معاصر دنیا بڑی پیچیدہ اور تیز رفتار تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ فکری فلسفیانہ اور عملی بنیادوں پر حرکت و تغیر اور ارتقا کی رفتار ہوش رہا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ شاعری ہمیشہ سے تہذیب کے ارتقائی سفر اور ارتقائی مدو جزر کی سب سے قابل اعتماد داستان رہی ہے اور انسانی محسوسات کی تاریخ مرتب کرنے میں پیش پیش ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ شاعر کی ایک آنکھ باہر کی طرف اور دوسری اس کے داخل پر مرکوز ہوتی ہے اور یہ کہ ہر شاعری کا اپنا اپنا ڈزنی لینڈ ہوتا ہے۔ یہی صورت ماجد صدیقی کی بھی ہے۔ اس کی شعری کائنات میں بھی بہت سی جہتیں سمتیں اور ابعاد دریافت کئے جا سکتے ہیں۔ مگر مجھے اس وقت ماجد صدیقی کی شاعری میں فکر جدید کے خدوخال اور زاویوں کو کسی قدر اختصار سے اجاگر کرنا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے ہ مجھے ان کی شاعری کا ایک وقیع حصہ جدید فکریات کے گھنے اور گہرے مشاہدات کا منظر نامہ تشکیل دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شاعری اپنا ایک مخصوص جغرافیہ رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں وہ تمام تر گمبھیرتا موجود ہے جسے آشوب عصر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں ماورائیت سے زیادہ ارضیت ہے۔ ایک ایسی ارضیت اور مقامیت جس میں آفاقیت کے گہرے نقوش گھلے ہوئے ہیں ان کا شعر محض عارض و کاکل کی سرحدوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ سلگتے ہوئے انسانی مسائل کا برجستہ اور بے ساختہ اظہار ہے۔ ان کی شاعری فکر امروز و فردا سے عبارت ہے۔ اور محسوسات سے معنویت کی جانب ایک پُر عزم سفر کی عمدہ اور خوبصورت مثال ناقص غذاؤں آلودہ فضاؤں جعلی دواؤں اور بے خلوص دعاؤں کی رداؤں میں ملبوس ہماری معاشرت نے گلوں سے مہک اور تتلیوں سے رنگ چھین لئے ہیں۔ کتنی ہی نادیدہ آستینوں سے جھانکتے ہوئے خنجر ہماری سیاسی اور معاش آزادیوں کی گھات میں ہیں۔ ایک طویل عرصے سے ہم ایک مخصوص سیاسی کلچر کی بند گلیوں میں ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں۔ ہمیں اتنے قومی اور تہذیبی آشوب درپیش ہیں جنہیں بیان کریں تو الفاظ تک پگھل جائیں۔ ہماری اجتماعی۔ ۔ ۔ سائیکی پر ناکام اور تشنہ لب آرزوؤں کے گہرے اور لاعلاج گھاؤ مرتسم ہو چکے ہیں۔ اور ماجد صدیقی بھی اسی بد نصیب اور بے سمت قوم کا ایک جیتا جاگتا فرد ہے۔ اس نے اس گمبھیر المیے کی زہر ناکیوں کو اپنی تخلیقی شخصیت کی رگ رگ میں اتار لیا ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ اس المیے کو حیرت ناک حد تک اپنی شعری بوطیقا کا ناگزیر حصہ بنانے میں کامیاب بھی رہا ہے۔ عظمت آدم کی تضحیک معاشی اور سیاسی حبس بالغ النظر سیاسی قیادتوں کا فقدان۔ سو بہ سو بدعنوانیوں کے دہکتے ہوئے دوزخ سپر پاورز کے استحصالی حربے اور مجموعی قومی بے حمیتی اور بے حسی ماجد صدیقی کے بنیادی تخلیقی محرکات قرار دئے جا سکتے ہیں۔ 

بیسویں صدی اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ اور اکیسویں صدی ہماری دہلیز پر کھڑی ہے۔ لیکن تیسری دنیا کے عوام ابھی تک اپنا تشخص تک متعین نہیں کرا سکے۔ ماجد صدیقی اس منطقے کے المیے سے بھی غیر آگاہ نہیں ہے لہذا جب وہ اس خطے کے مظلوم اور مقہور عوام کی محرومیوں کا تذکرہ گا ہے طنزیہ اور گاہے استعاراتی انداز میں کرنے پر آتا ہے۔ تو اس کا قلم مصور کا موقلم بن جاتا ہے۔ 

ماجد کی شاعری کے دوسرے کچھ رنگ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ 

نہیں ہے شرط قحط آب ہی کچھ
بھنور خود عرصہ کرب و بلا ہے
جس بازار میں جاؤں دوں میں نرخ سے بالا دام
کم اپنے اوزان میں نکلیں ہر تکڑی کے باٹ
ماجد شہر میں ہر سو جیسے سب اچھا تھا
جس کو دیکھا سرکاری اخبار لگا ہے
کانوں میں پھنکار سی اک پہنچی ہے کہیں سے
چڑیوں پر پھر شاید سانپ کہیں جھپٹا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
محوِ خوابِ استراحت شہر کا والی رہے
رات بھر اندیشۂ دُزداں سے میں کھانسا کروں
میں کہ تنہائی میں تھا بے در حویلی کی طرح
بند کمرہ سا بنا بیٹھا ہوں اب احباب میں
بیٹھئے بھی تو سخن نا آشنا لوگوں کے پاس
گوش و لب گھر سے نکلتے ہی کہیں رکھ جائیے
ردی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ
لے کو بہ کو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ
ممنوع جب سے آب فرات نمو ہوا
کیا کچھ گئی ہے بیت گلستاں کی آل پر
ہر شخص رہنما ہے کسے رہنما کریں 
صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں
لاش دبانے میں تو رہے محتاط بہت
رہزن آلہ قتل اٹھانا بھول گئے
Advertisements