محنت دیانت اور تلاش کو یکجا کرنے سے اس ترتیب کا جو مظہر سامنے آتا ہے اسے بلا تامل ماجد صدیقی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ماجد صدیقی ایک بہت اچھا استاد ہے۔ لیکن میں نے اسے ہمیشہ ایک اچھا طالب علم دیکھا ہے۔ وسائل کامیابی کی بہت بڑی ضمانت ہوتے ہیں مگر وسائل کی پرواہ کئے بغیر کوئی کامیابی کی زمم تھام لے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ اگر یہ معجزہ ہے تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ ماجد صدیقی نے ایسے کئی معجزے کر دکھائے ہیں۔

جہاں تک ماجد صدیقی کی فنی حیثیت کا تعلق ہے ادب و شاعری میں اس کا طریق منفرد بھی ہے اور والہانہ بھی۔ اس کی فکر ہر نئی سانس کے ساتھ ایک نیا چولا بدلتی ہے جس سے تھکن یا د درماندگی کسی مقام پر اس کے قدموں کو چھو تک نہیں جاتی۔ نظم ہو یا نثر سنجیدہ موضوع ہو یا طنز و مزاح شعبہ فن میں ماجد صدیقی کا اخلاص نظر بابر جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

جو اہل قلم کسی ’’لابی‘‘ کے بغیر دنیائے ادب میں بے تکان آگے بڑھتے نظر آتے ہیں اگر ماجد صدیقی کو ان کا سرخیل کہا جائے تو یقیناً غلط نہ ہو گا۔ اسے اپنی ذات پر اتنا بھروسہ ہے کہ اس نے جب اور جو بھی بننا چاہا، بن گیا شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار، قطعہ نگار غرض مقالات ہوں یا خاکے سنجیدہ موضوعات ہوں یا طنز یہ مضامین ان سب کی تحریر و تخلیق پر وہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے قادر ہو گیا اس طرح کے سینیئر ہونے کے باوجود اپنے بارے میں میں اس کی ہر رائے کا بے حد احترام کرتا ہوں۔

ماجد صدیقی نے تعلیم و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ جس سے ثابت ہے کہ وہ ایک ایسا چراغ ہے جو اپنی روشنی کو کسی ایک طبقے کے لئے خاص یا مقید نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔ پروفیسر ماجد صدیقی ایک اچھا اور قابل لحاظ استاد اور مصنف ہی نہیں کامیاب پبلشر بھی ہے وہ آواز کی دنیا میں ایک معیاری براڈ کاسٹر کی حیثیت سے بھی جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس نے چاہا اور خود کو بے گھری تک کے چنگل سے آزاد کرا لیا اور آج وہ اپنے خوبصورت بنگلے میں سلیقہ شعار بیوی اور سعادت مند بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کر رہا ہے۔

پروفیسر ماجد صدیقی کی بے شمار خوبصورت اور خوب سیرت تصانیف میرے سرہانے پڑی ہیں۔ اور ان سب کے حق میں۔۔۔ اظہار رائے مجھ پر قرض چلا آ رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ماجد صدیقی کا پھیلاؤ اتنا ہے کہ وہ میری بوڑھی بانہوں کی گرفت میں نہیں آ رہا۔ بہر حال وہ ایک سچا فنکار ایک بے لاگ اہل قلم اور ایک محب وطن پاکستانی دانشور ہے اور یہ بات کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

Advertisements