ماجد صدیقی اردو شاعری میں ایک جانا پہچانا نام ہے، ماجد نے شاعری کا آغاز نعت سے کیا اور ان کی پہلی نعت ’’عیدِ میلا النبیؐ 1953-54ء میں تعمیر‘‘ راولپنڈی میں ان دنوں چھپی تھی جب وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔ آج ماجد صدیقی بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں صرف ’’صورت احوال آنکہ‘‘ نثر میں ہے اور ماجد کے سوانحی حالات پر مشتمل ہے بقیہ تمام کتابیں آپ کی شاعری کے مجموعے ہیں۔ ماجد صدیقی نے نظم بھی لکھی ہے اور ان کی نظموں کے مجموعے تریاق، اٹھکیلیاں، یہ انسان اور شاد باد منزل مرا د کے عنوانات سے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ تمام مجموعے یکجا کر کے ’’تریاق‘‘ کے نام سے شائع کئے جا رہے ہیں لیکن ماجد صدیقی کی اصل پہچان ایک غزل گو شاعری کی حیثیت سے ہے، آپ کی خوبصورت غزلوں پر مشتمل پہلا مجموعہ 1971ء میں ’’آغاز‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ ماجد صدیقی نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی خوبصورت شاعری کی ہے، آپ کا پنجابی کا پہلا غزلوں کا مجموعہ 1964ء میں چھپا تھا۔ فیض کی غزلوں کا ایک انتخاب ماجد صدیقی نے پنجابی میں ترجمہ کیا جو ’’رات دی رات‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ماجد صدیقی کی جو تخلیقات ہیں ان کی تعداد چالیس سے زیادہ بنتی ہے۔ 1988ء میں ماجد صدیقی نے معروف اردو شاعر خاقان خاور کی نظموں کے مجموعے ’’جنگل رات‘‘ کا انگریزی ترجمہ ’’جنگل نائٹ‘‘ (Jungle Night)کے نام سے کیا ہے۔ 1975ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ماجد صدیقی کی قومی نظموں کا ایک مجموعہ ’’شاد باد منزل مراد‘‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔ ’’یہ انسان‘‘ ماجد صدیقی کی نظموں کا مجموعہ ہے اور ’’سروِ نور‘‘ نعتیہ مجموعہ ہے۔ غزلوں کے مجموعوں میں آغاز، ہوا کا تخت، تمازتیں، سخناب اور غزل سرا خوبصورت زیور طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین تک پہنچ چکے ہیں۔ غزلوں پر مشتمل یہ تمام شعری مجموعے ایک کتاب کی شکل میں ’’غزل سرا‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوئے ہیں۔ 

حال ہی میں ماجد صدیقی کی غزلوں کا ایک اور مجموعہ ’’آنگن آنگن رات‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ماجد صدیقی کے نزدیک شاعری دل کی دھڑکنوں کا شمار ہے جس کا اظہار انہوں نے اپنی نظموں اور غزلوں میں جگہ جگہ کیا ہے۔ شاعری ماجد صدیقی کو نہ صرف یہ کہ اپنی والدہ محترمہ سے ورثے میں ملی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ماں نے انہیں شاعری اپنے دودھ میں پلائی ہے۔ ماجد کی والدہ محترمہ شاعرہ تھیں اور پنجابی زبان میں خوبصورت نعتیں کہتی تھیں۔ عشقِ رسول مقبولؐ سے اس قدر سرشار تھیں کہ بچے گھر میں ریڈیو نہیں لگاتے تھے کہ حضورؐ کا اسم مبارک سن کر مرحومہ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی جس کا اثر آپ پر بہت دیر تک رہتا تھا۔ وہ دعا مانگا کرتی تھیں کہ قبر میں ان کی پہلی رات شب برات ہو اور اللہ نے ان کی یہ دعا اس طرح قبول فرمائی کہ جس روز آپ اس دنیاءِ فانی سے رخصت ہوئیں اس روز ملک بھر میں شب برات منائی جا رہی تھی۔ شاعری میں ماجد صدیقی نے میر اور غالب سے فیض حاصل کیا ہے اور جہاں جاں مسائلِ حیات کا ذکر کیا ہے میرا اور غالب کے رنگِ تعزل کی جھلک نمایاں ہو گئی ہے۔ ماجد صدیقی کے ہاں پنجابی شاعری نے ان کی اردو شاعری کو جداگانہ حیثیت دینے میں بڑی مدد دی ہے اور مسائلِ زیست تک براہ راست رسائی پنجابی کے ذریعے اردو میں وسیع تر تناظر میں آئی ہے۔ 

ماجد صدیقی فیض کے مداح ہیں، ان کی رائے میں فیض عہد ساز شاعر ہیں۔ تاہم فیض کو ایک ہی موضوع میں گرفتار رہنے کی وجہ سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔ غزل کے میدان میں ماجد صدیقی اپنے معاصرین میں سے شکیب جلالی، ناصر کاظمی، ریاض مجید اور خاقان خاور کا ذکر بڑی محبت سے کرتے ہیں۔ غزل میں ظفر اقبال کا منفرد انداز ماجد صدیقی کو بہت اچھا لگا جو عام ڈگر سے ہٹ کر تھا لیکن انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ ظفر اقبال اسے فروغ نہ دے سکے، شکیب جلالی کو غزل گو شعراء میں ماجد صدیقی ایک بالکل منفرد اور جداگانہ حیثیت کا حامل سمجھتے ہیں، ناصر کاظمی کی ملائمت کے معترف ہیں لیکن شاعری میں اختلافی موضوعات کے سبب ماجد صدیقی کے خیال میں ناصر کاظمی کی شاعری کہیں کہیں اعتراضات کا در وا کر دیتی ہے وہ ریاض مجید کو اچھا غزل گو سمجھتے ہیں ، ماجد صدیقی کا خیال ہے کہ خاقان خاور کے بڑا شاعر بننے کے امکانات بہت روشن نظر آتے ہیں جو اب تک ایک شرمیلا شرمیلا سا کھل کر سامنے نہ آنے والا شاعر ہے۔ 

ماجد صدیقی غیر متزلزل یقین کی دولت رکھتے ہیں اس لئے ان کا کلام اپنی اثر آفرینی میں ایک خاص مقام کا حامل ہے جس معاشرہ میں ہم سب زندہ ہیں اس کی بہت سی خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں مکر و فریب نے سچائی کی شکل اختیار کر لی ہے اور سچ کی بدلی ہوئی یہی شکل لوگوں میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جا رہی ہے۔ ماجد صدیقی کی ساری جنگ اسی مکر و فریب کے خلاف ہے جس کا اظہار اس کی شاعری میں جا بجا ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

میں کہ سادہ تھا ابھی کورے ورق جیسا ہوں 
ہاتھ آئی نہ کہیں صحبت چالاک مجھے
چاہتیں وقفِ غرض، نیتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا
غلامانِ غرض سے حال اس پونجی کا مت پوچھو
بسا رکھے ہیں ماتھوں میں نجانے آستاں آستاں کیا کیا
اپنوں ہی میں شائد کچھ بیگانے بھی تھے
کس جانب سے تیر چلا تھا یاد نہیں ہے
ماجد ہوں موج، مجھ میں تموّج ضرور ہے
حاشا کسی سے کوئی عداوت نہیں مجھے 

ماجد صدیقی کا تعلق گاؤں سے ہے اور شہر میں رہ کر بھی گاؤں والوں کے سارے اوصاف اب تک سنبھالے ہوئے ہے، وہ زندگی کی مشکلات کے سامنے نہ ہتھیار ڈالتا ہے نہ شکست قبول کرتا ہے۔ بلکہ وہ تو مشکل کے ہر کوہ گراں کے سامنے اپنے تئیں فرہاد سمجھتا ہے، ماجد ندرت الفاظ سے خوب واقف ہے وہ گاؤں سے شہر منتقل ہونے والوں میں تبدیلی دیکھ کر پکار اٹھتا ہے۔ 

رفتہ رفتہ پیار کا ابجد بھول گئے
شہر میں جو جو لوگ بھی آئے گاؤں کے

ماجد کی شاعری کا ایک حصہ خود کلامی پر مشتمل ہے وہ اپنی غزلوں میں جو الفاظ بار بار استعمال کرتے ہیں ان میں سے چند الفاظ ملاحظہ ہوں۔ 

اژدر، درِہجراں، شجر، شاخ، پتا، آشیانہ، قفس، جسم، آئینہ، گل، ثمر، حبس، کاغذ، خوشبو، رفعتیں، مانی و بہزاد۔ 

مفلسی و ناداری کی لعنت سے عید کے خوشی کے تہوار پر شاعر اپنی نصف بہتر سے الجھنے اور پھول سے معصوم بچوں کو سہما سہما رکھنے کے تجربے سے تو گزار ہے مگر اس کے باوجود اسے وہ چال نہیں سوجھی جس کی مدد سے شاہ پیادوں سے مر جائیں، ماجد کی نظروں سے اپنے عہد کی سفاکیوں کا یہ طرفہ تماشا بھی اوجھل نہیں کہ جس کے ظلم و ستم سے معصوم انسان محفوظ بھی نہیں مگر ظلم و تشدد کر کے بھی حق بجانب وہی ٹھہرتا ہے۔ 

ماجد ایک عجیب فقر و درویشی کی دولت سے مالا مال دکھائی دیتا ہے اس کا اعتراف ایک جگہ یوں کیا ہے۔ 

شاہی بھی قربان ہو اس پر

ماجد کو جو فقر ملا ہے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا
تمام عمر اسی آس پر بتا دی ہے
کوئی تیر چھوٹے کمان سے کوئی تیغ نکلے نیام سے
دل و جاں پہ کوئی تو وار ہو ترے شہر کے دروبام سے

دل درد مند رکھنے والا احساس شاعر اس ترقی یافتہ دور کے انسان کو دیکھ کر کبھی کبھی تڑپ اٹھتا ہے، اس دور منور میں شاعر کو انسان جس قدر خونخوار نظر آتا ہے وہ پہلے تو کبھی ایسا نہ تھا۔ اس دور میں وڈیو کے کھیل سے دادی اماں کو بہلانے والا بچہ بھی اس کی نظر میں ہے اور انسان کے اندر چھپا ہوا ابلیس بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں نہ کسی کی سنگدلی کا شکار صبح سے شام تک کشکول بنی بھولی بھالی بڑھیا اس کی آنکھ سے چھپ سکی نہ ان بچوں کی محرومیاں جن کا باپ روزی کمانے کئی سال پہلے بہت دور چلا گیا تھا۔ وہ مایوس نہیں ہوتا اور اپنے صدق دل پر یقین رکھتا ہے جس کا ذکر یوں کیا ہے۔ 

کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجد
یہ جو مو ہوم سی امید دلِ زار میں ہے

تشنہ آرزوؤں سے کم و بیش ہر شاعر کا واسطہ پڑتا ہے ماجد صدیقی کا معاملہ بھی جداگانہ نہیں وہ اپنی تشنہ حسرتوں کو بہ شکل غزل گنگناتے والا شاعر ہے، اس سے ماجد کی رومانویت میں ایک خاص قسم کا درد و سوز شامل ہوا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ 

نہ جانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چومتا ہے
بندھے ہوں پھول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وہ یوں رچا ہے
وہ نظر کہ جس سے تھے دل کو تجھ سے معاملے
ہے اجاڑ اب وہی راہ گزر ترے شہر میں
جب سے مہکا ہے تن بدن تیرا
کھلبلی سی ہے اک بہاروں میں
ماجد ہے کس کا فیض قرابت کہ ان دنوں 
پودے سبھی سخن کے ثمردار ہو گئے

مزدور کس طرح سرمایہ دار سے مات کھاتا آ رہا ہے، آجر اور مزدور کے درمیان کس نوع کا تعلق ہمارے معاشرہ میں پایا جاتا ہے اور مزدور یا ضرورت مند کی حیثیت کیا ہوتی ہے، کم ظرف اور نیچ کی ماتحتی میں نوکری کتنی بڑی لعنی بن جاتی ہے ان تلخ حقائقِ حیات پر ماجد صدیقی کے چند خوبصورت ملاحظہ کیجئے۔ 

آجر سوچے، دیکھ کے تن مزدوروں کے
کتنا سونا نکلے گا ان کانوں سے
دفعتاً جیسے خدا بن بیٹھا
دیکھ کر ہاتھ وہ پھیلا میرا
کیا کہیں کتنی اپھل ہے نوکری اس دور کی
آدمی اس سے تو دانے بھون کر بیچا کرے
اب اِس سے بڑھ کے ماجد اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
عبادت اور کی، قبلہ کہیں اور
عجب انداز نکلا بندگی کا
قادر مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نت اپنی تقدیر ہمیں
ماجد ہر کردار ہی جس کا شاطر ہے
جانے کیا عنوان ہو اس افسانے کا
اک نادر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد تیری بات

حادثات زندگی نے شعراء کو ہمیشہ اس قدر متاثر کیا کہ ی تو ان کی شاعری نے کوئی نیا رُخ اختیار کر لیا یا سوز و گداز کی آنچ ان کی شاعری میں یوں رچ بس گئی کہ اسے وہ شاعری سے جدا نہ کر سکے۔ ایسے ہی ایک حادثے سے ماجد صدیقی گزرے ہیں 8اکتوبر 1981ء میں ان کا فرزند ارجمند وامق منیر یاسر جس کی عمر صرف 14سال تھی ٹریفک کے ایک حادثے میں انہیں داغ مفارقت دے گیا۔ ایک شاعر جو دوسروں کے دکھ درد پر تڑپ اٹھتا ہے اور جس کا دل کسی اجنبی کے جواں بیٹے کی موت پر خون کے آنسو روتا ہے اپنے جگر گوشہ کی اچانک حادثاتی موت پر کیسے چپ رہ سکتا تھا ’’دو نیم تیرا بدن‘‘ کے عنوان سے ایک نوحہ طویل لکھا جو کتابی شکل میں شائع ہوا تھا۔ اس حادثے نے ایک طرف شاعر کے دل و دماغ پر رنج و غم کے ایسے نقوش ثبت کئے جو عمر بھر ساتھ دیں گے تو دوسری طرف ماجد صدیقی کی شاعری کو بھی متاثر کیا ہے اور 1981ء سے بعد کی شاعری میں درد و سوز کی گہرائی بھی بڑھ گئی ہے اور انسانی زندگی کی بے ثباتی کی حقیقت نے ماجد کے اندر کے انسان میں جو تبدیلی پیدا کی ہے اسے ماجد صدیقی کے ملنے والے آسانی سے محسوس کر سکتے ہیں۔ 

ایک زمانے میں ماجد صدیقی کو قحط الرجال کا گلہ بھی تھا کہ اس کی بات سمجھنے والا محرم راز کوئی نہیں ملتا تھا، اس کا اظہار اس نے اس طرح کیا۔ 

مرے خدا اس جہاں میں میرے لئے ہی قحط الرجال کیوں ہے
میری زباں کو سمجھنے والا نہ کوئی رمز آشنا ہو جیسے

مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب ماجد پر زندگی کی حقیقت کھلی تو اس کا یہ گلہ بھی جاتا رہا اسے پتہ چلا کہ اس جگ میں زندہ رہنے کی خاطر سینے میں دل کی جگہ ساگر رکھنا ضروری ہے۔ ۔ ۔ اور اب اسی ساگر میں غوطہ زن ہو کر ماجد صدیقی غزل کے خوبصورت اور نادر موتی نکال نکال کر لا رہا ہے جس سے اس کی اپنی دوکان چمکے نہ چمکے (اس لئے کہ اس دور میں دوکان چمکانے کے لئے اچھا ادب تخلیق کرنے کی ضرورت نہیں رہی مضبوط دائروں میں شمولیت ضروری قرار پائی ہے اور ماجد صدیقی غزل سرا میں بند غزل سرائی کرتا ہے) اردو شعر و سخن کی دوکان ضرور جگمگائے گی۔ 

Advertisements