ہم غیر محسوس طریقے سے عجز اظہار کے سلسلے میں ایک مختصر سا جملہ کہہ کر اپنی بے مائیگی کا اعتراف کر لیتے ہیں کہ صاحب ’’میں جو کچھ محسوس کرتا ہوں اسے الفاظ کے توسط سے بیان نہیں کر سکتا‘‘ اگرچہ آداب گفتگو میں یہ روایت بہت پرانی ہو چکی ہے لیکن یہ صرف رسمی کلمات ہی نہیں ہیں بلکہ ایسا ہونا نا گزیر ہے اور ایسا واقعی ہوتا بھی ہے اظہار کے سفر میں لفظوں کے سلسلے نہایت محدود اور مسدود ہیں۔ وہ زبانیں بھی جو صدیوں سے معروف ہیں اور ارتقا کا طویل عرصہ گذار چکی ہیں انسان کی وضاحتوں میں بے دست و پا نظر آتی ہیں۔ اس سائنسی دور میں اس مجبوری کا اعتراف مسلسل کیا جاتا رہا ہے کہ انسان جو کچھ محسوس کرتا ہے اس کا عشر عشیر بھی الفاظ کے توسط سے نہیں کہہ پاتا۔ وہ اضطراب کے معنی تو جانتا ہے مگر اس کی تفسیر اور تفصیل سے قاصر ہے وہ اپنے رگ و بے میں سرایت کرتے ہوئے خوف اور سراسیمگی کو ہمہ وقت محسوس تو کرتا ہے مگر اس کیفیت کو وضاحتی تکلم نہیں دے پاتا۔ انسان کے جسم پر تمام اعضا کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے ان کے افعال و اعمال بالکل واضح ہوتے ہیں مگر وہ محرکات جن کا تعلق گوشت پوست کی تجسیمی صورت سے نہیں ہوتا یا وہ تہ در تہ محروم وضاحت خواہش حسرتیں اور ملامتیں جو لب گفتار کی گرفت سے ماورا ہیں سمجھنے یا کم از کم معرض بحث میں لانے کے لئے شعور، لاشعور اور تحت الشعور کی اصطلاحیں وضع کر لی گئی ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ انسانی ضمائران محصور و پابند احساسات کو جو ناقابل فہم اور ناقابل بیان قرار دیئے جا سکتے ہیں مسلسل سوچتے رہنے یا خواب کی صورت میں مکمل کرنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ انسان اپنی شعوری کیفیت کے اظہار کے لئے مروجہ زبانوں کے ذریعے وضاحت کے کچھ نہ کچھ امکانات تو مہیا کر لیتا ہے مگر شخصیت کا مکمل اظہار کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے۔ 

لبوں کے افق پر دمکتا ہوا کوئی سورج اگاؤ
رگوں میں مچلتی تمازت کبھی تو زباں پر بھی لاؤ
ہواؤں میں اپنی مہک کب تلک یوں بکھرنے نہ دو گے
حجاب اس طرح کے ہیں جتنے بھی وہ درمیاں سے ہٹاؤ

بالمشافہ گفتگو کے لئے تو لفظوں کے ساتھ چہرے کے تاثرات چشم و ابرو کی جنبشیں، لہجے کی ساخت اور ہاتھوں کے زاویئے متکلم کی داخلی وضاحت میں کسی حد تک ممدو معاون ہو سکتے ہیں اور وہ بایں طریق اپنی داخلی کیفیات نسبتاً قدرے بہتر انداز میں اپنے سامعین تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے مگر جب اظہار کے ذرائع صرف قرطاس و قلم تک محدود ہو جائیں تو دستیاب ذخیرۂ الفاظ بمشکل ابلاغ کا مسئلہ حل کر پاتا ہے۔ 

بہت سینچ بیٹھے ہو ماجد غزل کو نم درد جاں سے
اگر ہو سکے تو ذرا اس میں من کے تقاضے بھی لاؤ

حسرت اظہار کا المیہ دوران خون کو کانٹوں سے بھرتا رہتا ہے اور یہ کانٹے لمحہ بہ لمحہ دل کو چھو کر گذرتے رہتے ہیں اس کربناک کیفیت میں لب بار بار کھلتے ہیں جیسے کوئی پیاس سے جاں بہ لب پرندہ متواتر منہ کھولتا ہے اور بند کرتا ہے لیکن بے صدا، بے نوا

یہ بھید وسعت صحرا میں ہم پہ جا کہ کھلا
کہ شہر درد میں ہم بے زباں کیا کیا تھے

انسان بھی اپنے وجود کی بے کرانی کے حوالے سے ایک ایسی کائنات ہے جس کی پہنائیوں میں بے شمار جہتیں ابھی شرمندہ دریافت نہیں ہو سکتیں۔ بے شمار خیالات ہیں جن کی معنوی تجسیم کے لئے موزوں اور مناسب الفاظ دریافت نہیں ہو سکے اگر کچھ الفاظ موزوں دستیاب ہو بھی جائیں تو نزاکت احساس اس پیراہن کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ 

کبھی اشکوں، کبھی حرفوں میں از خود ڈھلنے لگتے ہیں 
لئے پھرتی ہے ماجد آبلے، اپنی زباں کیا کیا

اور یہی حرفوں میں ڈھلتے ہوئے آبلے لفظوں اور پھر بتدریج جملوں کو ترتیب دیتے رہتے ہیں اور کلام و گفتار کی راہیں کشادہ ہوتی رہتی ہیں۔ ویسے بھی اگر زندگی کے متعدد شعبوں کے ارتقائی عمل کو انسانی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تدریجی مراحل میں زبان کے ارتقاء کو اولیت حاصل رہی ہے اور پھر کہیں دوسرے شعبہ ہائے زیست کی ارتقاء کے دورا ہوئے ہیں یوں کہا جاوے تو مناسب ہو گا کہ لسانیات کا علم وہ سائنس ہے جس پر زندگی کی ہمہ جہت ترقی کا انحصار ہ نئے لفظوں کی جستجو درحقیقت تشنگیٔ اظہار کو کم سے کم کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے جو تہذیب و تمدن کے آغاز سے تا ہنوز جاری ہے۔ 

بہرحال یہ تو ایک تمہیدی گفتگو تھی جو اس لئے بھی ناگزیر تھی کہ ماجد صدیقی کے مجموعے ’’غزل سرا‘‘ میں زبان کو وسعت دینے کی وہ شعوری کوشش جس نے ان کے لئے وضاحتی مواقع فراہم کئے بدرجہ اتم کارفرما نظر آتی ہے استعداد گفتگو میں توسیع کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف نئے لفظ ایجاد کئے جائیں بلکہ زبان کے استعمال کی مروجہ تکنیک میں قدرے تبدیلی بھی بہتر نتائج مرتب کر سکتی ہے اور یہ کوشش ماجد صدیقی کے یہاں نقطۂ عروج پر نظر آتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کاوش ابتداء میں ادبی حلقوں سے تائید مزید حاصل نہیں کر پاتی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ نہ صرف اسے گوارا کر لیتے ہیں بلکہ خود بھی اس انداز کو ذریعۂ اظہار بنا لیتے ہیں جب ہم غالب کو ان کے ہم عصر شعراء کے ہجوم میں دیکھتے ہیں تو وہ بھی ناوک ہائے نیم کش سے مضطرب دکھائی دیتے ہیں لیکن کچھ عرصے کے بعد معترضین بھی بزبان غالب اعتراف پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

فی الحال میرا مدعا مجموعی کلام پر اظہار خیال نہیں ہے۔ میں ماجد صدیقی کے محاکاتی اشعار پر اپنی علمی استعداد کے مطابق گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ دریدہ حال و شکستہ دل لوگوں کے درمیان زندگی گذارتا ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہماری ادبی سمت کا تعین کیا ہے۔ 

علی الاعلان حق میں بولتا ہے جونحیفوں کے
اسے مردود کہیئے شہر میں وہ معتبر کب ہے

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے اب تک جو معاشی، سیاسی اور معاشرتی صورت حال اور کیفیت نمایاں رہی ہے اور جو مسائل ایک عام آدمی کو درپیش رہے ہیں وہی ہماری عصری شاعری کے موضوعات ہیں مگر پابندی گفتار نے اہل دانش کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر آمادہ رکھا تاہم اس مجبوری نے اظہار کے نت نئے طریقے بھی وضع کئے اور شاعری کے حسن میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا۔ 

ملا ہے فیضان یہ خداؤں کی برتری کا
کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا
یہاں ہے جو بھی شہ وقت سوچتا ہے یہی
نہیں ہے اس کا تہ آسماں کوئی ثانی
ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے، کہ
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹھکا ہے

ان دو مصرعوں کے پسِ منظر میں جبرِ مسلسل کی وہ طویل داستان ہے جس کا میں نے مندرجہ بالا سطور میں تذکرہ کیا ہے بقول ظہیر رام پوری مرحوم۔ 

پہرے ہیں خیالات پہ تالے ہیں لبوں پر
کہنے کو مرے پاؤں میں زنجیر نہیں ہے

ایک ایسا شخص جس کا شعر و ادب کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا پتھر کو پتھر، پھول کو پھول اور خار کو صرف خار ہی سمجھتا ہے، وہ اشیا کے تمثیلی پہلو اور لفظوں کے استعاراتی مفہوم سے کوئی فکری رابطہ نہیں رکھتا اس کے برعکس الفاظ کو ان کے تمثیلی مفاہیم دینا ایک شاعر کے لئے ہمیشہ ناگزیر رہا ہے وہ اپنی اس گفتگو کو جو اپنی اصل ہیئت میں غیر مؤثر بھی ہو سکتی ہے استعاراتی انداز میں انتہائی موثر بنا کر پیش کرتا ہے۔ 

ٹہنی عاق کرے خود اس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے

سقوط مشرقی پاکستان کے سلسلے میں محرک عوامل جن کا تعلق وفاق پاکستان کے منفی رویوں کے ردِّ عمل سے تھا کتنی تفصیل کے ساتھ محسوس کرائے گئے ہیں۔ 

کہنے کی ہیں باتیں ساری
زخم رگ جاں کب بھرتا ہے

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس سانحے کا اثر زائل کر چکے ہیں یا ہم نے جبر و کرب کی کیفیت کو صبر و شکر کے ساتھ قبول کر لیا ہے مگر پاکستان کے دو لخت ہونے کا عبرتناک واقعہ ہمارے مستقبل کے سینے پر رستا ہوا وہ ناسور ہے جس کا بہتا ہوا مواد کبھی ہماری اجتماعی اور قومی زندگی کو صحت مندی کے تاثر سے بہرہ مند نہیں ہونے دیگا۔ 

کہا تو یہی جاتا رہا ہے کہ ہم جمہوریت پسند ہیں، آزادی اظہار ہمارا مسلک ہے، انسانی مساوات و اخوت اور اعلیٰ انسانی اقدار کی تبلیغ و تشہیر ہمارا نصب العین ہے مگر تاریخی شواہد اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بات کرنا کل بھی مشکل تھا اور آج بھی محال ہے۔ یہی وہ صورت حال تھی اور ہنوز ہے جس نے ہمارے شعرا کو علامتوں، استعاروں اور تلمیحات کے استعمال کی ترغیب دی، اس کے باوجود کہ حالات آج بھی نامساعد ہیں اور اصلاح احوال کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی پھر بھی ہمارے شعری ادب میں رجائیت کا عنصر نمایاں ہے۔ ماجد صدیقی کی مجموعی شاعری میں اگرچہ رثائیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے تاہم وہ مایوس نہیں ہیں۔ ان کے کلام میں حوصلہ بھی ہے امید بھی ہے اور متحارب حالت سے مردانہ وار مقابلے کی جرأت بھی:

وقت کے جلترنگ سے نہ ڈرو
اس کو یہ ساز اب بجانے دو
جن پہ سورج کبھی نہیں ابھرا
وہ افق اب کے جگمگانے دو

وہ خوشگوار اور امید افزا قیاسات کو بھی اپنی جگہ اہم سمجھتے ہیں :

یہ اعادہ ہی بچپنے کا سہی
کچھ گھروندے مگر بنانے دو

میں نے پہلی بھی سلسلۂ گفتگو میں عرض کیا تھا اور ایک بار مزید عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے مسائل کسی محدود عرصے کے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ ان کی پرورش اور پرداخت مسلسل بیالیس برسوں میں ہوتی رہی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے پس منظر میں ایسے کردار واضح طور پر نظر آتے ہیں جو عہدِ برطانیہ میں بھی مراعات یافتہ تھے اور آزادی کے بعد بھی ان کی بالا دستی قائم رہی، طاقت ان کے زیر نگیں رہی جو صرف اپنا تحفظ چاہتے تھے، جاگیر داری، سرمایہ داری اور مفاد پرستی کو مسلسل تقویت ملتی رہی، جمہوریت کی داغ بیل ڈالنے کی بجائے اس مراعات یافتہ طبقے نے ملوکیت سے مشابہ نظام کو پروان چڑھایا۔ ایسی صورت حال میں جو ادب بھی تخلیق ہوا اس پر محرومی اور مدافعتی انداز کا غلبہ رہا۔ ماجد صدیقی بھی اسی پر آشوب دور کا شاعر ہے اور اس کا بیشتر کلام اسی کربناک احساس کا مظہر ہے اس کی غزلوں میں متاسفانہ کیفیت کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے مگر قوی امید اور بہتری کی توقع کے ساتھ۔ ۔ ۔ ملاحظہ فرمائیے:

تندیٔ باد وہی، گرد کی یلغار وہی
موسم گل میں بھی پت جھڑ کے ہیں آثار وہی
عدل کے نام پہ ہم سے تھی جو نُچوائی گئی
فرقِ نا اہل پہ اب کے بھی ہے دستار وہی

تندیٔ باد، گرد کی یلغار، پت جھڑ، عدل کے نام پہ اور فرق نااہل ایسے وقیع استعارے ہیں جن کے پس منظر میں ایسی تلخ حقیقتیں مخفی ہیں جو خوابوں کے شرمندۂ تعبیر نہ ہونے سے ہویدا ہوئی ہیں اور جنہیں ادب کے قاری داستان در داستان محسوس کر سکتے ہیں اسی غزل کے دو شعراء ملاحظہ فرمائیے:

اب بھی اِک حد سے پرے شوق کے پر جلتے ہیں
عجزِ سائل ہے وہی شوکتِ دربار وہی
اب بھی چہروں سے غمِ دل نہیں کُھلتا ماجد
اب بھی پندار کو ہے کلفتِ اظہار وہی

آپ نظریاتی عصبیت کے زیر اثر کسی بھی وقت کو جبر و استبداد کے عرصے سے موسوم کر سکتے ہیں مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک خداداد میں روزِ اول سے تاہنوز زبانی بات کرنے کو ترستی رہی ہیں۔ اس کیفیت کو ماجد صدیقی سے سنئے:

خموشیاں ہیں، سیہ پوشیاں ہیں ہر جانب
بہار ہے کہ یہ عشرہ ہے کوئی، ماتم کا

تہذیب و تمدن کے آغاز سے تا امروز اگر آپ تاریخ کی صداقتوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو ہر دور کی تاریخ کے ساتھ اس وقت کے عصری ادب اور بالخصوص شعری دستاویز کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ اس طرح آپ پر واضح ہو جائے گا کہ تاریخیں لکھی نہیں گئیں لکھوائی گئی ہیں۔ ہر دور کے جابروں، آمروں اور مطلق العنان بادشاہوں نے مؤرخین کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان کے عرصۂ اقتدار کو سنہرا دور قرار دیں، غالباً اسی وجہ سے صعوبت خانوں اور صلیب و دار کے واقعات پر تو سرسری گفتگو کی گئی ہے مگر سخاوتِ شاہی کے فرضی قصائص بڑی تفصیل کے ساتھ مرقوم ہیں اس کے برعکس ادبی لوگ منافقانہ روئیے سے زیادہ تر محفوظ رہے ہیں، شاعروں کی بڑی تعداد نے کسی دور میں بھی اس روش کو شعار نہیں بنایا شاید اس لئے کہ ’’شاعری سچ بولتی ہے‘‘ بہرحال حق گوئی کے جان لیوا مرحلوں سے گزرنا ہر کسی کے لئے ممکن نہیں بھی ہے۔ اناالحق سوچنا بہت آسان ہے مگر اناالحق کہنا بہت مشکل ہے دریا کی پوری توانائی کے مقابلے میں صداقت کی ایک موج کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے یہ ماجد صدیقی سے پوچھئے:

دیکھنا ماجد دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
بارش سنگ سے دوچار تھا انسان کل بھی
کم نہیں آج بھی زندوں کو جلانے والے
دیکھ کے چابک راکب کا چل پڑنے سے
مرکب میں کب تاب کہ وہ انکار کرے

شاعر یا ادیب صرف مفہوم پسند ہی نہیں ہوتا بلکہ نُدرتِ کلام، صحتِ لفط و معنی، تاثیر نغمگی اور سلیقہ اظہار کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ جدید ادب کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ قدیم روایات سے رشتہ منقطع کر لیا جائے روایات کو نئے زاویہ ہائے فکر و نظر کے دوش بدوش آگے بڑھانے کی مثبت کاوشوں کو بھی ’’جدت‘‘ سے موسوم کیا جا سکتا ہے ماجد صدیقی کی فکری کاوشوں میں یہ سعی بلیغ نہایت حسن و اہتمام کے ساتھ پائی جاتی ہے ان کی شاعری میں نہ تو روایات سے انحراف ہے نہ جدت سے گریز۔ ان کی تخلیقات میں قدیم اسلوب کا رچاؤ بھی ہے اور وقت کے اہم تقاضوں کا شعور بھی۔ 

یار کے قرب کی تاثیر لئے پھرتے ہیں 
ابکے جھونکے نئی زنجیر لئے پھرتے ہیں
گل، صبا، ابر، شفق، چاند، ستارے، کرنیں
سب اُسی جسم کی تفسیر لیے پھرتے ہیں
سر کہیں اور جھکنے لگا ہے
پھر بھی خاموش میرا خدا ہے
گرد ہے نامرادی کی پیہم
اور ادھر میرا دست دعا ہے

ذرا غور فرمائیے کہ اگر کوئی شخص سر رہگزر لوگوں کی موجودگی سے بے نیاز، خود کلامی کے انداز میں اپنے مسائل پر گفتگو کرتا نظر آ جائے تو آپ کا تاثر اس کے متعلق کیا ہو گا؟ یہی نا کہ وہ کوئی انتہائی ستم رسیدہ انسان ہے جس کو مسائل کے شدائد نے نیم پاگل کر دیا ہے۔ یہی شدائد جب ایک شاعر پر گزرتے ہیں و وہ ان کا اظہار اس سلیقے اور ہنر مندی سے کرتا ہے کہ خود کلامی غزل کا روپ دھار لیتی ہے نہ صرف یہ کہ اپنے غم ہی اس کو متاثر کرتے ہیں بلکہ وہ غم جہاں کو بھی غم جاں بنا لیتا ہے، اس کا اعتراف ماجد نے بھی کیا ہے۔ 

خود کلامی سی ہے ایک، ورنہ
شاعری میں دھرا اور کیا ہے

کبھی کبھی کسی شاعر کو ’’الف‘‘ سے ’’ے‘‘ تک پڑھنے کے بعد فکری تضادات کا احساس بھی ہوتا ہے اور کہیں کہیں وہ خود اپنے کہے کی تردید کرتا بھی نظر آتا ہے آپ اس کیفیت کے بارے میں کچھ رائے رکھتے ہوں مگر اس حقیقت کا تسلیم کرنا بھی ناگزیر ہو گا کہ ہم ایک طویل عرصے سے حالات کے اس محیط میں ہیں جس میں کبھی انتہا کا ٹھہراؤ ہوتا ہے اور کبھی تلاطم خیزی کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ نہ تو ہمارے ارادے قوی رہتے ہیں اور نہ ہی عقیدوں میں پختگی باقی رہتی ہے ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم‘‘ کی سی صورتِ حال ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے بہرحال ماجد صدیقی کے کلام میں متذکرہ تضاد قطعاً نہیں ہے ان کی دسترس میں قرطاس بھی باشعور ہو جاتا ہے۔ 

کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اس پر کیا لکھا جانا ہے

آج کا سب سے اہم مسئلہ معاشرتی بدعنوانیوں کا رواج ہے، ہم لوگ باہمی تعلقات میں مخلص نہیں رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قربتوں کے باوصف ہمارے رابطے انتہائی کمزور اور یخ بستہ ہیں شاید اسی لئے ماجد کو بھی کہنا پڑا ہے کہ:

پڑے نہ زد جس پہ بات ساری مفاد کی ہے
جواز سیدھا سا ایک ہی تو ہے دشمنی کا
شریک راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
نہیں نصیب میں جب حرف کے پذیرائی
تو دل میں کرب ہے جو بھی کسی سے کیا کہنا

ماجد نے غمِ جہاں کے پہلو بہ پہلو غمِ جاناں کو بھی موضوع سخن بنایا ہے اور اس سلسلے میں ان جملہ روایتی اقدار کو برقرار رکھا ہے جو اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں۔ 

حاصل عمر ہے یہ حرف میان لب و چشم
خواہش قرب نہ باتوں میں اڑایا کیجئے
سامنا پھر نہ کسی لمحہ گستاخ سے ہو
دل میں سوئے ہوئے ارماں نہ جگایا کیجئے
وارتو حالات نے جو بھی کیا تازہ نہ تھا
دام کے زیر قدم ہونے کا اندازہ نہ تھا
کچھ نہ کچھ اس میں کرشمہ ناز کا بھی تھا ضرور
منہ کی کھانا خام فکری ہی کا خمیازہ نہ تھا

مضمون کے آخر میں مناسب ہو گا کہ میں ’’سخناب‘‘ (ماجد کے کلام کا جزوی صحیفہ جو غزل سرا میں شامل ہے) کی اس پہلی غزل کا تذکرہ کروں جو نناوے اشعار پر مشتمل ہے (خدا کے اسمائے گرامی بھی 99ہیں ممکن ہے یہ ان کی شعوری کوشش ہو) یا تو مذکورہ غزل کو ان کے مجموعی کلام کا سرچشمہ کہا جا سکتا ہے یا بہ الفاظ دیگر پوری شاعری کی تلخیص کا نام دیا جا سکتا ہے بہرحال جو بھی خیال کیا جائے موزوں ہو گا۔ میں اسی غزل کے چند شعروں پر گفتگو کا اختتام کروں گا۔ 

نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
دشت طلب میں بن کُتوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اتنا ہی قد کاٹھ ہے اس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
Advertisements