رسول حمزہ کا قول ہے کہ آدمی کو صرف دو موقعوں پر گھٹنے ٹیکنے چاہئیں۔ ایک چشمے سے پانی پیتے وقت اور دوسرے پھول توڑنے کے لئے۔ ماجد صدیقی اس کے بالکل برعکس بلکہ متضاد ہے۔ سروقامت یہ شخص اگر گھٹنے ٹیکے تب بھی کھڑے انسان کے برابر قدر رکھتا ہے اس کے لئے گھٹنے ٹیکنا بے سود ہے کہ وہ یوں بھی پھولوں اور پانی تک نہیں پہنچتا۔ ہاں ایسے موقعوں پر وہ لیٹ جایا کرتا ہے کیونکہ اسے پھولوں سے محبت ہے اور وہ ان کے ہم قدم نہیں رہنا چاہتا لہذا اسے گھٹنے ٹیکنے نہیں آتے ۔ رہا چشمے سے پانی پینے کا سوال تو صحرا میں ایڑیاں رگڑنے والا ماجد تلووں سے پھوٹنے والے آب زم زم کے بغیر کہاں سیر ہوتا ہے اس کی ایڑیاں گھِس گئی ہیں تلوے تار تار ہو چکے ہیں ماں پانی کی تلاش میں سبیل کوثر تک پہنچ گئی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے مگر چشمہ نہیں پھوٹا، ظاہر ہے جہاں اس نے ایڑیاں رگڑیں وہاں یزید کی حکمرانی رہی ہو گی اور جانشیں شمر ہو گا سو ایسے حالات میں امیدِ آب بے معنی ہے ظالم سے رحم کی توقع عین کارِ گنا ہے ۔گزشتہ دہائی کے دوران وطن عزیز اسی عرصہ کرب و بلا میں مبتلا تھا اب کچھ دُھند چھٹی ہے پیاسا ماجد ابرِ مطیر کی امید لگائے اس صاحبِ زمین و زمانہ کی راہ دیکھتا ہے جس کی اوک سے دریا اذنِ روانی لیتا ہے جس کے لعاب سے قطرہ نیساں شرماتا ہے اور جس کا پسینہ اس کے چاہنے والوں کو اس کی سمت لے جاتا ہے۔ 

اُردو شاعری گزشتہ گیارہ برس میں اپنے مخصوص ہدف کی وجہ سے منزلیں مارتی کہاں سے کہاں آ گئی ہے نئے لہجے سامنے آئے مگر ہمہ گیر غزل گوئی اور شعر کی تہہ داری دونوں عنقا ہوئے۔ غزل بڑی کافر صنف ہے اولاً تو مزاج پر نہیں چڑھتی اور اگر طبع موزوں ہو تو ماجد کی غزل وجود میں آتی ہے ۔ فارسی سے اردو میں آنے والی اس صنفِ سخن میں موضوعات کے اعتبار سے کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں اس کی موجودہ وسعت سے کسے انکار ہے کہ دامانِ غزل تنگ نہیں ان گنت شعراء نے اسے اپنایا بعض نے تو اس کی ہیئت بدلنے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی حتیٰ کہ آزاد غزل کہی جانے لگی ہے کچھ حضرات نے اس کی پاک دامنی کو میلی نگاہ سے دیکھا مگر ماجد ایسے شعراء کی محنت کے سبب غزل ابھی تک کنواری ہے اور بےداغ بھی۔ میں نے تہہ داری کی بات کی تھی ہر دور میں چند شعراء ہی ایسے ہوتے ہیں جن کا شعر عمومی سطح سے اوپر اٹھتا ہے بقیہ کے کلام میں سطح زیریں یا گہرائی تلاش کرنا اولے میں گٹھلی چھلکا ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ ماجد صدیقی وہ شاعر ہے جس کا شعر اپنے اندر ایک سے زیادہ پرتیں رکھتا ہے اور ا سی ہر تہہ نئے نئے معانی و مفاہیم کو جنم دیتی ہے۔ 

ماجد کے فکری و تخلیقی سفر میں افکار اور اسالیب بین بین چلتے ہیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یہ ایک دوسرے سے طے شدہ مناظر و حوادث کے جہاں امین ہیں وہاں آنے والے کل کے کہر آمیز موڑوں کے خدشات کے امکان سے بھی بخوبی واقف ہیں اس کے یہاں فکر کی ڈالیوں پر بیٹھے الفاظ کے طائرانِ خوش الحان جہاں سیاسی جبریت غیر میزانی رویّوں اور حقائق کی عارضی پسپائی کے خوشہ چیں نظر آتے ہیں تو بعینہٖ وہیں سنگین صداقتوں میں رچی شعری موسیقیت کا بھی بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ ابہام سے پاک اظہار۔ بات کو خوش اسلوبی سے قاری تک منتقل کرنا ہمارے بیشتر شعراء کا مسئلہ رہا ہے میرے خیال میں اس کی وجہ مبہم علامت اور غیر وابستہ تلازمہ ہے قاری یا تو علامت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا یا وہ اس کی سمجھ سے کوئی آگے کی چیز ہوتی ہے نتیجہ یہ کہ نقاد اور قاری دونوں ابہام گوئی کا الزام شاعر کے سر تھوپ کر اپنا دامن بچا لیتے ہیں دراصل عام فہم علامت ہی شعر کی عمدہ ترسیل کا کام دیتی ہے اور سخن کی اٹھان میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ ماجد کی علامت نسبتاً آسان، واضح اور شعر کا مفہوم سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس نے محض الفاظ کی شعبدہ گری نہیں کی اور نہ ہی وہ دور کی کوڑی لایا ہے وہ استعاروں کے مہین پردے میں بات کرتا ہے جہاں ابلاغ دردِ سر نہیں رہتا۔ آج کے دور میں الفاظ کے متعین مفاہیم کس تیکھے اور نرالے انداز میں بولتے ہیں اس کی گواہی زیر نظر شعر سے بخوبی مل جاتی ہے۔ 

ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں 

نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے

عقاب کا بنیادی وصف اونچی پرواز اور دور بینی ہے مگر یہاں عقاب کا لفظ عصری شعور میں داغدار ہو کر منفی کردار کی علامت بن جاتا ہے اس کی پرواز دوسروں کے لئے استحصال اور دور بینی محض اپنی ذات کے گرد حصار کھینچ دینے پر منتج ہوتی ہے۔ 

وہ جب چاہے جیسا بھی چاہے ہو جائے

کس نے کس کی یوں ہوتی من مانی دیکھی

ماجد صدیقی کے ہاں احتجاجی رویوں کا سلسلہ خاصہ مزاحمتی، طویل اور عوامی شعور سے منسلک لسانی تشکیلات کے وسیع تناظر میں پھیلا ہوا ہے ساری جمہوری تاریخ اور اس کے خلاف ابھرنے والے ردّ عمل کو جب اپنی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے تو عوامی رویّوں کی ساخت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ممتاز انگریزی موسیقار ’’آٹو کلورائی‘‘ کہتا ہے کہ موسیقی سُن کر لطف اندوز ہونے والا شخص اگر اس کے فنی نکات سے آگاہ نہیں تو وہ اس سیاح کی مانند ہے جو چھٹیاں گزارنے کسی دوسرے ملک میں دورے پر جاتا ہے وہاں کے حسین مناظر سے لطف لیتا ہے وہاں کے باشندوں کی حرکات و سکنات دیکھتا ہے مگر ان کی زبان نہیں سمجھتا اور ان سے گفتگو نہیں کر سکتا۔ میرے خیال میں یہی حال شاعری کا ہے شاعر کو اپنے عہد کا نباض ہونا چاہئے یوں نہ ہو کہ وہ نیر و کی طرح لاتعلق بیٹھا رہے اور حالات کی آگ زور پکڑ لے، نیر و کا کردار تو غافل امیرِ شہر پر سجتا ہے، یہ کم از کم ایک شاعر کا وصف نہیں کہ آنکھوں کے سامنے ظلم اور جبر کی جیتی جاگتی تصویریں دیکھ کر ٹس سے مس نہ ہو، ہر مستقبل حال ہو کر ماضی ہو جاتا ہے شاعر جب مستقبل پر گرفت مضبوط رکھے تو پھر ازمنہ کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے اور شاعری ایک مخصوص مدت تک محدود نہیں رہتی غالب کی شاعری کی بڑی وجہ زمان و مکان کی قید سے آزادی ہے یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ماجد کی غزل ارتقا پذیر ہوتی ہے اس کے ہاں جبر کی نفی اور ستم سے درماندگی دکھائی دیتی ہے۔ 

کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید

سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے

یہاں سمندر سخاوت یا دریا دلی جیسے روایتی معنوں میں نہیں آیا بلکہ ظلم کا استعارہ جاگیرداری کا سمبل ہے سمندر سے مراد وہ مخصوص طبقہ بھی لیا جا سکتا ہے جو غریبوں کا استحصال کرتا ہے اور ان کی حق تلفی بھی۔ جھاگ اندر کا ارتعاش ہے جو ڈوبنے والے کمزور طبقے کے احتجاج کی صورت میں سطحِ آب پر ابھرتا ہے ۔ مزاحمت ہر دور میں شاعری کا اہم موضوع رہا ہے خواہ وہ یزید کی ہو یا فرعون کی، نمرود کی ہو یا شداد کی، حبس خواہوں کی ہو یا حبس پناہوں کی، شاعر کا فرضِ اوّلین ہے کہ وہ ظلم، جبر اور تشدد کے خلاف قلمی جہاد کرے خواہ اس کا انجام افریقی شاعر پنجمن ماؤزے ایسا ہی کیوں نہ ہو۔ ماجد صدیقی مزاحمتی ادب کا نام لے کر تمغے اور عہدے حاصل کرنے والوں کی فہرست میں نہیں آتا اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں کہ وہ اپنے کہے اور کئے دونوں سے پھر جائے ذرا جابر اور جبر کی مذمت کے حوالے سے چند شعر ملاحظہ کیجئے۔ 

نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا

بکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

وہ اپنے آپ کو کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا

فنا کا راستہ خود اس نے انتخاب کیا

شر سلیقے سے سجا، ایسا نہ رحل خیر پر

جیسی اب ہیں ظلم کی دلداریاں ایسی نہ تھیں 

جب کبھی ان سے اُجالوں کی ضمانت چاہی

کرگئے اور سیہ روز یہ افلاک مجھے

ناحلف لوگوں پر جب سے پھول برسائے گئے

شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اگنے لگیں 

وطنِ عزیز میں غیر ملکی مداخلت پر ایک شعر دیکھئے:

بھنک ملی ہے کہاں سے انہیں ضیافت کی

عجیب زاغ ہیں جو، بام و در پہ اترے ہیں 

اگرچہ شعر کے دوسرے مصرعے میں گنجائش موجود تھی کہ ’’ہیں جو‘‘ کی بجائے ’’مرے‘‘ کا لفظ درست بیٹھتا تھا اور بام و در کے ساتھ شاعر کا تعلق بھی واضح کرتا مگر پھر بھی ابلاغ میں دشواری نہیں ہوتی۔ 

دیکھ کر قصر میں کوٹھوں سی سیاست، خود کو

میں کہ پختہ تھا، عقیدے کا بہت خام لگا

زرد دوپہر تُندیٔ موسم اور ساکن سورج ماجد کے وہ استعارے ہیں جو مارشل لاء کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ شہیدِ جمہوریت اور قائدِ عوام کے لئے ایک شعر دیکھئے

سروں نے کھنچ کے بدن سے کہا بنام وطن

کوئی فراز نہیں ہے فرازِ دار کے بعد

مسلسل ناانصافیوں کا شکار ماجد ان لوگوں میں سے ہے جو زانی پر پہلا پتھر پھینکنے میں پیش پیش رہے یہ عین کار ثواب ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسا کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور پھر مارشل لائی حکومت یہ تعداد بھی مختلف طریقوں سے کم کر دیتی ہے ہمارے ناخداؤں اور رہنماؤں کی غلط سمت نمائی نے ہمیں برباد کر دیا ہے اور ہم معاشی اور اقتصادی دوڑ میں دوسری قوموں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ؎

کشتی اک ملاح کے رحم و کرم پر ہو

یہ بھی ہے اک، قہر خدا کے قہروں میں 

ریاست اور رعایا جب ایک دوسرے کے وجود کو قبول کر کے حقوق و فرائض کی مقدس دستاویز کو اپنے درمیان رکھ کر باہمی اعتماد کے سہارے آگے بڑھتے ہیں تو اکثر قوموں کی راہ میں ہر دور میں غیر جمہوری کوہ گراں ضرور آ کھڑا ہوتا ہے ایک دانا کا قول ہے کہ بُری ریاست کے شہری بھی بُرائیوں کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں چہ جائیکہ وہ خوفناک حد تک جاہل اور ظالمانہ حد تک مصلحت کوش نہ ہوں۔ ؎

یہ خلقِ شہر کو کس روگ نے علیل کیا

کہ ہر نظر میں کدورت ہے سو کنوں جیسی

جب زیست کا مقصد واضح نہ ہو عمومی اذہان مقامی محدودیت میں جکڑ دیئے جائیں تو مذکورہ بالا شعر کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ شعری وسیلے سے زمانی و مکانی وسعت کی کئی سمتوں کا تعین ہر فن پارے کا ایک بنیادی وصف قرار پاتا ہے ہر لمحہ ہر پل متغیر زندگی، اقدار، نفوس کے کردار ماجد صدیقی کے شعری پیکر میں ڈھل کر اپنے خدوخال نہ صرف واضح کرتے ہیں بلکہ سلسلہ در سلسلہ، تہہ در تہہ فکری سطحوں کو بھی سامنے لاتے ہیں سماجی انصاف، آزادیٔ اظہار، تحفظِ ذات اور تحصیلِ ذات جیسی تراکیب ہمیں زیادہ با معنی، فعال اور متحرک، دکھائی دینے لگتی ہیں یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اکثر نقادوں کے خیال میں لمحاتی تخلیقی عمل یا عصری شعور سے مزیّن فن پارے جو گھٹن جبر اور احتساب کے طرز عمل کے طور پر منصہ شہود میں آتے ہیں کم عمر ہی جیا کرتے ہیں اور جبر کے بادل چھٹتے ہی ان میں جذبوں کی حدت اور خیال کی شدت کم ہو جاتی ہے میرے خیال میں ایسا نہیں ممکن ہے کسی ایک خطۂ زمیں کی حد تک یہ بات کسی طور ’’شاید‘‘ درست ہو مگر جب ہم اپنی تخلیقات کا بنیادی موضوع انسان اور اس کے حقوق کو بناتے ہیں تو ہمارے اہداف صرف ایک قطعہ زمیں تک محدود نہیں رہتے پورے کرۂ ارض پر کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی روپ میں یہ جبر اور گھٹن کسی نہ کسی خطے کو دبوچے ضرور نظر آتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں کسی فنکار کا فن زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہونے کی سعی کرتا ہے اس کی تخلیقات دوسرے بطور حوالہ پیش کرتے ہیں سچائی کے لئے زہر کا پیالہ پینے والا، ہر دور، ہر معاشرے کے فنکاروں کے مسعی و بصری علم کا حوالہ رہا ہے اور بنا رہے گا۔ کرب کی بات تو یہ ہے کہ تیسری دُنیا کا جو مقدر بنا دیا گیا ہے اس کے اکثر ادباء و شعراء روز بہ روز ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں ان کی جدوجہد اور تجربات کے نتائج یکساں نوعیت کے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے آج کے ادب میں پبلو نرودا، محمود درویش اور نجیب محفوظ اجنبی نام نہیں رہے بات ذرا پھیل گئی ہے مگر شعری صداقتوں کے حصول کے لئے کچھ مخصوص زمانی و مکانی وسعتوں کی نشاندہی کرنا لازمی ہے ماجد کا شعر اسی تناظر میں معنی آفرینی کا نیا ذائقہ دیتا ہے ؎

زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے

خدا بھی دور ہی ہے دیکھتا ہے 

صید تخریب ہوا میں، تو ہوا عدل یہی

پرسش شاہ کا اعزاز مرے نام لگا

گو دوسرا شعر موضوع کے اعتبار سے نیا نہیں لیکن ماجد صدیقی نے اس کو اپنے انداز میں کہا ہے اور ایک سلیقگی واضح طور پر شاعری کی روایت پسندی کا پتہ دیتی ہے اس مضمون کو افتخار عارف نے جو آج کل لندن میں ہے اس طرح باندھا ہے ؎

اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا

اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

؎ ’’زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے‘‘ والے شعر میں، زندگی اور خدا کی تثلیث انسان کی بیگانگیٔ ذات کے حصول کا مظہر ہے یاسیت و بے بسی جس سادگی اور پرکاری سے عود کر آئی ہے انتہا درجہ کا بے ساختہ پن لئے ہوئے ہے کیا آپ حسین و مہین تتلیوں کے پروں کی صدا سے اٹھنے والی موسیقی سننا چاہتے ہیں ضرور سنئے۔ 

پہنچا ہے جو تتلی تتلی پھولوں تک

راحت کے سارے سامان اسی کے ہیں 

بوجھل تراکیب اور الفاظ کی گھمبیر تا سے آزاد ماجد کے شعر قاری کو ایک دم اپنی گرفت میں لیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ معصوم تتلیوں کا کردار الفاظ کی اوٹ میں چھپے خوفناک منظر کو دیکھتے اور، محسوس کرتے ہی ٹڈی دل کے زناٹے اور پروں کی آواز میں ڈھل جاتا ہے جو ہر چیز کو چاٹ کر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے لہجے کی روانی شاعر کا اہم حوالہ ہوا کرتی ہے ماجد صدیقی کا شعر پڑھ کے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پہاڑی چشمہ اپنے جلو میں جڑی بوٹیوں کی خوشبو لئے رواں دواں ہو ایک دو شعر ملاحظہ ہوں ؎

ژالے، سیل، بگولے، بارش شور مچاتی تند ہوا

لمبی ہے فہرست بڑی اس گلشن کے آزاروں کی

چیت چیت اک جیسی، کلفتوں کا ساماں ہے

خود بھی تنگ داماں ہوں، گھر بھی تنگ داماں ہے

محرومی کے اظہار کا ایک بالکل نیا انداز دیکھئے کہ شاعر کی پونجی تمنائیں اور خواب ہوا کرتے ہیں ڈوبنے والوں کو ڈوبتا دیکھ کر ساحل سے تماشا کر نا ماجد کے بس کا روگ نہیں۔ بقول سیف علی:

؎ نہ ہوا مجھ سے میں یہ کر نہ سکا

ہاں تو شعر سنئے:

؎ رسّیاں ان کے لئے جیسے فلک بھیجے کا

ہاتھ لہراتے رہے ڈوبنے والے کیا کیا

ماجد اپنے منصب اور حقوق کی پائمالی پر چپکا نہیں رہتا تب الفاظ کی ایک اور مالا چھنا کے سے ٹوٹتی ہے۔ 

مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجد کہ میں 

ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں 

حق طلبی کے شعور اور دوسروں کے ساتھ آزادی کے ہمہ گیر جذبے کی وجدانی کیفیت سے الگ کیسے رہا جاسکتا ہے یہ سفر اکائی سے بڑھ کر اجتماعیت کی جانب بڑھتا ہے اور لب و لہجے کا تیقن ایک نئے لہجے کو جنم دیتا ہے۔ 

کیوں سمت بڑھاتے ہو مری برف سے لمحے

موسم مرے جذبوں کے ٹھٹھرنے کا نہیں ہے

جبر کے خاتمے کا یقین کامل اور آزمائش میں ثابت قدمی کی مثال شاعر کے اس شعر سے بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ 

بہت دنوں میں کنارا، پھٹا ہے جوہڑ کا

زمیں نے خود ہی تعفن کا احتساب کیا

یا

کہیں وہ، تقاضا یہی ہے وفا کا

بدن تیغ کی دھار پر بھی نہ ڈولے

میں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ ماجد صدیقی کے فنی پہلو، اسلوب اور ندرت خیال کے خدوحال اُجاگر کروں تاکہ قارئین پر اس کے جوہر کھلیں کیونکہ میرے نزدیک قاری ہی سب سے بڑا نقاد اور رائے زن ہوتا ہے۔ 

مجھے یقین ہے کہ تیرگی اور ظلمت کی کوکھ سے آفتاب کی امید رکھنے والا ماجد اپنی غزل کو یونہی خون جگر دے کر پھیلاتا رہے گا کہ شاعر کا ہنر ارتقاء کی نئی منزلیں طے کرتا جاتا ہے جبھی بڑا ادب وجود میں آتا ہے۔

 

Advertisements