہ ریت کے ٹیلوں کی طرح مسمار ہوتی ہوئی غیور قوموں کی تقدیریں بھی اس طرح نظر آتی ہیں۔ جیسے سارا تصویر خانہ حیات اس کے سامنے پورے اہتمام کے ساتھ سجا ہوا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ جس قوم نے جنگیں جیتیں، مہمیں سر کیں، ادب تخلیق کیا، انسان کو حیوانیت سے نکال کر آدمیت سکھائی، جس نے سائنس کا پہلا حرف لکھا، اندھیروں کو روشنی دی، ہواؤں کو چلنا اور پھولوں کو کھلنا سکھایا آج گمنامی اور محرومی کے اتھاہ گڑھے ہیں گرتی جا رہی ہے۔ تو اسے احساس ہوتا ہے۔ کہ گل کوزہ تو موجد ہے کوئی کوزہ گر ہی نہیں۔

میدان کارزار کی زیب و زینت پھرتیلے شبدیز (Steeds)تو موجود ہیں کوئی شہسوار موجود نہیں ہے۔ تو ماجد صدیقی کا دل دہل جاتا ہے۔ درد، حیرت اور استعجاب کی ملی جلی اذیت ناک کیفیت میں ماجد کی آنکھ سے ٹپکا ہوا اشک ایک عظیم قوم کی تاریخ کا آخری نقش بن کر اس شعر کی صورت میں ڈھلتا ہے۔ جو بیک وقت تاریخ کا ایک خونی ورق بھی ہے اور ناکام کاوشوں کی عبرتناک داستان بھی۔

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نجانے گھوڑا یہ کس لٹے شہسوار کا ہے

اس شعر کے امکانی پہلوؤں پر غور کریں تو مطالب کے کئی در کھلتے ہیں۔ ’’کس لٹے شہسوار‘‘ کے الفاظ کو ہی لیجئے۔ سوچئے کیا اس سوال پر ہماری رگوں میں گرم خون منجمد ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ کیا واقع میں موجودہ انسانی نسل اپنے محسنوں کے کارناموں کے ساتھ ان کے نام تک فراموش نہیں کر چکی۔

بہرحال، ماجد کے ہاں قومی رزمیہ شاعری کے بھی کچھ عمدہ نمونے قاری کو جھنجھوڑتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مہمیز کے لئے کہیں کہیں ماجد صدیقی غزل کے اشعار میں خفیف سے طنز کا استعمال بھی کرتا ہے۔

ماجد صدیقی کو سرسری طور پر پڑھنے والا قاری اپنے آپ سے زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ روح عصر نے ماجد کی غزل میں جو رنگ اختیار کیا ہے۔ وہ ایک انفرادی نہج رکھتا ہے۔ کیا ہم سب اپنے گرد و پیش ایک گھٹن کا سا احساس نہیں رکھتے۔ کیا اس شعر کے تلازمے ہمارے دل کی شریانوں کے ساتھ بندھے ہوئے محسوس نہیں ہوتے؟

اترا ہے یہ ہر صحن میں کس حبس کا موسم

دیکھا ہے جسے شہر میں بے زار ملا ہے

ماجد صدیقی کے اندر ایک ایسی جادوئی کھڑکی کے پٹ کھلتے ہیں جو اس کی قوت کا سرچشمہ ہے اور زندگی کی رمق بھی۔

ان پلکوں پر اشکوں کے آئینے میں

اک چہرہ اکثر لہرانے لگتا ہے

جب تک اس کے اندر یہ کھڑکی موجود رہے گی ماجد ماجد رہے گا۔ اور اگر اسے کبھی اس کے نامساعد حالات کی تند ہوا نے بند کر دیا تو وہ گھر سے بازار جانے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ کر کبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ یہی کھڑکی اس کا مرکز بھی ہے اور محور بھی۔ یہی وہ رسی ہے جس کی لمبائی اس کی زندگی کے دائرے کا محیط متعین کرتی ہے۔ اس کی سوچ کا ہر دائرہ اور دائرے کی ہر قوس اسی نقطے کی مرہون منت ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہر خوبصورت محل کی کوکھ میں ایک کھنڈر موجود ہوتا ہے۔ جسے محل کی دیدہ زیبی اور پُر وقار بلندی اپنے پیچھے چھپائے ہوئے ہوتی ہے۔

ماجد صدیقی شاعر ہے اور پڑھا لکھا انسان بھی اسے پڑھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور خوشی بھی۔ وجہ یہ ہے کہ ٹی ایس ایلیٹ کی ایک بات خاص طور پر ایسے شاعروں کی بارے میں ایک عجیب ذہنی فضا پیدا کرتی رہی ہے۔ وہ کہتا ہے۔ "Too much learning deadens the poetic faculty”زیادہ علمیت شاعرانہ صلاحیت کو کند کر دیتی ہے۔ مگر خوش قسمتی سے ماجد صدیقی کے ہاں کوئی ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے جن سے ایلیٹ کی اس بات کی تصدیق ہو سکے۔ وہ اپنے علم کے اسم سے بھی شعری میدان میں جادو جگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

بلک رہا ہوں کہ کہتے ہیں جس کو ماں ماجد

الٹ گیا ہے مرا طشت وہ دعاؤں کا

پہلے مصرع میں۔۔۔ ’’کہتے ہیں جس کو ماں‘‘ سے یقیناً ماں نہیں دھرتی مراد ہے۔ جس پر ہمیں تخلیق کیا گیا ہے اور جس کی کوکھ میں موجود خزانے ہماری خواہشوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے لئے رکھ دیئے گئے ہیں۔ مگر اس طشت مراد سے جو چاہا تھا جس کی لئے دعائیں مانگی گئی تھیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ماجد صدیقی نے ہمارے اسی المیے کی طرف بڑی سادگی سے اشارہ کیا ہے۔ دھرتی غلہ اگانے کی بجائے بھوک اور افلاس اگانے لگی ہے۔ انسان اپنی زمینی ضرورتوں کے لئے بچے کی طرح بلک رہا ہے جسے محرومیوں کے اندھے غار میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ماجد کے زیر بحث شعر کا دوسرا مصرعہ ’’الٹ گیا ہے مراد طشت وہ دعاؤں کا‘‘ اسی معاشی بدحالی کی طرف اشارہ ہے جو اس پس منظر میں مفہوم کی بلندیوں کو چھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ماجد نے اس لئے بھی ہماری توجہ اس صورت حال کی طرف مبذول کرائی ہے۔ کہ آج کا انسان زمین کے گھاؤ سہنے کی بجائے آسمان کے بے سمت سفر پر روانہ ہو گیا ہے۔ اور دھرتی جو کچھ اگل رہی ہے اسے بھوکی انسانیت کا نوالہ بننے سے پہلے ہی چھین کر خلائی راکٹوں میں جلا کر بھسم کر دیا جاتا ہے۔

ماجد صدیقی کے بعض اشعار میں امکانی مطالب کا ایک نہ ختم ہونے والا لطیف سلسلہ موجود ہے جو ہمیں اپنے گرد و پیش کو اس خاص زاویے سے دیکھنے پر اکساتا ہے جس کی طرف وہ متوجہ کرنا چاہتا ہے۔

پرندہ ہانپتے اترا تھا جس پر

وہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے

ایسی قبیل کا شعر ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد انسانی شعور انگنت امکانات کے دوراہے پر مبہوت کھڑا رہ جاتا ہے۔ ہوش آنے پر خلیل جبران کے یہ الفاظ ذہن میں گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔

’’انسانی عقل بسکٹ کا وہ ٹکڑا ہے جسے کنڈی کے ساتھ باندھ کر سمندر میں لٹکا دیا گیا ہو۔ اگر مچھلی پھنس جائے تو آدمی عقل مند ہے اور اگر مچھلی ہاتھ نہ لگے تو آدمی بے وقوف ہے۔‘‘

آنکھیں کھلی ہوں اور کوئی تصویر چہرہ آنکھوں کے سامنے موجود ہو مگر روشنی نہ ہو تو آنکھیں بینا نہیں اور چہرہ خوبصورت دکھائی نہیں دے گا۔ بالکل اسی طرح جدید دور میں ہر طرف فضا میں ایسا زہر گھل گیا ہے جس نے انسانوں کے محسوسات کو معطل کر دیا ہے۔ باہم رابطے کی فضا ختم ہو گئی ہے۔ اور اب وہ قدیم انسانی حس بھی مفلوج ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے ذریعہ انسان دھواں دیکھ کر آگ کا اندازہ کر لیتا تھا۔ اور روتے ہوئے آدمی کے آنسوؤں سے اس کے دکھ کو بھانپ سکتا تھا۔ مگر ایسا معاشرہ ماجد صدیقی کے حصے میں آیا ہے جو اس کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جیتے جاگتے انسانوں سے دیکھنے سمجھنے اور محسوس کرنے کی قوت سلب کر لی گئی ہے۔

آئنے سج رہے تھے پلکوں پر

حال دل پھر بھی آشکار نہ تھا

ماجد صدیقی نظریات اور مطالب کو ایجاد نہیں کرتا۔ وہ اپنی صدی کی زہر آلود فضا میں موجود واردات کو حسی شناخت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جس کے جواب میں ہر سینہ دھڑکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ انسان نے ہمیشہ جھوٹا تاثر دے کر اپنے جیسے سادہ لوح انسانوں کو لوٹا ہے۔ کھانے میں زہر ملانا اور پھندے کے اوپر دانہ سجانے کی ترکیب نئی نہیں۔ مگر فریب فریب ہی ہوتا ہے۔ اور آخر کار خونی چہرے بے نقاب ہو ہی جاتے ہیں۔ خلیل جبران نے ایک جگہ لکھا ہے۔

بھیڑیا رات کی تاریکی میں بھیڑ کو پھاڑ کھاتا ہے مگر اس کے

خون کے دھبے سورج نکلنے تک چٹانوں پر بکھرے رہتے ہیں

ان سطور کا نفس مضمون بھی Disillusionmentہے۔ مگر دیکھئے ماجد صدیقی نے اسی قسم کی صورت حال کو کتنی سیدھی اور سچی پہچان بنا کر اس شعر کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔

اور تاثر دے کر جس نے میرا خون غلاف کیا

وقت کے ہاتھوں دھل کر چمکی آخر وہ تلوار، بہت

ماجد صدیقی کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ ہمارے ہی بے ڈول مگر نازک اور معصوم جذبوں کو اپنی فنی ٹکسال میں تراش خراش سے سیدھا کرتا چمکاتا اور نئے انداز سے سجا کر ہمیں لوٹا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کی شعری فضا میں کسی قسم کی اجنبیت محسوس نہیں کرتے۔

جس شجر پر سجے تھے برگ اور بار

رہ گئے اس پہ عنکبوت کے تار

شجر پر برگ و بار سجنے اور عنکبوت کے تاروں کے تن جانے کے درمیانی عرصے میں کیا کچھ پوشیدہ ہے۔ کتنے چہرے۔ کتنے ہاتھ؟ گلشن کی اس ویرانی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ شعر پڑھنے کے بعد ہم ماجد صدیقی سے تخریبی عمل کی تفصیل معلوم نہیں کرنا چاہتے۔ اس نے ایک مفہوم پھول کی شکل میں ہمارے لئے سجا دیا ہے۔ جسے دیکھ کر ہم آگہی کے بیکراں سمندر میں اتر جاتے ہیں۔۔۔ حرکت کے پیچھے محرکات کی موجودگی کا علم شاعر کے سوہان روح بھی ہے اور عرفان ذات بھی۔

کیا کہوں ان کی نظر بھی تو مرے رخت پہ تھی

تھے بھنور سے جو مری جان بچانے آئے

ایک ذرا سی چنگاری نے

سارا جنگل پھونک دیا ہے

علم خود بھی کسی حد تک انسانی پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ ہماری پریشانیوں کے سوتے یا تو ہماری پرانی تلخ یادوں سے پھوٹتے ہیں یا آنے والے خطرات کے تصور سے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلمند روتا اور کم عقل ہنستا ہے۔ ماجد صدیقی ماضی و حال کے اسی عرفان کی چوب سبز پر مصلوب ہے۔

اس نے گرمئ رخسار حیات کو اپنے گالوں پر محسوس کیا ہے۔ اور اس کا ہر تجربہ کلام موزوں کی شکل میں اس کے قلم کی نوک سے کاغذ کی سطح پر چھم سے اترا ہے۔ جو بیک وقت آنسو بھی ہے۔ اور پیش بہا موتی بھی۔ اکثر شعراء کے اشعار گاتے اور گنگناتے ہیں مگر ماجد صدیقی کی غزل کے اشعار سوچتے اور باتیں کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

کورا کاغذ سوچ رہا ہے

اس پر کیا لکھا جانا ہے

شعری ادب میں یہ جان لینا کوئی اتنا بڑا کمال نہیں کہ کون کس سے کتنی مشابہت رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے۔ کہ کون اپنے خدوخال میں دوسروں سے کتنا مختلف ہے۔ کیونکہ یہی اختلاف وہ Demonہے۔ جسے ادبی دنیا میں حقیقی معنوں میں شخصیت یا انفرادیت کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر اس کام کے لئے نقاد کو اپنی عصبیتوں کے مدار سے ذرا ہٹ کر سوچنا ہوتا ہے۔ جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

ماجد صدیقی کی غزل میں صحت مند روایت کا جاندار تاثر اور جدید رجحانات کا عرفان ملتا ہے۔ اس نے نئے تجربات بھی کئے ہیں۔ اور پرانے خاکوں میں اپنی شاعرانہ طبیعت کے رنگ بھی سجائے ہیں۔ ماجد نے غزل کو کلام کرنا سکھایا ہے۔ مگر جذباتی پھلجڑیوں  اور معمّوں کے اثر سے پاک رکھا ہے۔

لٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی

محنت میں بھی کیا رکھا ہے

محاکات اور تخیل اچھے شعر کے بنیادی عناصر ہیں۔ ماجد صدیقی نے اپنے مطالب کے پُر تاثیر ابلاغ کے لئے محاکات اور تخیل سے بڑی احتیاط کے ساتھ کام لیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے Ultra modernرویوں کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئیں۔

اسی کی دید سے ہمیں تھے حوصلے اڑان کے

گیا جو وہ تو جانئے کہ اپنے بال و پر گئے

گرد کی چادر، زخم بریدہ شاخوں کے

موسم نے کیا برگ دئے کیا بار مجھے

ماجد صدیقی کی غزل میں روح اور جسم کے وہ تمام گھاؤ موجود ہیں جو جدید مشینی دور تک آتے آتے انسانی تہذیب نے کچھ پھولوں اور کچھ کانٹوں کی شکل میں چنے ہیں۔ ماجد صدیقی نے غزل کے آئینے میں نئی منزلوں کی نشاندہی کی ہے۔ اور جدید معاشرے کے انگنت Hidden Ulcers کو بے نقاب کیا ہے۔

پرندہ ہانپتے اترا تھا جس پر

وہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے

رقم جو شیشے پہ بس کے چڑیا ہوئی کسی نے

کب اس کے بچوں کا عالم انتظار دیکھا

Advertisements