(صورت احوال آنکہ کا دیباچہ)

ماجد صدیقی اردو اور پنجابی کے جانے پہچانے شاعر ہیں جن کا اپنا مخصوص انداز فکر ہے ان کی اردو شاعری کے جو مجموعے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان میں ’’آغاز‘‘ دنیائے غزل میں ان کی جداگانہ اور تازہ آواز کا مظہر ہے جب کہ ’’شاد باد منزل مراد‘‘ میں اس نوجوان شاعر نے نہایت ہی اہم اور قومی نوعیت کے بحرانی مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔

اب ماجد صدیقی اپنے قارئین کو ایک نثری کاوش ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے روپ میں دے رہے ہیں۔ جس کا مواد اگرچہ مصنف کی ابتدائی زندگی کے ایک خاص حصے کے واقعات ہیں لیکن اس تصنیف کو آسانی سے محض سوانح عمری بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کتاب کے اوّل سے آخر تک اگرچہ ابو اب کا باہمی ربط واقعات کی ڈوری سے قائم ہے لیکن اسے ماجد کے شگفتہ اور توانا انداز کا کرشمہ کہئے یا اس کے شاعرانہ احساس کا ترفع۔ کہ کتاب مزاحیہ نثر میں لکھی جانے کے باوجود ذرا ہٹ کر دیکھنے پر مزاجاً ایک ایسی متنوع نظم نظر آتی ہے۔ جس کا کوئی جملہ بلکہ لفظ اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔

15 اگست 1977 ء