تصنیفات کی تعداد کے سلسلے میں لگتا ہے کہ ہمارے دوست پروفیسر ماجد صدیقی بہت جلد ہمارے مخدوم جناب عبد العزیز خالد سے اگے نکل جائیں گے۔ خالد صاحب چالیس برس میں تیس کتابوں تک پہنچے ہیں۔ مگر ماجد صدیقی بیس برس میں اپنی کتابوں کی ’’سلور جوبلی‘‘ منا چکے ہیں اور ماشاء اللہ ابھی دو تین تصانیف ان کی آستین میں بھی موجود ہیں اب تک کا گوشوارہ یہ ہے۔ کہ آٹھ اردو نظموں اور غزلوں کے مجموعے چھپ چکے ہیں۔ تین منظوم اردو ترجمے ہیں اور چار منظوم پنجابی ترجمے ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے عنوان سے عہد شباب کی آپ بیتی سے بھی فارغ ہو چکے ہیں۔ شعری مجموعوں میں اردو اور پنجابی کے مجموعے برابر چل رہے ہیں۔ پنجابی کا قدم ذرا آگے نظر آتا ہے مگر اردو اور پنجابی کو وہ تقریباً ایک ہی نظر سے نواز رہے ہیں۔ ایک کتاب اگر پنجابی کی آتی ہے تو دوسری ضرور اردو میں ڈھلتی ہے مثلاً ان کی تازہ شعری کتاب ’’سخناب‘‘ کی اشاعت کے ساتھ اردو اور پنجابی مجموعوں کی تعداد برابر ہو گئی ہے۔

یہ رفتار جہاں تعداد کے اعتبار سے حیرت انگیز ہے وہاں معیار سخن کے لحاظ سے بھی لائق تحسین ہے صرف یہی نہیں کہ ماجد صدیقی تھکنا نہیں جانتا بلکہ وہ برابر اگے بڑھ رہا ہے اس کا ہر مجموعہ نئی زمینوں اور نئے آسمانوں کی بشارت دے رہا ہے وہ اپنے لہجے میں بات کرتا ہے اس کے ہاں احتجاج کی آواز سچی، بے باکانہ اور طاقت ور ہے۔ اس بات کا اندازہ کرنے کے لئے کہ جدید غزل کلاسیکی جرنیلی سڑک سے ہٹ کر پہاڑوں اور جنگلوں کی نئی نئی پگ ڈنڈیوں، دیہات کے کھلیانوں اور شہر کے گلی کوچوں میں کتنی دور نکل گئی ہے ماجد صدیقی کی غزل کا مطالعہ ضروری ہے۔ کرنل غلام سرور نے اپنے تقریظیٰ شزرے میں ماجد کے بارے میں نہایت درست لکھا ہے کہ ’’اس سفر میں جس قدر اس کا انداز بیان نکھرتا جا رہا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ اس کی غزل کی معنوی پرتیں گہری سے گہری ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ اس کا سارا کلام دھڑکنوں کی زبان پر مشتمل ہے۔‘‘

لیجئے دھڑکنوں کی اس زبان کے چند نمونے بھی ملاحظہ کیجئے۔

نہ جانے جرم تھا کیا جس کی یہ سزا دی ہے

کہ میری جان مرے جسم میں جلادی ہے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا

تمام عمر اسی آس پر بِتا دی ہے

ڈرتا ہے کہ اس پر کوئی الزام نہ آئے

وہ شخص جسے اب بھی مرا نام نہ آئے

منفی ہے پر اس کی بھی اک دنیا ہے

وہ جو نظر میں اہل نظر کی پاگل ہے

شیر انہیں بھی ہے چاٹنے نکلا

میرے خوں سے بنے جو نقش و نگار

لگتا ہے پرندوں سا بکھرا ہوا رزق اپنا

بیٹھوں بھی تو پیروں کو مصروف سفر دیکھوں

ہر سفر ہے اب تو، ہجرت کا سفر

تھے کبھی اس شہر میں انصار ہم

ترستا ہے کسی دست طلب کو

گلاب اک باڑھ سے نت جھانکتا ہے

1984ء

Advertisements