(صورت احوال آنکہ کا دیباچہ)

ماجد صدیقی سے میرا قلم کا رشتہ تو بعد کا ہے، اس سے پہلا تعلق یہ ہے کہ وہ میرا ’’گرائیں‘‘ ہے اور اب کہ اس نے مجھے اپنی نئی تصنیف۔۔۔ صورت احوال آنکہ۔۔۔ کے سلسلے میں اپنا گواہ ٹھہرایا ہے تو اس سے غالباً میرا تیسرا ناتا بنتا دکھائی دیتا ہے کہ اس کی نثر کی پیشانی پر بھی طنز و مزاح کا عنوان ہے جو یار لوگوں نے میرے ماتھے پر بھی بہ زور جڑ دیا ہے ماجد ادب کا شیدائی ہے اور اس حیثیت سے اس کی نظر اپنے زمانے اور سر زمین کی حدود پر رہتی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ آگے۔۔۔ کتاب ہذا میں ہر چند کہ اس نے بڑے سادہ واقعات کو ایک بہت بڑے جیتے جاگتے عالم کا دریچہ بنا دیا ہے۔ یہ تحریر کوئی بحر بیکراں نہیں، شاید ذرا سی آبجو ہے، لیکن اہل ذوق کو اس کے قطروں میں کئی دجلے نظر آئیں گے۔ نفس مضمون کے علاوہ لطف زبان پر ماجد نے جس انداز سے اپنے آپ کو صرف کیا ہے۔ اس سے اس کی نظر۔۔۔ اپنے دیہاتی پس منظر کی وجہ سے۔۔۔ اس حسن تک جا پہنچی ہے جسے ایسی جگہوں کے خود فنکار، لے سے لے کر رنگ، اور رنگ سے لے کر مرئی فن پاروں تک میں سمو دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب اگرچہ اردو میں لکھی گئی ہے تاہم اس کے مواد اور محاورے کا پنجابی ذائقہ قاری کو ایک ٹانک (Tonic)کے طور پر محسوس ہوتا ہے۔ امید ہے اس ٹانک کو ’’اہل زبان‘‘ بھی نافع پائیں گے۔

ماجد صدیقی بنیادی طور پر شاعر ہے اور آگے چل کر اس کے زیادہ چرچے بحیثیت شاعر ہی ہوا کریں گے۔ شاعر ماجد نے اپنے مستقبل کے محقق کی کئی مشکلیں آسان کر دی ہیں کہ بقلم خود اپنے حالات کا ایک اشاریہ پیش کر دیا ہے۔ سو بسم اللہ کیجئے اور ماجد صدیقی کی اس خانہ ساز سے بقدر شوق اپنے فکر و ادراک کو لذت آشنا کیجئے۔

راولپنڈی۔ 13دسمبر 77ء