ماجد صدیقی ایک نہایت خطرناک شاعر ہیں۔ ’’خطرناک‘‘ اس لئے کہ وہ اردو اور پنجابی اور جانے کون کون سی زبان میں شاعری کرتے ہیں۔ ’’نہایت‘‘ اس لئے کہ وہ شاعری کے علاوہ بھی بہت کچھ کرتے ہیں۔ بہت کچھ، میں میرا اشارہ ان کی سماجی مصروفیات کی طرف نہیں بلکہ ثقافتی کاروبار سے ہے۔ کاروبار میں مشاعرے کروانا، ادبی نشستیں منعقد کرنے کے لئے عوام کو اکسانا۔ شاعروں سے ان کی گمشدہ اور ادھر اُدھر کھوئی ہوئی نظمیں تلاش کروانا اور پھر انہیں کتابی صورت میں شائع کروانے پر اکسانا اور اس نوع کے دیگر کام شامل ہیں۔

’’دیگر کام‘‘ میں ایک نہایت خوبصورت شاعری کرنے والے کا قومی نظمیں لکھنا شامل ہے۔ اور یہ کتاب جس کے خلاف میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، میرے دعووں کے آخری دعوے کی دلیل ہے۔

ماجد صدیقی کی ان نظموں کے بارے میں مجھے جناب فیض احمد فیض کی رائے سے پورا پورا اتفاق ہے۔ اور میری دعا ہے کہ یہ ’’نہایت خطرناک شاعر‘‘ سالوں کے سفید چکر اور موسموں کے تغیر و تبدل سے ماورا ہو کر اسی طرح ادب کی خدمت کرتا رہے۔ادب جو زندگی کا آئینہ ہوتا ہے

افضل احسن رندھاوا

اسلام آباد، 17اپریل، 1957ء

Advertisements